گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت عروج پر مگر حکومت کی جانب سے سرائبر کرائم کا سارا غصہ حقوق کی بات کرنے والوں اُتارا جارہا ہے۔

گلگت( تحریر نیوز) گلگت بلتستان میں سائبر کرائم کے واقعات آئے روز عروج ہو رہا ہے لیکن ذمہ دار اداے اس حوالے سے بلکل ہی ناکام نظرآتا ہے بلکہ سارا نزلہ مکمل شناخت کے ساتھ قانونی اور آئینی طریقے سے گلگت بلتستان کے قومی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والوں پر گرایا جارہا ہے ، حکومت کو چاہئے کہ جعلی فیس بک اکاونٹس تک رسائی کیلئے کوشش کریں بر وقت ان پر کنٹرول نہ ہوا تو سوشل میڈیا کے ذریعے گلگت بلتستان بھر میں حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ خلیجی ممالک میں تعلیم زیر تعلیم کچھ لوگ گلگت بلتستان میں بین المسالک ہم آہنگی سے پریشان دکھائی دیتا ہے اس حوالے سے کئی مذہبی اور سیاسی جماعت کے رہنما سوشل میڈیا کے ذریعے خدشات کا اظہار کرچُکے ہیں۔ یہ لوگ مختلف فیس بُک پیجز اور جعلی اکاونٹ کے ذریعے کوئی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، گزشتہ مہینے گانچھے میں پولیس افیسر اور عورت کا جو مسلہ پیش آیا اور گزشتہ دنوں سکردو میں جو مقبرہ گرانے کا واقعہ پیش آیا اسے فرقہ واریت کیلئے کیش کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ اسی طرح ایسے افراد کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے جو صحافت کرتے ہیں ،سرکاری محکموں میں درتدریس کا کام کرتے ہیں لیکن جعلی فیس بُک اکاونٹس سے مخالف فرقوں کے خلاف مسلسل پروپگنڈوں میں مصروف ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان میں بین المسالک ہم آہنگی کی جو ایک بہترین فضاء قائم ہوئی ہے اس قائم رکھنے کیلئے ایسے افراد کا قلع قمع کریں۔ کیونکہ امن کسی بھی خطے کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی انتشار پھیلانے والوں کا قلع قمع کرنا گلگت بلتستان اور سب سے بڑھ کر سی پیک کی ضرورت ہے کیونکہ سی پیک کے حوالے سے اس وقت دنیا کی نظریں گلگت بلتستان پر جمی ہوئی ہے اور پاکستان دشمن قوتیں کسی بھی طرح گلگت بلتستان میں مذہبی فسادات کرانے کے درپے ہیں۔ لہذا وہ تمام لوگ جنکا تعلق چاہئے صحافت سے ہو یا مذہبی تعلیم یا دنیاوی تعلیم سے لیکن یہ کام دین اور دنیا کے نام پر جعلی ناموں کے ساتھ کر رہا ہے وہ گلگت بلتستان کے مفاد میں ہے نہ اسلام اس بات کی اجازت دیتی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ مذہبی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف بلاکسی تفریق کے کاروائی کریں اور گلگت بلتستان دشمن عناصر و کیفر کردار تک پہنچائیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc