ایکنک اجلاس۔کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

ملک کا میگا منصوبہ دیامر بھاشہ ڈیم کی تعمیر ملک کا نومولود گورننس آرڈر 2009 کے تحت چلایا جانے والا لنگھڑا سیٹ اپ گلگت بلتستان کے مضافاتی ضلع دیامر کے دریاۓ سندھ اور بھاشہ کے درمیان تعمیر کیاجارہا ہے اس ڈیم کے تعمیر سے 4.500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہوگی جس سے ملک بجلی کے بحران اور آبی قلت سے نکل جائیگا .
یہاں کے لوگوں نے ملکی سالمیت ۔بقاء ۔استحکام ۔احترام اور وقار کے خاطر اپنے آباء و اجداد تک کے قبریں قربان کیا اور قیمتی اراضیات کو واپڈا نے اونے پونے میں ہتھیاکر ابتدائی تمام تر معاہدات سے مکمل روگردانی کی اس ڈیم کے تعمیر کا کھوکھلا نعرہ لگانے والا واپڈا 2008 سے تادم تحریر عوام کو باہم دست و گریباں ۔قبائلی تصادم کو فروغ ۔کرپشن۔اقرباء پروری۔ کے نت نئے طریقے۔۔ ٹوٹکے ا۔ور تجربےکرنے میں کامیاب ہوا ۔اس کامیابی کے پیچھے ہر آنے والا ڈی سی کی بھی واپڈا کو مکمل آشیرواد رہی انتظامیہ کے اعلی حکام اور واپڈا کے اعلی حکام بظاہر مخالف اور اندرون خانہ مکمل گٹھ جوڑ کرتے ہوۓ دوستانہ چال چلل کر عوام واپڈا اور انتظامیہ کے درمیان فٹبال بنتے رہے ۔
۔اس حقیقت سے بھی نظریں چرانا ممکن نہیں ہیکہ جہاں عوام کی بے مثال قربانیاں اس منصوبے کے لئے ہیں وہاں انتظامیہ میں چھپے کچھ گمنام آفیسرز بھی ہیں جنکا نہ تو عوامی حلقوں میں تبصرہ ہے اور نہ ہی میڈیا میں چرچہ۔اور نہ ہی متاثرین کے طرف سے حوصلہ افزائی ۔۔البتہ انکا نام دیامر ڈیم کے متاثرین کے پیمنٹ سے لیکر چولہوں کے اندراج تک کے تمام دستاویزی عملی کاروائی میں ہر صفحے پر انکا نام اور دستخط ضرور نمایاں نظرآئیگی وہ گمنام آفیسر شریف الطبع اور دینی جذبے سے سرشار اسوقت کے اے سی اور موجودہ اے ڈی سی بلال حسن ہے اگر صوبائی حکومت کے اعلی حکام ۔۔چیف سیکریٹری ۔اور ملکی تحفظ کا ضامن عوامی مسیحا فورس کمانڈر ایسے آفیسران کی حوصلہ افزائی کرتے ہوۓ اگلے عہدے کی زمہ داری سونپ دے تو یقیننا انتہائی بردباری تحمل اور شفافیت کے ساتھ ڈیم کے آنے والے مسائل کو پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔اور جی ایم واپڈا عامر بشیر چوہدری کے ساتھ عوام علاقہ تعاون کریں تو دیامر کو بہت جلد تعمیر و ترقی کے راہ پر گامزن کرسکتا ہے ۔۔ بالفرض والمحال صوبائی حکومت نے الیکشن کے قربت کے باعث کوئی ایسی پالیسی مرتب کی ہے جس سے بدامنی اور انتشتار پھیلے ۔تو پھر مقامی ڈی سی کی تعیناتی عمل میں لاۓ جو چلے تو چاند تک ۔اور نہ چلے تو شام تک۔۔۔
چونکہ دیامر انتہائی حساس ۔دفاعی ۔جغرافیائی ۔معاشی اور مذہبی ہر اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اسلئے اس ضلعے کو جی بی کا گیٹ وے اور پاکستان کا سر بھی کہا جاتا ہے اور ایسے اہم علاقے میں ملکی سطح پر بننے والا میگا منصوبہ بھی تعمیر کیا جارہا ہے یہی وجہ ہیکہ دشمن کی طاقتیں اس ضلعے پر مرکوز ہیں انکی پالیسی بھی بدامنی اور انتشار پھیلا کر اس منصوبے کو التواء در التواء دیکھناچاہتے ہیں ۔لیکن ہم دوسری طرف اس لئے بھی مطمئن ہیکہ ہمارے حساس ادارے ہمہ وقت دشمن کی ہر سازش ناکام بنانے کے لئے سایے کے طرح اس منصوبے کا تحفظ کررہے ہیں چونکہ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اس ڈیم کے تخمینے کا کام مشرف دور میں شروع ہواتھا اور 2008 میں اس ڈیم کی منظوری اینک سے ہوئی۔تھی 2011 میں سنگ بنیاد رکھ دیا ۔اس منصوبے کی تعمیر کے لئے تقریباََ 1200 ارب کی خطیررقم درکار تھی. ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو قرض کے لئے درخواست دی گئی جسے منظور کر کے ان بینکوں نے رقم دینے کی حامی بھر لی.
جیسے ہی منصوبے پر کام شروع ہوا بھارت نے حسب معمول چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ بھاشا ڈیم گلگت بلتستان میں بنایا جا رہا ہے
. بھارت نے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو درخواستیں دینا شروع کردیں۔
کہ اس منصوبے کے لئے رقم فراہم نہ کی جائے
کیونکہ یہ منصوبہ ایک ایسی جگہ پر بنایا جا رہا ہے جو کشمیر کا حصہ ہے اور کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کو رکوانے کی بھارتی ناکام کوششیں اس وقت کامیاب ہوئی جب 2012 میں ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے دی جانے والی رقم یہ کہکر روک دی کہ بھارت لکھ کر دے دے کہ اسے اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔ اسوقت راجہ پرویز اشرف بطور وزیر اعظم حلف لے چکے تھے. لیکن موجودہ حکومت دیامر بھاشا ڈیم کے لئے رقم کا بندوبست نہ کر سکی. حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کا دور حکومت بھی اختتام پذیر ہوا 2013ء کے الیکشن میں ن جیت گئی۔اورحکومت نے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو رقم فراہم کرنے کے لئے راضی کر کے عوام کو کہا کہ بینک بھارت کی پروا کئے بغیر ہمیں بقیہ قرض جلد جاری کر دیں گے۔بھاشا ڈیم پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا اور یہ منصوبہ 10 سے 12 سال میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن یہ اعلان بھی بے سود ثابت ہوا۔اس کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بنی اس ڈیم کو درکار رقم پورا کرنیکا بیڑہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے اٹھایا اور اربوں روپے ڈیم فنڈز عوام کی جمع پونجی جمع کرنے کےبعد عنقاء پرندہ بن گئے ۔
کئے سالوں سے پنڈولم کیطرح لٹکایا ہوا یہ معاملہ بالآخر گزشتہ ماہ 175 سے زائد ارب کی رقم ایکنک سے منظور ہوئی ۔جس کے بعد پچھلے کئے سالوں سے واپڈا ۔صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کےستاۓ متاثرین دیامر ڈیم میں پائی جانے والی بے چینی میں کافی حد تک کمی آنے لگی چونکہ ماضی میں یہ متاثرین ڈیم واپڈا اور انتظامیہ کے درمیان فٹ بال چکے تھے۔۔
ضرورت اس امر کی ہیکہ ملکی مفادکے لئے ملک کو آبی قلت اور بجلی کے بحران سے نکالنے کے لئے ایک قوم بن کر اس ڈیم کی تعمیر میں تمام پیداشدہ رکاوٹوں کو واپڈا ۔ضلعی انتظامیہ اور حساس اداروں کے ساتھ ملکر دور کرنا ہوگا
بصورت ۔۔دیگر۔۔
ہمارا دشمن بہت شاطر مکار ۔اور چالاک ہے ۔

۔تحریر ۔۔مولانا ابوسنین مولانا محمددین۔۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc