عبدا لخالق کی موت کا ذمہ دار کون؟

عوامی غم و غصہ !!
گلگت بلتستان کے ضلع استور کے کنٹرول لائن (ایل او سی)پر واقع وادی گریز (قمری ، منی مرگ ، کلشئی )کے عوام اس وقت انتہائی مشکل اور تکلیف میں ہیں۔ ان حالات میں ان کا غم و غصہ فطری بلکہ ضروری بھی ہے، کیونکہ 55 سال عبدالخالق مرحوم کی اچانک موت نے سب کو ہلاکر رکھ دیاہے۔ مرحوم اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تقریباً 10 روز قبل گائوں جانے کے لئے راولپنڈی سے اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹرز استور پہنچے اور استور گوریکوٹ کے قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا،8 مئی 2020ء کو انتقال فرماگئے ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔ اطلاعات کے مطابق مرحوم کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ موت کے روز آئی اور مرحوم و اہلخانہ کی رپورٹ مثبت ہے۔(مرحوم کے انتقال کا سنکر آج میرا بھائی پھوٹ پھوٹ کر رویا ،غالباً دونوں کئی سالوں تک ملکر کاروبا ر کرتے رہے ہیں)۔ ایک اطلاع کے مطابق راولپنڈی میں مرحوم کے گھر چند ایسے افراد کی آمد و رفت رہی تھی، جو زیارت کے بعد واپس آئے تھے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ کورونا کے اثرات پنڈی سے ہی موجود تھے، اس کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مبینہ طور پر استور میں اہلخانہ االگ قرنطینہ سینٹرز میں ہونے کے باوجود سب کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔

حالات!!
مقامی صحافیوں کی سوشل میڈیا رپورٹس ، تبصروں اور پوٹس سے یہ اندازہ ہوتا ے کہ مرحوم کی صحت کئی روز سے خراب تھی ، مگر انہیں بر وقت علاج کی سہولت نہیں ملی، مرحوم اور اہلخانہ بار بار توجہ دلاتے رہے مگر کسی نے نہیں سنی اور یوں 8 مئی کو انتقال ہوا۔ مرحوم کو اس وقت مقامی ہسپتال منتقل کیاگیا جب وہ تقریباً اللہ کو پیارے ہوچکے تھے اور ہسپتال میں کوئی مناسب سہولت نہیں تھی۔ جو تفصیلات مقامی صحافیوں کی سوشل میڈیا رپورٹس میں درج ہیں ، اگر یہ حقیقت ہے تو یہ طبعی انتقال نہیں بلکہ قتل عمد ہے ۔ اس قتل کے ذمہ دار کون ہیں ؟ (1) صوبائی حکومت، (2)ضلعی انتظامیہ، (3)مقامی انتظامیہ، (4)عوامی نمائندے،(5)قرنطینہ سینیٹرز کے ذمہ داران ،(6)راستہ بند ہونے کے باوجود لوگوں کی استور آمد کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد ،(7)سوشل میڈیا کے مفکرین یا (8)کوئی اور۔۔۔!!

ذمہ داروں کا تعین !!
ذمہ داروں کا تعین ہونا ضروری ہے ، کیونکہ اطلاعات کے مطابق مارچ کے وسط سے 7 مئی تک وادی گریز (قمری ، منی مرگ ، کلشئی )کے تقریباً 400 افراد استور پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید اتنے سفر کے انتظار میں ہیں ، اب تک سوا سو کے قریب ہی سخت مشکلات کے بعد ہی گھروں تک پہنچ سکے ہیں، 50 سے زائد افراد میں کورونا مثبت ہے ،جو گلگت اور استور کے تنہائی مراکز اور باقی افراد استور قرنطینہ سینٹرز میں ہیں۔ گھروں کو پہنچنے والے ، کورونا مریض یا قرنطینہ سینٹرز میں موجود افراد میں سے ایک کثیر تعداد کو 10 دن سے ایک ماہ تک استور میں اگلی منزل یعنی گھر تک پہنچنے کے لئے انتظار کرنا پڑا ہے، اس طرح کا انتظار قتل سے کم نہیں اور یقیناً لوگ شدید زہنی ازیت کا شکار ہوئے ہیں۔

ازیت کے اسباب!!
اس ازیت کے دو بنیادی اسباب ہیں ۔(1)حکومت اور اداروں کی جانب سے کورونا مرض کو انتہائی خوفناک بناکر پیش کرنا ، جس کی وجہ سے کورونا مریض مثبت رپورٹ کا سنتے ہی آدھا تو تقریبا مرہی جاتاہے اور اہلخانہ و اقربا زہنی مریض بن جاتے ہیں اور رہی سہی کسر کچھ سوشل میڈیا کے مبینہ مفکرین نے برابر کرتے ہیں۔ (2)وہ لوگ جو بار بار کورونا کو بیرونی فنڈز حاصل کرنے کا ذریعہ یا فراڈ قراردیکر لوگوں کو گمراہ کرنے ہیں۔ دونوں کا عمل قابل گرفت ہے۔

دعوے!!
حکومت اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سب کے لئے بہترین سہولیات فراہم کی ہیں اور بلکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کا دعویٰ ہے کہ ٹراؤٹ مچھلی سے مریضوں کی تواضع کی جاتی ہے، مگر مقامی سطح پر بعض افراد اور سوشم میڈیا میں کئی لوگ اس کی تردید کرتے ہوئے سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایت کر رہے ہیں۔ ہر دوجانب کا کلی سچ نہیں تو جھوٹ بھی نہیں ہے۔ اب دونوں کو اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کرنے ہونگے۔

فور ذمہ دار!!
فی الحال حکومت اورمقامی انتظامیہ اس حد تک تو ذمہ دار ہے کہ انہوں نے بین الصوبائی سرحدوں کو سیل نہیں کیں اور بغیر کورونا فری ٹیسٹ لوگوں کو داخل ہونے کی نہ صرف اجازت دی،بلکہ عملا حوصلہ افزائی کی ۔ابتداء میں سختی ہوتی تو بعد والوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی، مگر افسوس کہ عملاً ابتداء میں حوصلہ آفزائی کی گئی اور بڑے بڑے دعوے کئے گئے ،لیکن عملی میدان میں لوگوں کی خواہشات یا اپنے دعووں کے مطابق کام نہ کرسکے ۔

مجرمانہ غفلت !!
اطلاعات کے مطابق یہ مجرمانہ غفلت بھی نظر آرہی ہے کہ جو لوگ ’’تنہائی سینٹرز‘‘ یا ’’قرنطینہ سینٹرز ‘‘ میں ہیں ، ان کے دیگر امراض پر توجہ نہیں دی جارہی ہے اور یہ المیہ پورے پاکستان کاہے۔

سوال ؟؟
جنہوں نے بھی ضلع استور کے دیگر علاقوں سے ہٹکر وادی گریز (قمری ، منی مرگ ، کلشئی )کے لئے ایک الگ ’’ایس او پی‘‘ بنائی تھی ، وہ انتظام کرنے میں ناکام کیوں ہوئے ؟ اس کا جواب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان ، ضلعی انتظامیہ ، عوامی نمائندوں، دیگر متعلقہ اداروں اور افراد کو دینا ہوگا۔ ہم نے 24 مارچ 2020ء کو اپنے مفصل مضمون میں ان خطرات کی نشاندہی کی تھی ، مگر لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب اور ان کی انتظامیہ کی نظر سے یہ مضمون نہیں گزرا اور مشیروں نے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہو! اب حکومت کے حصے میں 100 جوتے اور۔۔۔ بھی!!

تجاویز !!
(1) رپورٹس کا حصول جلد سے جلد ممکن بنایا جائے ، (2) جو لوگ ’’تنہائی سینٹرز‘‘ یا ’’قرنطینہ سینٹرز ‘‘ میں ہیں ان کو مناسب علاج سمیت ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائیں۔ (3) اگر کچھ لوگ اپنے گھر یا علاقے میں ’’تنہائی‘‘ یا ’’قرنطین ‘‘کرنا چاہتے ہیں تو ، ان سے تحریری ضمانت لی جائے اور خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے۔ (4)اس وبا پر بے جاسیاست کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

اپیل !!
یقینا کورونا وبا نے دنیا بھر میں معاشی تباہی مچادی ہے ،مگر وادی گریز (قمری ، منی مرگ ، کلشئی ) میں حالات انتہائی خوفناک ہیں ، اس لئے فوری طور پر حکومت پورے علاقے کو آفت زدہ قرار دیکر خصوصی پیکیج کا اعلان کرے۔

تحریر:عبدالجبارناصر

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc