دیہی علاقوں میں وقت کی ایک اہم ضرورت۔۔

اس حقیقت سےکوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا کہ انسان نے عقل کی نعمت سے استفادہ کرتے ہوئے محیرالعقول چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں جس سے  زندگی کی بہت سی مشکلات حل کرنے میں انسان کو مدد ملی ہے ،ان محیر العقول چیزوں میں سرفہرست انٹرنٹ کا نام لیں تو بے جا نہ ہوگا ـ آج کی دنیا میں ہونے والی پیشرفت اور ترقی میں انٹرنٹ کا بنیادی کردار ہے ،اس سے قطع نظر ترقی کرنے کا تصور لغو ہے ـ اس کے فوائد اور ثمرات بہت زیادہ ہیں مگر اس کالم میں ان پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں ـ بچہ بچہ جانتا ہےکہ آج دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوگئی ہے،اگر ہم بچوں سے ہی سوال کریں کہ کس چیز نے دنیا کو ایک گاؤں کی شکل میں تبدیل کیا تو وہ سوچے بغیر بول پڑیں گے کہ انٹرنٹ کی بدولت ایسا ہوا ہے ۔یہ پیغام رسائی کا جدید ترین اور تیز ترین ذریعہ ہے ، پوری دنیا میں لوگ اس نعمت  سے بھر پور استفادہ کررہے ہیں، تعلیمی مراکز سے لیکر کاروباری مراکز تک کا نظام کمپیوٹری بن گیا ہے، جس کا محرک اصلی انٹرنٹ ہے ـ اس کے ذریعے نہ  فقط دنیا کی قومیں رابطہ کرکے ایک دوسرے سے جڑ سکتی ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے مشاہدات، تجربات اور معلومات سے بھی بہتر طورپر  مستفید ہو سکتی ہیں۔جیسے پرندوں کو کسی ملک میں جانے کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی ویسے ہی انٹرنیٹ کے ذریعے ویزے یا پاسپورٹ کے صرف ایک بٹن دبانے سے دنیا کی کسی بھی شہر یا علاقے سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔انٹرنٹ کی ایجاد سے پہلے لوگوں کو حصول علم  کی خاطر دور دراز مقامات کی طرف سفر کرنا پڑتا تھا ، تحقیقی شغف رکھنے والوں کو خدا جانے کتنی مشکلات   برداشت کرنا پڑتا تھا، لائبریوں  تک رسائی حاصل کرکے ان سے مطلوبہ کتابیں ڈھونڈ نکال کر مطالب کی جمع آوری کرنا بہت تھکا دینے والا کام ہوتا تھا،علامہ امینی صاحب الغدیر کو اپنی نفیس وعظیم کتاب الغدیر کی    تالیف کے دوران کچھ کتابوں  کی تلاش میں مختلف ممالک کا سفر کرنا پڑا جن میں سے ایک ہندوستان تھا، اسی طرح  قدیمی زمانے میں علمی شاہکار کتابیں لکھنے والے نامور محققین کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتنی سختیاں    برداشت کرکے علمی کمالات  حاصل کئے ہیں، لیکن آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم اپنے گھروں میں بیٹھکر دنیا بھر کے علمی خزانوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس دور میں تعلیم کے راستے میں سمندر، صحرا، جنگل اور ریگستان رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ آپ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی علمی میکدے سے اپنا ساغر بھر سکتے ہیں ،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے اس  پیشرفتہ زمانے میں بھی پاکستان کے بہت سارے دیہی علاقوں کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں ـ بلتستان میں تو حالات ہی ناگفتہ بہ ہیں،اسے سمجھنے کے لئے ضلع کھرمنگ کے پسماندہ علاقوں کی مثال ہی دیکھ لیجئے بلکہ صرف کھرمنگ خاص کے نالہ جات کے حالات کی ابتری سے واقف ہونا ہی ہمارے ساتھ وادی تعجب میں داخل ہونے کے  کافی ہوگا ـ توجہ رہے کہ کھرمنگ خاص کے بڑے علاقے کا نام کندرک ہے جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے ،موسم بہار میں دور دراز مقامات سے لوگ سیر وتفریح کے لئے اس علاقے کی طرف لپکتے ہیں ،تعلیمی مراکز سے بچوں کو سیر کے لئے یہاں لائے جاتے ہیں،یہ علاقہ معدنیات سے بھی مالامال ہے، اس میں تقریبا سات کے لگ بھگ خوبصورت جھیلیں بھی موجود ہیں جو ابھی تک اس علاقے سے دور لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں جس کی بنیادی وجہ اس علاقے کا بنیادی سہولیات سے محروم ہونا ہے،اگر اس علاقے کی فقط سڑک ہی گشادہ اور پکی بن جائے تو یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کے  مختلف شہروں سے سیاحوں کا یہاں رش ہوگا، جس کے نتیجے میں اس علاقے کے مکین اچھی خاصی مادی فائدے حاصل کرسکیں گے مگر ابھی تک عوامی نمائندوں نے اس جانب توجہ کرنے کی زحمت نہیں کی ہے ـاس علاقے کی پسماندگی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے باعث اس کی نصف آبادی سے زیادہ لوگ کراچی سمیت دیگر شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، بہت سارے افراد بحرین ،کویت ایران عراق میں حصول تعلیم اور رزق حلال کی تلاش میں زندگی بسر کررہے ہیں ،لیکن دیار غیر میں زندگی گزارنے والوں کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں کیونکہ ان کے ذھن پر ہمیشہ اپنے گھر کے بچوں سمیت رشتہ داروں کی فکر سوار رہتی ہے، علاقہ کندرک میں نٹ سروس بحال نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں ،یقینا یہ سب سے پہلے مرحوم شھید اسد زیدی کے برادران کے لئے سوالیہ نشان ہے کہ جو دعوے تو بڑے کرتے ہیں مگر اپنے ہمسایہ علاقے کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتے ،ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیاسی میدان میں کامیابی کے لئے عوامی مسائل پر توجہ دے کر انہیں حل کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے ـ موجودہ نمائندہ جناب اقبال حسن اور سید امجد ذیدی ذرا سی توجہ کریں تو پورے کھرمنگ خاص میں نٹ ورک کا مسئلہ حل ہوگا ـ یہ بات اقبال حسن صاحب کے علم میں ہو یانہ ہو امجد ذیدی کے علم میں تو یقینا ہے کہ کندرک سمیت ژوکسی تھنگ میں انٹرنٹ سگنل کی مشکل کا سبب کھرمنگ خاص میں موبائل ٹاور مناسب جگہ پر نصب نہ ہونا ہے، ژھوکسی تھنگ سے نیچے ایک گہرائی (ٹھینگ کھوڈ) نامی جگہ پر موبائل ٹاور نصب ہونے کی وجہ سے بالائی علاقوں میں سگنل نہیں آتاـ  ٹاور کے لئے یہ جگہ بالکل بھی فیزیبل نہیں  بلکہ اس کے لئے سب سے مناسب اور بہترین جگہ ژھوکسی تھنگ ہے ـ میں اپنی اس تحریر کے ذریعے جناب اقبال حسن اور امجد ذیدی سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو سیرس لیں، موبائل ٹاور کو موجودہ جگے سے اٹھوا کر ژھوکسی تھنگ کے کسی جگہ نصب کروائیں تاکہ کھرمنگ خاص سے تعلق رکھنے والوں سمیت باغیچہ ،پلپددو،مایوردو،تیتہ دو کے عوام بھی اس سے برابر استفادہ کرسکیں ـ بلاشبہ موبائل ٹاور غیر مناسب جگہ پر نصب کرکے بعض مقامات کے عوام کو انٹرنٹ جیسی بڑی سہولت سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے ـ ہماری نظر میں امتیازی سلوک سے بالاتر ہوکر عوام کے ساتھ مساوات اور انصاف کا برتاؤ کرنا کسی بھی خطے اور علاقے کے نمائندے کی ذمہ داریوں میں سرفہرست شامل ہے ،انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں انصاف کی رعایت کرنا ہی وہ اعلی وصف ہے جو انسانیت کی پہچان قرار پاتا ہے ،گھر ،رشتہ دار ،کوچے، محلے، حلقہ احباب غرض تمام انسانی معاشرے میں انسان کی محبوبیت انصاف پسندی سے جڑی ہوئی ہوتی ہےـ جو افراد منصف نہیں ہوتے  انہیں لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اجتماع اور معاشرے میں ان کی کوئی وقعت نہیں رہتی ، لوگ ان کی قربت اور دوستی پر دوری کو ہی ترجیح دیتے ہیں ،وہ انہیں نہ قابل اعتبار واعتماد سمجھتے ہیں اور نہ ہی امین ، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنی فیملی اور گھر والوں سے لیکر معاشرے کے لوگ انصاف سے تہی افراد کو گھر اور معاشرے میں جزء زائد تصور کرتے ہیں ،وہ انہیں غیر مفید مغرض انسانوں کی صف میں گردانتے ہیں، معاشرتی زندگی میں لوگ ایسوں کے ساتھ معاملات تک کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوتے ، اسی طرح وہ اپنے اجتماعی کاموں اور سرگرمیوں میں ایسے لوگوں کی مداخلت اور مشارکت کو اپنے لئےخطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں ـ اگر انصاف کو پس پشت ڈال کر زندگی کی گاڑی چلانے والا شخص کسی قوم کا نمائندہ ہو تو اس کی بے توقیری ، منفی پوزیشن اور بری حیثیت قابل بیان نہیں رہتی ـ عوام کی نمائندگی کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس کی بنیاد انصاف ہے ، عوامی نمائندوں کا اخلاقی اور منصبی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں ،ان کے مسائل کو حل اور مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ریاست سے فلاحی امور اور ترقیاتی کاموں کے لئے وصول کرنے والی رقوم کو  سفارشات ،چہرہ شناسی اور سیاسی رنگ کو معیار بناکر تقسیم  کرنے کے بجائے انصاف کی عینک سے دیکھ کر ضرورت اور حاجت کی تشیخص کرکے خرچ کریں ـ جناب اقبال حسن صاحب نے ضلع کھرمنگ میں مجموعی طور پر اچھے کام کئے ہیں ،ہم اس حوالے سے ان کی تعریف کرتے ہیں ،لیکن وہ پورے کھرمنگ کا نمائندہ ہونے کے ناتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ضلع کھرمنگ کے تمام علاقوں کو ان کی ضرورتوں کے مطابق سہولیات بہم پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں؟ کیا وہ ریاست سے ضلع کھرمنگ کے عوام کو ملنے والے حقوق مساوات کی بنیاد پر تقسیم کررہے ہیں ؟ کیا ترقیاتی فنڈز اور رقوم کو خرچ کرنے میں وہ عوام کی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ضلع کھرمنگ کے تمام علاقوں کے مسائل حل کرنے کے درپے ہیں ؟ کیا چہرہ شناسی، سفارشات ،سیاسی رنگ،  ثروتمند لوگوں کی باتوں اور دوستی جیسے غلط معیار کو نظر انداز کرکے علاقوں کی ضرورت کے مطابق ترقیاتی کاموں اور فعالیتوں کے اجراء کو یقینی بنارہے ہیں ؟ و…..

زمینی حقائق ان سوالات کا جواب نفی میں دے رہے ہیں کیونکہ کھرمنگ کے کچھ علاقوں کے عوام آج بھی انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ،جن میں سے ایک کندرک کا علاقہ ہے ، یہ ضلع کھرمنگ کے بڑے علاقوں میں شمار ہونے کے باوجود سہولیات اور ترقی کے اعتبار سے پسماندہ ہی ہےـ  راقم نے متعدد بار اپنی تحریروں کے ذریعے اس علاقے کے موجودہ نمائندہ جناب اقبال حسن کی توجہ اس علاقے کے بنیادی مسائل کی طرف مبزول کرانے کی کوشش کی تھی ـ ہم نے ان سے کچھ اہم مطالبات کئے تھے جن میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ کندرک میں آٹھ بیڈ پر مشتمل سہولیات سے لیس ایک اسپتال کے قیام کو یقینی بنائیں  اس کی ضرورت تھی اور ہے ،چنانچہ ہم نے اپنی سابقہ تحریروں اپنے مطالبات کے دلائل کی بھی پوری وضاحت کی تھی  مگر کجا ؟ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے، خیر ہم پھر  بھی مایوس نہیں ـ لیکن جناب اقبال حسن صاحب کو اپنے رویے پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہیے اور اسے یہ بات اچھی طرح ذھن نشین کرلینی چاہئے کہ آپ پورے کھرمنگ کے عوام کا نمائندہ ہے لہذا آپ کے لئے کھرمنگ کے تمام علاقوں کے عوام کے جائز مطالبات  پر توجہ دینا ضروری ہے ـ البتہ ہمیں کھرمنگ کے صحافی برادری سے بھی شکوہ ہے کہ وہ فقط اپنے اپنے گاؤں کے مسائل کو ہائی لائٹ کرتے رہتے ہیں کھرمنگ کے دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کی طرف ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے یہ روش کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ،صحافت کے شعبے سے منسلک افراد کو یہ جان لینا چاہئے کہ مسائل حل کرنے اور بڑھانے میں اہل قلم کا اہم کردار رہا ہے، کیونکہ قلمی طاقت تیز تلوار کی طاقت پر بھی بھاری ہوتی ہے – اب یہ اہل قلم کی منشاء پر موقوف ہے کہ وہ اس عظیم طاقت کو کس راہ میں استعمال کرتے ہیں؟ مظلوم کے دفاع میں یا ظالم کی حمایت میں – وہ اسے قوم کو شعور دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا اسے غفلت کی ابدی نیند میں سلانے کے لیے – وہ اسے انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں یا مختصر رقوم وصول کرکے حکمرانوں کی خوشامدی اور چاپلوسی کی راہ میں- اس کا اختیار قلمکار کے قبضہ قدرت میں ہے، وہ چاہے تو اپنی قلمی قوت کو خدمت خلق کی راہ میں صرف کرکے دنیا وآخرت دونوں میں خوشبخت ہوسکتے ہیں اور اپنی مرضی سے اس عظیم طاقت کو انسانیت کے خلاف استعمال کرکے دونوں جہاں کی بدبختی بھی کسب کرسکتے ہیں-توجہ رہے کہ ملکی، قومی اور معاشرتی مسائل کی درست نشاندہی کراکے ان کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرنا ہی صحافیوں کا منصبی فریضہ ہوتا ہے، البتہ مانتا ہوں کہ یہ بہت ہی دشوار اور سخت کام ہے، لیکن میدان صحافت میں وارد ہونے کے بعد چاہے نہ چاہے بہر اس فریضے پر عمل کئے بغیر صحافی اپنے ہدف تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انگشت شمار صحافیوں کے علاوہ ہمارے قلمکاروں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں سے دور دکھائی دیتی ہے، ان کا قلم مسائل حل کرنے کی راہ میں کم اور مسائل بڑھانے کے لئے زیادہ استعمال ہوتا نظر آتا ہے- آج کل اکثر صحافی سیاسی رنگ میں اخلاقی حدود سے بھی باہر ہوکر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو اپنی پہچان بناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں امید ہے ضلع کھرمنگ کے نمائندے سمیت صحافی حضرات کھرمنگ کے دوردراز علاقوں کے مسائل پر بھی توجہ دے کر انہیں حل کرنے میں کردار ادا کرتے رہیں گے ـ

تحریر: محمد حسن جمالی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc