سیرت علی ابن ابوطالب علیہ السلام

علی ابن ابو طالب ؑ بعد نبی اکرم حضرت محمد ﷺ دنیا کی افضل ترین ہستی ہیں۔آپ کی فضلیت کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ آپ کا اسم مبارک حکم خدا سے خود جناب رسالت مآب ﷺ نے رکھا۔آپ نے دنیا میں سب سے پہلے جس عظیم و نورانی چہرے کا دیدار کیا وہ نو رانی چہرہ مبارک رحمت العالمین ﷺ کا تھا۔آپ کی فضیلت اسی میں ہے کہ آپ رسول اکرم کے داماد ہیں،شہزادی کونین کا انتخاب خدا نے آپ کے لیے کیا،وہ شہزاد ی،فرشتے آپ کی شان میں مدح کرتے ہیں،جبرئیل آپ کے در میں آتے ہیں اور اسرافیل آپ کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت طلب کرتے ہیں۔شان علی ؑ،فضائل علی کا بیان کسی کے بس میں نہیں،علی ؑ فضائل وکرامات ومعجزات کا مجموعہ ہیں۔آپ نے اُس کمسنی میں رسول اکرم کا ساتھ دیا جب مدینہ میں رسول کا کوئی ساتھی وجانثار نہیں تھا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فضائل علی کو مٹانے کی ہر توڑ کوشش کی گئی،ممبر ومحراب سے علی کی دشمنی کو عام کیا گیا،مگرپھر بھی علی ؑ کے فضائل کاپرچار سرعام ہوگیا،دنیا میں علی ؑ ابن ابو طالب سے جس قدر دشمنی اختیار کی گئی تاریخ میں کسی دوسرے کے ساتھ ایسی دشمنی نہیں ملتی۔علی ؑ کے فضائل اور ذکر علی ایمان میں پختگی کا باعث ہیں،ذکر علی اور زیارت علی ؑ عین عبادت ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں۔ “حضرت ابوبکرؓ بڑی کثرت کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے چہرے کو دیکھتے رہتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓنے ان سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے”
(الصواعق المحرقہ، 177)
اسی طرح ایک اور روایت ہے:”حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت علی ؑ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے” المستدرک للحاکم، 3: 141 -,142 المعجم الکبیر للطبرانی، 10: 77، ح، 32895،فردوس الاخبار للدیلمی، 5: 42، ح:,1717 کنز العمال، 11: 60، ح:,32895 مجمع الزوائد، 9: 111، 119
ایک اور حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:”اے علی تجھ سے محبت وہی کرے گا جس کی ولادت طاہر ہو گی اور بغض اور دشمنی وہی رکھے گا جس کی ولاد ت ناپاک ہو گی۔”(ینابیع المودۃ باب،44جلد 1صفحہ397)
علی کی شان اور فضائل آج ممبر ومحراب سے بکثرت بیان کیے جاتے ہیں،علی کا ذکر عبادت ہے یقینابیان کیے جانے چاہیے،کمالات علی ابن ابو طالب کے ساتھ موجود ہ دنیا کو، معاشرے کو سیرت علی ابن ابو طالب ؑ کی اشد ضرورت ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سیرت علی ؑ سے آشنا نہیں ہیں اور سیرت علی ؑ پر عمل کرتے ہوئے بہت کم دیکھائی دیتے ہیں۔سیرت علی ؑ میں زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبہ حیات کے رہنما اصول موجود ہیں،ایک شہری کی حیثیت سے علی ؑ کی سیرت کیا تھی،علی ؑ نے اپنی زندگی کیسی گزاری،ظاہری خلافت اور حکومت آپ ؑ نے کیسے انجام دی،علی ؑ کی عدالت کے اصول کیا تھے،علی ؑہمسائیوں کے حقوق کا کس درجہ خیال رکھتے تھے،علی ؑ کو یتیموں،مسکینوں اور محتاجوں سے کس قدر پیارتھا،رات کو خلیفہ وقت اپنے پیٹھ میں لاد کر روٹی یتیموں اور مسکینوں وضرورت مندوں تک پہنچا دیتے تھے،18رمضان کی افطار کے لیے امام اول ؑ ام کلثوم کے ہاں تھے،بیٹی نے باپ کے لیے تین چیزیں افطار کے دسترخواں میں سجائی،امام علی ؑ بیٹی سے مخاطب ہوئے بیٹی کلثوم آپ کے بابا نے کبھی تین چیزوں سے افطار نہیں کیا ایسا کرو ان میں سے ایک چیز اٹھالو،جناب کلثوم نے نمک دسترخوان سے ہٹایا تو علی ؑ نے فرمایا بیٹی کلثوم نمک رہنے دیجے دودھ کو دسترخوان پر سے اٹھایے۔ یوں علی ابن ابی طالب ؑ نے آخری افطارنمک اور روٹی سے فرمایا،حضرت علی ؑ جانتے تھے کعبہ سے شروع ہونے والا یہ سفر ظاہری طور پرآج نماز فجر کے وقت محراب مسجد کوفہ میں اب اختتام کے قریب ہے،علی ؑ کی تمنا اب پوری ہونے والی ہے۔ رسول اکرم وشہزادی کونین علی ؑ کے منتظر ہیں،بس سجدے کی حالت میں جب آپ کے سر اقدس پر ضرب لگی تو آپ نے یہی فرمایا”رب کعبہ کی قسم میں علی کامیاب ہوگیا ” علی ؑ کے زخمی ہونے سے شہادت تک کی خبر کوفہ کی گلی وکوچوں میں پھیل گئی،یہاں اس بات پر غور کیا جائے علی ؑکے زخمی ہونے کی اطلاع کوفہ والوں کو کس نے دی،مسجدو محراب سے اعلان نہیں ہوا،نہ ہی گلی محلوں میں اعلانات ہوئے کہ اے لوگوں مشکل کشا ء علی المر تضیٰ زخمی ہوئے ہیں،شہید ہوئے ہیں،بلکہ خبر غم خود کوفہ کی گلیوں،گھروں سے آنے لگی،کوفہ کے یتیم،مساکین،غربا ء،فقیر،گھروں اور گلیوں میں آکر رونے لگے،بچے تڑپنے لگے کہ وہ ہستی آج دو،تین دنوں سے ہمیں کھا نہ،دودھ نہیں لارہی ہے،ہم بھوکے ہیں،کبھی رات کو ہم بھوکے نہیں سوئے تھے آج وہ ہستی نہیں،شائد کوئی حادثہ ہوا ہوگا۔علی ؑ رات کی تاریکیوں میں کوفہ کی گلی و محلوں میں کھانہ لے جاتے اور دروازے پر دستک دیتے اور چلے جاتے،مساکین و غرباء کو خبر تک نہ ہوتی کہ کون ہے۔جو کھانہ رکھ کرچلے جاتے ہیں،بس انہیں اتنا معلوم تھا کہ جوں ہی دروازے پر دستک ہوتی کھانہ پہنچنے کی اطلاع ان تک پہنچ جاتی،اور وہ دہلیز پر سے کھانہ اٹھا لیتے،یتیم بچوں کو علی ؑ اپنے ہی ہاتھوں سے کھانہ کھلایا کرتے تھے،آج سب درودیوار سے لگ کر منتظر ہیں،تین دنوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں،کوفہ کے یہ باسی خود بھی ڈونڈھنے سے قاصر تھے کہ کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کون ان تک کھانہ پہنچا رہا تھا۔افسوس آج مسجد ومحراب،ممبر سے یہ مقصد پورا نہیں ہورہا۔آج مقصد علی ؑ،مقصد ولایت وامامت سے آج کے ممبر محروم کردیے ہیں،مگر ہمیں احساس تک نہیں،آج دنیا کو علی ؑ کی سیرت کی ضرورت ہے،اس پر عمل کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں امن قائم ہو،انصاف کا بول بالا ہوگا۔آپ کا فرما ن مبارک ہے
”خدا کی قسم! اگر مجھے ایسا مال کہیں بھی نظر آیا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صَرف کیا جا چکا ہو گا تو میں اُسے واپس پلٹاؤں گا کیونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے۔“؛ (نہج البلاغہ، سید رضی، ترجمہ: محمد دشتی، خطبہ نمبر۱۵، ص۴۶)،کرونا کے ا س دردناک وقت میں لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھیں،یہی سیرت علی ؑ ہے۔ علی ؑ کے سامنے دنیا کی حیثیت یہ تھی آپ نے فرمایا”تمہاری دنیا میرے نزدیک بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتناء ہے۔“؛ (نہج البلاغہ، سید رضی، ترجمہ: محمد دشتی، خطبہ نمبر۳، ص۴۸)
علی ؑ کی حکمت روئے پر بہترین حکومت تھی جہاں ہرا یک کو اس کا حق ملتا تھا،آپؑ کا فرمان ہے۔
”تمہارا حق مجھ پر ہے کہ میں تمہاری خیرخواہی پیشِ نظر رکھوں اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصّہ دوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو اور اِس طرح تمہیں ادب کروں تاکہ تم سیکھنے لگ جاؤ۔“؛ (نہج البلاغہ، سید رضی، ترجمہ: محمد دشتی، خطبہ نمبر۳۴، ص۸۶)
ایک اورمقام پر آپ کا فرمان ہے کہ ”ظالم کی شکم پُری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں گے۔“؛ (نہج البلاغہ، سید رضی، ترجمہ: محمد دشتی، خطبہ نمبر۳، ص۳۸)۔کاش آج مسجدومحراب سے سیرت علی ؑ او رنظام ِحکومتِ علی ؑ بیان کیا جاتا اور مسلمان علماء،اسکالرز مفکرز طرز حکمرانی کے لیے یورپی کھوکھلے پن والے نظام کی جگہ نظام حکومت علی ابن ابوطالب پر ریسرچ کرکے رائج کرتے توآج دنیا اسلام کی ریاستیں بہترین معاشی،اقتصادی،معاشرتی،انتظا میہ ،بہبودی اور عدالتی نظام کے ساتھ طاقتور ترین ریاستیں ہوتی۔خدا ہم سب کو ذکر علی ؑ کے ساتھ سیرت علی ؑ پر عمل کی توفیق عنایت کرے،آمین

تحریر:عبدالحسین آزاد

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc