گلگت بلتستان کےموسم کا حال بتانا اور کوئی بات کرنا بھارت کو حق ہی نہیں پہنچتا ہے۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق

چلاس( پ۔ر) ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی بوکھلاہٹ اب اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی درو دیوار مظلوم کشمیریوں کے خون سے آلودہ ہیں۔ انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ دنیا تو کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون میں چلی گئی ہے مگر مقبوضہ کشمیر میں 6 اگست 2019 سے بھارتی حکومت کا سنگین لاک ڈاون ہے۔ یہ لاک ڈاون کشمیریوں کی آواز دبا کر انہیں ان کی حق خود ارادیت سے دور رکھنے کی کوشش ہے۔ عالمی دنیا کشمیریوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش ہے۔ عالمی برادری مسلہ کشمیر کو دو ممالک کا مسلہ سمجھتی جو کہ ناانصافی ہے حالانکہ ظلم و بربریت کا تو کوئی فریق ہی نہیں ہوتا اور کشمیر پر تو بھارت بدترین ظلم کے تجربے کر رہا ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کشمیر کے لالہ زاروں کی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور نریندر مودی کے 6 اگست کئ غیر قانونی اقدام کو منسوخ کرانے پر زور دیتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے۔ بھارت کی دلچسپی گلگت بلتستان تک بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ گلگت بلتستان کےموسم کا حال بتانا اور گلگت بلتستان پر کوئی بات کرنا بھارت کو حق ہی نہیں پہنچتا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ نے تہتر برس قبل مودی کی نسل کو گلگت سے بھگایا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کا ایک ایک جوان ملک کے دفاع کا ہر اول دستہ ثابت ہوگا۔ بھارت کو غلط فہمی ہے، گلگت بلتستان کے لوگ نظریاتی پاکستانی ہیں اور اس خطے میں سب سے برا لفظ “بھارت” ہے۔ یہاں کے لوگ بھارت کا نام تک سننے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے 1965 کی جنگ سے لیکر کرگل تک مودی کی نسل کو سبق سکھایا ہے۔ بھارت کے خلاف لڑتے ہو مرنے کو یہاں فخر سمجھا جاتا ہے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc