کرونا وائرس حیاتیاتی حملہ

کرونا وائرس کے پھیلتے ہی دنیا بھر میں خوف و ڈر کا سماع پھیلنے لگا. یہ وائرس دنیا بھر میں لاکھوں جانیں نگل چکا ہے. اس وائرس کی شروعات چانئہ کے شہر ووہان سے ہوئی اور اسی کے ساتھ ہی ووہان میں اس وائرس نے زندگی کا سارا نظام درہم برھم کر دیا.اور آہستہ آہستہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. اسی کے ساتھ ساتھ سازش باز نظریات سامنے آنے لگے ہیں ، ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ وائرس چین کا ہی بنایا ہوا ہے دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ وائرس امریکہ کا بنایا ہوا ہے. امریکہ کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس چین نے امریکہ کی معیشت تباہ کرنے کے لئے بنایا اور یہی رد عمل چین کا بھی ہے. یہ محض نظریات ہیں ان کی سچائی جاننے کے لئے مزید حقائق کی ضرورت ہے. یہ حقیقت ہے کہ حیاتیاتی ہتھیار شروعات سے انسانوں کو مارنے کے لئے استعمال کیا جاتا آ رہا ہے.

ایسے بہت سارے واقعات ہیں جن میں حیاتیاتی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور یہ ایسا پرانا عمل ہے جو کہ صدیوں سے جاری ہے. اس کا آغاز 400 BC میں ہوا، اس صدی میں سئتھن تیراندازوں نے تیروں کو سڑے ہوئے لاشوں اور سڑے ہوئے خون میں ڈبو کر استعمال کرنا شروع کیا.اور یہی سے ہی بائیو ویپن کی شروعات ہوئی. جب بحری جنگ ایرےمیڈن ہوئی تو حنیبل نے ایومنس کو شکست دی، جس میں حنیبل نے ایومنس کی کشتی میں زہریلے سانپ پھینکے تھے. اور اسی طرح چودھویں عیسوی میں کافہ کے محاصرے پر حملہ ور تاتر نے متاثرہ لاشیں شہر میں پھینکا دی تا کہ شہر میں وبا پھیلے اور اس کے دشمن کو شکست ہو .

حیاتیاتی جنگ انیسویں صدی میں اپنے عروج پر تھی جو کہ جدید اور زیادہ جان لیوا تھی. جنگ عظیم اول میں جرمن فوج نے اینتھریکس، گلینڈر، کولیرا اور ویٹ فنگس بنایا اور روس اور فرانس میں استعمال کیا. جس میں درجنوں انسان حلاق کر دیئے گئے. حیاتیاتی اسلحہ کی بندش کے لئے 1925 میں جنیوا پروٹوکول کے تحت ایک سوآٹھ ممالک میں یہ معاہدہ طے پایا کہ وہ آنے والے دنوں میں حیاتیاتی اسلحہ کا استعمال نہیں کریں گے. لیکن اس معاہدے میں کوئی طریقہ کار شامل نہ تھا جس سے حیاتیاتی جنگ کو روکا جاسکے. اس لئے جنگ عظیم دوم میں جاپان نے انسانوں پر پھر سے تجربات شروع کئے اور انہیں تجرباتکی وجہ سے بہت درجنوں افراد اس وبا کا شکار بنے.

 

تاریخ میں اس طرح کے بہت سارے واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے بے انتہا لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں ہیں. اگر ہم حیاتیاتی جنگ لڑنا بند نہ کریں تو ساری دنیا کو ناگاساکی اور ہیروشیما بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے.

 

اگر ہم حیاتیاتی ہتھیار بنانا بند نہ کریں تو جن پر استعمال کریں ان کو نقصان ہوگا ہی ساتھ ہی اپنا بھی نقصان ہو گا. اگر حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں تھوڑی سی بھی لاپروائی ہوئی تو کروڑوں بے گناہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھینگے. ایسا ہی ایک واقعہ 1979 میں روس میں رونما ہوا جہاں حادثاتی طور پر ہتھیار بنانے والے کارخانے سے انتھریکس رلیز ہوا نتیجتاً 66 لوگ مر گئے. اس وقت روس کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ لوگ خراب گوشت کھانے کی وجہ سے مرے ہیں. جب 1992 میں صدر بورس آئے تو انھوں نے یہ حادثہ قبول کیا اورکہا کہ یہ حادثاتی طور پر انتھریکس کی رلیز سے ہوا ہے.

 

آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس حیاتیاتی حملہ ہو نہ ہو، ہمیں سب مل کر حیاتیاتی ہتھیار کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ یہ صرف ہمارے جینے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہماری آنے والے نسلوں کے لئے بھی مسئلہ بن سکتا ہے. یہ وائرس چاہے جس نے بھی بنایا ہو یا پھر قدرتی ہو ہمیں اس کے خلاف مل کے لڑنا ہے اور دنیا کو بچانہ ہے.

 

تحریر؛ وقاص یونس

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc