سکردو شہر سے بارود کی برآمدگی۔ اہل بلتستان کی خاموشی۔ آمن پسندی یا بزدلی؟ تحریر: وزیر نعمان علی

اے اہل بلتستان ۔ اے شریف و امن پسند لوگوں۔ صدیوں سے آمن پسندی کا دامن تھامے رہنے والے عظیم قوم کے فرزندو۔ علی شیر انچن کی بہادر زمین کے باسیوں۔ آپکی آمن پسندی پر ہم بھی نازاں تھے۔ لیکن اب یہ آپکی آمن پسندی پر ہم جیسے لوگوں کے سوالات آٹھ رہے ہیں۔
آپکی امن پسندی۔ شترمرغ کیطرح آنے والے طوفان سے جان چھڑانے کے لئے خاموشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ علیشان محلات اور لگزژری گاڈیوں کے حصول کے لئے آپنی زمینوں کو نیلام کرنے کے دھندے میں مدہوش ہو۔
آپ کو علم نہیں کی آپکی دھرتی میں کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے جارہا ہے۔ آپکے ممبران اسمبلی۔ اہل علم و دانش طبقہ۔ عالم و شیوخ و مولوی حضرات کیا آپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں۔ کیا عوام بلتستان آپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ اکثریت خواب غفلت میں سورہے ہیں۔ باقی مصلحتوں کا شکار ہیں۔ سیاست بعد میں ہوگی آپنی زمین اور آپنا آمن پہلے بچاؤ۔ ورنہ ہاتھ ملتے رہ جاؤگے۔
صوبائی حکومت بیوروکریسی۔ وفاقی وزیر داخلہ اور آئی ایس۔پی۔آر نے پرامن ضلع غذر سے چند چڑیا مار رائفل برامد کرکے آسمان سر پر آٹھایا تھا۔ آج بلتستان سے گولہ بارود برآمد ہونے کے بعد انکو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ صوبائی حکومت۔ بلتی ممبران اسمبلی۔ وفاقی وزارت داخلہ۔ صوبائی سکریٹری داخلہ خاموشی اختیار کیے ہوئے کیوں ہیں۔ کیا بلتستان میں کھلونوں کے دکان کھولنے کا پرمٹ انہی مذکورہ حکام بالا نے دی ہوئی ہے۔
اہل بلتستان آپنی زبانیں بند رکھ کر شیڈول فور کی لسٹ پر آپنے لوگوں کے شامل نہ ہونے پر نازاں ہو۔۔ ایسی خاموشی سے موت بہتر ہے۔ ایسی آزادی سے جیل اور شیڈول فور کے شکنجے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ ایسے نمائندوں سے کوٹھے کے منشی کم از کم آچھے تو ہیں۔ جو ضمیر بیچتے ہیں۔ لیکن قوموں کا سودا تو نہیں کرتے۔
آٹھو ۔ جاگو۔
اے شریف لوگوں۔
آے کریم و مہمان نواز لوگوں۔
علی شیر انچن کی روح آپکی خاموشی پر ماتم کناں ہے۔
آٹھو۔ جاگو۔ سکردو روڈ اور دیگر مفادات کے لئے آپ منظم جنگ تو لڑتے ہو۔ لیکن آپنی بقا اور آمن کے لئے آپکی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔
کُوفہ مزاج لوگوں کی بُہتات ہے یہاں
اس شہرِ نامراد سے خیمے سمیٹ لو

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc