*”کبھی تو سوچنا یہ تم نے کیا کیا لوگو یہ کس کو تم نے سر دار کھو دیا لوگو۔”

چار اپریل ملکی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے، تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے والے، نوے ہزار فوجی قیدیوں کو دشمن کی قید سے آزادی دلانے والے ملک عزیز پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ناکردہ گناہ کی پاداش میں ایک گھناؤنی سازش کے تحت تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس بے جرم مسیحا کو مجرم قرار دینے کی جو سازش کی گئی اس میں آج تک ان عوامل کو ناکامی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو وزیراعظم کی کرسی سے اتار کر موت کی کوٹھری میں پہنچانے والے اور بے جرم و خطا تختہ دار پر لٹکانے والوں کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ شہادت ذوالفقار علی بھٹو کو ہمیشہ کے لیے امر کر رہی ہے بھٹو کا سورج غروب نہیں طلوع ہو رہا ہے۔

بھٹو گھڑی خدابخش سے عوام کے دلوں پر راج کر رہا ہے ایک ایسا عوامی راج جہاں عوام کو اپنے لیڈر سے صرف لگاو اور محبت نہیں بلکہ عقیدت ہے۔ ایسی عقیدت جہاں ان کے چاہنے والوں نے ان کی شہادت پر خود سوزیاں کیں اور انکی محبت میں جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالا محبت اور عقیدت کی ایسی مثال دنیا کی تاریخ میں کسی لیڈر اور کارکن کی نہیں ملتی۔ اسی لئے آج بھی اس ملک میں سیاست کا محور صرف شہید ذوالفقار علی بھٹو ہے جن کی سیاسی بصیرت، تدبر، دور اندیشی اور قائدانہ صلاحیتوں کی نہ صرف ان کے چاہنے والے بلکہ ان کے سیاسی مخالفین بھی معترف ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آج پھرملک کو شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر کی ضرورت ہے جو اس ملک کو درپیش مسائل اور بحرانوں سے اپنی دور اندیشی، ویژن اور بہترین قائدانہ صلاحیتوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکے۔

 

 

تحریر: سعدیہ دانش

 

سیکریٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc