سکردو پولیس پنچاب پولیس کے نقش قدم پر چلنے لگا ایک اور نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا

سکردو(پ،ر) سکردو پولیس کا آج صبح فرگوسن آڈٹ فرم اسلام آباد میں کام کرنے والے نوجوان سوشل ورکر سید جلال عباس کاظمی پرڈی ایچ کیو ہسپتال سکردو کے اندر اندھا دھند تشدد کیا گیا زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ۔سید جلال عباس کسی عزیز کے ہسپتال میں انتقال کی وجہ سے ہسپتال پہنچا۔ سکردو ہسپتال کی پارکنگ ایریا میں گاڑی پارک کی تھی کہ پولیس کا ایک بدتمیز اہکار نے بدتمیزی کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں گاڑی پارک کرنا منع ہے یہاں سے دفع ہو جاو۔ سید جلال عباس نے کہا ٹھیک ہے، لیکن میں ایک عزت دار شہری ہوں لہذا آرام سے بات کرنے پر بھی میں سمجھ جاونگا۔ یہ کہہ کر آغا جلال گاڑی میں بیٹھ گیا تاکہ گاڑی باہر لے جا سکیں۔ جبکہ اسی دوران ایک اور پنجاب پولیس کے نقش قدم پر چلنے والا بدتمیز پولیس اہلکار نے آکر سید جلال کو گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی کی چابی لے لی۔ اور دوسرے پولیس اہلکار نے تشدد کر دی ۔ اس کے بعد ہسپتال چوکی کے تمام پولیس اہلکار نے آکر سید جلال پر مارا پولیس اہلکاروں کی مکاری کا یہ عالم کہ انہوں نے سید کو ہسپتال چوکی لے جاکر سب نے اپنی پولیس وردیوں کے بٹن توڑ دیئے اور Badges اتار دیئے کہ کمرے کے باہر کے تماشائیوں کو یہ ظاہر کریں کہ سید جلال نے پولیس پر تشدد کی ہیں حالانکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک لڑکا پورے چوکی کے عملے کو مارے۔ تشدد کی ویڈیو بھی موجود ہے اور بڑی تعداد میں گواہان بھی ہیں۔ پولیس گردی کے اس بدترین تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں موجود عملے کو سب پہلے ایک شہری کے ساتھ کس انداز میں بات کرتے ہیں اس کا درس دینے کی ضرورت ہے ورنہ یہاں کے پولیس اہلکاروں کا عوام میں جو مقام ہے وہ بھی کھو جائے گا اور پولیس اہلکار سکردو شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی لگا کر شہریوں کو تنگ کرنے کا بھی سلسلہ کئی عرصے سے جاری ہے اور گاڑیوں کو چلان کرکے نقد پیسہ وصول کیا جاتا ہے سول سوسائٹی نے وزیر اعلیٰ چیف سیکرٹری ائی جی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سکردو پولیس عام شہریوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس حوالے سے نوٹس لیا جائے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc