انتخابات 2020 لیڈر شپ کوالٹی سے ڈرنے کی ضرورت اخر کیوں؟

گلگت بلتستان کی یوتھ کو آنے والے انتخابات میں مسلک ،زات ، وفاق پرستی کو ووٹ دینے کی روایتی ریموٹ کو توڑ کر قابل اور ایماندار قومی سوچ اور اجتماعی نظر رکھنے والے افراد کو ووٹ دیں تاکہ آپکی پانچ سالہ بیعت احتصالی نظام کا سہلوت کاروں میں سے نہیں ہو، گلگت بلتستان تاریخ کے ایک عجیب اور خطرناک موڑ پر ہے جہاں ایک طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مجموعی چالیں ہمیں بے گھر اور ایک دوسرے کے دشمن بنانے میں طولی ہوئی ہیں تو دوسری طرف سیپک جیسے میگا پروجیکٹ کی وجہ سے ہم عالمی شطرنج کا میدان بند گئے ہیں جس میں ہر کھلاڑی اپنا مفاد کی گول کرنے میں مصروف ہے اور ہمیں ایندھن کی استعمال کرسکتے ہیں ۔۔تیسری اہم بات ہماری لیڈرشپ کوالٹی دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں انڈیا کوئی بڑی مشکل کھڑی نہ کریں جو کہ پاکستان جنگ کے نام پر مزید ہماری نسل کشی کے لیے استعمال کرسکتا ہے جسکی مثال کارگل سے آپ کے سکتے ہیں جہاں ہمیں کچھ نہ ملا ۔۔پاکستان کی کئی اقسام کی مچھلیاں گلگت بلتستان میں جمہوری نظام کو پھولنے پھلنے سے روکنے کے لیے روز اول سے کوشاں ہیں جوکہ آسلام اور مسلک کے نام پر ہم پر مسلط ہیں اور جو کسر رہ جاتی وہ وفاقی آلہ کاروں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے ۔۔۔یہاں پر اسٹبلشمنٹ نے بیوروکریسی سے عدالتی نظام تک سب کچھ اپنے تحفظ کے لیے اپنے لوگ رکھے ہیں ہمارے لوگوں کو تو خانہ پوری اور فائلوں کو کاور لگاننے کے لیے رکھا ہے تاکہ اکثریت نوکری کی ڈر اور انتقام لے خوف سے ساتھ دیتے رہے ۔۔۔یہاں کی زمینوں پر قبضے اور عوام کی بیدخلی کو اگر عالمی تناظر میں دیکھو تو گلگت بلتستان ایشیا کا فلسطین بنتا جارہا ہے ۔۔۔سالوں سے فلسطین کے نام پر سیاست کرنے والے ملا حضرات میں اسٹبلشمنٹ کے دسترخوان پر بیٹھے عوامی حقوق کا سودا کرکے محب وطن پاکستانی ہونے کا مہر لگاواکر اسٹیبلشمنٹ کی لحمو لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں۔۔۔اگر کوئی بندہ پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان اور ریاستی موقف گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے کو گلگت بلتستان میں دوہرائیں تو وہ دھرتی کا غدار اور انڈیا کا ایجینٹ قرار پاتا ہے ۔۔۔عجیب کھیل ہے جو بندہ وزارت خارجہ میں بیٹھ کر سفارتی بریفننگ دیتے ہو کہتا ہے گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو وہ مراعات کا حقدار اور ریاست کا ترجمان ہوتا ہے لیکن یہی بات اگر کوئی فری میں کہیں تو انڈیا کا ایجینٹ اور غدار قرار پاتا ہے اور اسٹبلشمنٹ کے دسترخوان کے مہمان ایک دم سے بھونکنے شروع ہوجاتے ہیں پاکستان کو پتہ ہے کشمیر کے لیے گلگت بلتستان کو استعمال کیسے کرنا ہے لیکن گلگت بلتستان کے مفادات کے غلام رہنما نما رہزنوں اور علماء نما عرب اور عجم کے پجاریوں کو دھرتی ماں کی حفاظت اور اہمیت کا اندازہ ستر سالوں سے نہی ہوسکا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کرکے آج محب وطنی کے سرٹیفکیٹس جمع کرنے والوں کی قبروں کو آنے والی نسلیں سزائے موت دینگی۔۔۔ہم حضرت موسیٰ کو بچانے کے لیے نکلنے والی چیڑیا کی مانند اپنی زمہ داری نبھانے کو اپنا انسانی شرعی اور اخلاقی و معاشرتی زمہ داری سمجھتے ہیں مولا علی علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السّلام سے جو درس لینا چاہیے اسکی طرف توجہ کسی کی بھی نہی کرںلا کو ملا اور اسکے حواریوں نے ایک دوکان بنایا ہے جہاں اسٹبلشمنٹ کی فیکٹری میں تیار کردہ سامان مہنگے داموں پر مذہبی تڑکا لگا کر بھیجی جاتی ہے۔۔اللہ ہم سب کو علم کر در علی علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام اور کربلا انسانیت شناسی اور معاشرت سازی کی درسگاہ سے سیکھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے آمین ۔۔۔۔۔

 

 

تحریر: پروفیسر علی شفا،

سابق امیدوارممبر صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc