شیخ نثار حسنین رمل (عرف حسنین رمل) کون ہے؟ تحریر انجینئر تحسین علی رانا۔ سابق وزیر اعظم یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان۔

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے بانی رکن، عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان کے سرگرم رہنماء، سوشل ایکٹوسٹ، توانا اور بے باک آواز کے مالک حسنین رمل کو غداری اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات کے تحت پابند سلاسل کیا گیااوردس دن سے زیادہ ک فزیکل ریمانڈ میں جے آئی ٹی کی طرف سے بد ترین تشدد، جوڈیشل ریمانڈ کردیا گیا۔
تازہ ترین معلومات کے مطابق دہشت گردی کورٹ کے جج نے حسنین رمل کی ضمانت کی درخواست فقط اسلئے رد کردی ہے کیونکہ جج کی آفر ” کہ گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے بولنا بند کرنے اور خاموش رہنے کی گارنٹی دے تو ابھی ضمانت دیتا ہوں” کو حسنین رمل نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اور کہا ہے کہ میں گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے بولتا رہونگا آپ نے جو سزا دینی ہے دے دو۔ لہذا اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ اب ضمانت کیلئے سپریم اپلیٹ کو میں اپیل دائر کیا جائے گا۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا میں کافی عرصے سے گلگت بلتستان کے حقوق اور ریاست پاکستان کے گلگت بلتستان سے متعلق موقف کے مطابق عوامی مطالبات کرنے والے گلگت بلتستان کے سرگرم کارکن شیخ نثار عرف حسنین رمل کو دہشت گردی غداری اور سوشل میڈیا ایکٹ کے تحت گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔حسنین رمل سوشلسٹ نظریات اور ماسٹرز کی ڈگری کا حامل گلگت بلتستان کا ایک بے باک سوشل ایکٹوسٹ ہے، جو فیس بک پر عرصہ دراز سے گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے لکھا کرتے ہیں۔ محکمہ پی ڈبلیو ڈی میں 16 ویں سکیل پر ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کے ایشوز پر بے باک موقف رکھنے کی وجہ سے تین سال پہلے انہیں سرکاری نوکری سے معطل کیا گیا تاکہ پریشر ڈال کر انکی زبان بندی کی جاسکے۔ لیکن حسنین رمل نے ہار نہیں مانی، گلگت بلتستان میں اداروں کی من مانی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور موجودہ حالات میں سی پیک میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے اور اس میں گلگت بلتستان کو بحیثیت فریق نہ لینے پر بے باک موقف کے ساتھ عوامی ترجمانی کرنے کی وجہ سے ایک سال پہلے حسنین رمل کی تنخواہ بی بند کردی گئی اور انکے نوکری پیشہ ایک بھائی جو کہ کراچی میں مقیم ہیں انہیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت شیڈول 4 میں ڈال دیا گیا تاکہ معاشی طور پر مجبور کرکے حسنین رمل کی آواز کو بند کیا جاسکے۔
حسنین رمل شدید معاشی تنگدستی کے باوجود عوامی حقوق کے لئے سوشل میڈیا میں آواز اٹھانے اور عوامی ایکشن تحریک کے پلیٹ فارم میں کامریڈ احسان علی ایڈوکیٹ کے قیادت میں کام کرنے سے باز نہ آیا، جس پر حکومت نے انہیں شیڈول فور میں ڈال کر پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی۔ احسان ایڈوکیٹ کی بروقت مداخلت سے شیڈول 4 کا مسئلہ حل ہوا ہی تھا کہ ایک جھوٹی ایف آئی آر کیذریعے اچانک کامریڈ حسنین رمل کو گرفتار کرلیا گیا اور ان پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور فوج اور ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے اور ریاست سے بغاوت کے جرم میں مختلف دفعات کے ساتھ ایف آئی آر درج کی گئی۔ 10 روز سے زائد کے فزیکل ریمانڈ میں انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم حسنین رمل کا حوصلہ بلند ہے۔
یاد رہے حسنین رمل عوامی ایکشن کمیٹی کے قیام اور گندم سبسڈی تحریک میں سرگرم کارکنوں میں تھے اور اب بھی عوامی ایکشن تحریک گلگت بلتستان میں کامریڈ احسان ایڈوکیٹ کی سرپرستی میں سرگرم عمل تھے۔ حسنین رمل گلگت بلتستان میں عوامی ملکیتی زمینوں پر خالصہ سرکار کے نام پر سرکاری ناجائز قبضے، سی پیک میں گلگت بلتستان کی محرومی اور گلگت بلتستان کے قومی سوال پر حکومت کے سخت ناقد تھے۔ سی پیک میں گلگت بلتستان کو بحیثیت فریق تسلیم کرنے کے علاوہ بحیثیت متنازعہ علاقہ اس میں کسی بھی فریق کی اجارہ داری کے خلاف تھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقامی خودمختار حکومت کے قیام کے حامی تھے اور اسکا مطاپبہ کرتے تھے۔ ریاست پاکستان بھی گلگت بلتستان کو عالمی طور پر اور اقوام متحدہ میں متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔ لیکن ریاست کے چند ادارے ریاست کے موقف کے مطابق عوامی مطالبہ کرنے اور بحیثیت متنازعہ قوم کے اپنے تسلییم شدہ حقوق مانگنے والوں کو غدار اور دہشت گرد قرار دیکر آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حسنین رمل بھی گلگت بلتستان کے بارے میں پاکستان کے عالمی طور پر تسلیم شدہ موقف کو سامنے رکھ کر ہی حکومت وقت سے عوامی حقوق اور مفاد کے لئے مطالبات کرتے تھے، جنہیں حاکموں نے اپنے ناجائز مفادات اور عوامی زمینوں پر ناجائز قبضے کے لئے رکاوٹ سمجھا اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے پابند سلاسل کیا۔
ہم گلگت بلتستان، کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے حق پرست اور انصاف پسند لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی عوامی آواز کو دبانے اور سوشل میڈیا کی آزادی کے خلاف حکومت کے ان اقدامات کا سختی سے نوٹس لیں اور آواز حق بلند کریں، تاکہ گلگت بلتستان کے محکوم اور مجبور عوام کو انکا جائز اور انسانی حقوق مل سکیں۔ اور کامریڈ حسنین رمل سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جاسکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc