حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے

چین کے شہر ووہان سے پوری دنیا میں پھیلنے والا مہلک وائریس جس ملک میں بھی گیا وہاں تباہی مچائی ہے۔ روس نے الزام ٹھہرایا کہ اس کا موجد امریکہ ہے جس کا مقصد چین کی اقتصاد کو نقصان پہنچانا ہے۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کی جانب سے بھی اس بات کی تائید ہوتی رہی۔ اقوام متحدہ میں دس سال تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والی شخصیت ہارون الرشید نے بھی اس بات کی تائد کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کی ہے۔ لیکن چین نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کو کس نے بنایا اور کہاں سے آیا بلکہ اس نے فوری طور پر اقدامات کیے اور اس سے مقابلہ کرکے مہلک بیماری کو فوری شکست دی۔ تاہم وائریس سے نجات پانے کے بعد چینی وزیر خارجہ نے اس معاملے کو اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیق کراوانے کا عندیہ دیا ہے۔ چین کے بعد یہ وائریس ایران کی طرف نکل پڑے۔ ایران پہلے سے ہی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہونے کے باوجود بطریق احسن اس وبائی مرض سے مقابلہ کرنے میں کامیاب نظر آرہا ہے۔ اٹلی میں حکومتی اقدامات کی مخالفت پر کافی حد تک یہ وائریس پھیل گئی۔ لیکن جب یہ وائریس چلتا ہوا دنیا کے سپر پاور ملک امریکہ میں پہنچا تو اس کی طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے پول بھی کھل گئے۔ اب عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے جیسے ہی کرونا سے متاثرہ ممالک کو امداد دینے کا اعلان ہوا تو یہ وائریس فورا پاکستان بھی پہنچ گیا۔ اور بیرونی امدادکے لیے پاکستانی حکمرانوں نے زائروں کو کشکول بنادیا۔ اور عوام کو آپس میں یہ ثابت کرنے پر لگادئیے کہ یہ وائریس زوار ہے یا حاجی؟ اگر دیکھا جائے تو میڈیا سمیت ایک مخصوص گروہ کی جانب سے اس وائریس کو زوار ثابت کرکے ایران کے ساتھ جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر حقیقت نہیں بدلی۔ چونکہ پاکستان میں اب تک اس وائریس سے جانبحق ہونے والوں کا تعلق اور ان کا بیرونی سفر بھی سامنے آچکا ہے۔ مجھے اس بات سے کوئی واسطہ نہیں کہ وائریس کہاں سے آیا ہے۔ لیکن جب بات حد سے زیادہ بڑھ جائے تو خاموش رہنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اس لئے حقیقت پر مشتمل چند باتوں کا ذکر کررہا ہوں۔ اول تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستانی زائرین جو ایران سے آئے تھے باڈر سے لیکر اب تک حکومتی حصار میں ہیں۔ جبکہ میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایران کرونا سے متاثرہ افراد کو علاج کے بجائے ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہاہے۔ اور ذولفی بخاری پر الزام لگایاکہ وہ ان زائرین کو پاکستان لانے میں کردار ادا کررہا ہے۔ حقیقت میں ان باتوں کا تعلق براہ راست اس بات سے ملتی ہے جس میں کسی نے وزیر اعظم عمران خان کو ذولفی بخاری ساتھ نہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ اورمزید یہ کہ ایران زیارت کے نام پر زائروں سے اتنے پیسے لیتے ہیں تو مشکل وقت میں ان کو تنہا کیوں چھوڑا؟ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ایران سے آنے والے کتنے زائر ایسے ہیں جن کا کرونا سے متاثر ہونا سفارتی سطح پر ثابت ہوا ہو؟ کیونکہ جب دو ممالک کے درمیان سفارتی رابطہ قائم ہو تو ایسے معاملات سفارتی سطح پر اٹھایا جاتا ہے۔ یا ان یہ پوچھا جائے کہ ایران زیارت کی مد میں زائرین سے کتنے لاکھ اضافی پیسے لیتے ہیں؟ تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا کیونکہ نہ ایران سے آنے والوں کا سفارتی سطح پر کوئی کرونا ثابت ہوا ہے اور نہ ہی ایران زائرین سے زیارت کے نام پہ کوئی اضافی رقم لیتا ہے۔ بلکہ ایران زائرین سے صرف ویزے کا 3 ہزار لیتا ہے جوکہ کسی بھی ملک میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اور رہی بات باڈر کراس کروانے کی تو زیارتی ویزہ صرف تیس دنوں کے لیے کارآمد ہوتا ہے جس کے بعد ہر پاکستانی کو حتما اپنے ملک واپس آنا ہوتا ہے ویزہ کی اختتام کے بعد انہیں دوسرے ملک میں رہنا کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ کچھ لوگوں نے اس تناطر میں پاک ایران باڈر مکمل طور پر سیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کے لیے یہی عرض کروں گا کہ گھر کے بزرگ جب رات کو گھر کا مرکزی دروازہ بند کرنے کا حکم دیتا ہے تو یہ بندش غیر متعلقہ افراد کے لیے ہوتی ہے۔ گھر کا کوئی فرد اگر کسی مجبوری کے سبب گھر سے باہر ہو تو وہ جتنی رات گئے بھی گھر آئے اس کے لیے دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ گھر کے دروازے گھر والوں پر کبھی بند نہیں ہوتے زائر چاہے مدینے کا ہو یا نجف کا جب اس کے ویزے کی معیاد ختم ہوجائے اور ایگزٹ لگ چکا ہو اور جیب بھی خالی ہوا ہو ہر طرح سے لاچار ہو تو ماں جیسی ریاست کی کیا زمہ داری ہے؟ آپ احتیاطی تدابیر اپنائیں اسکریننگ کریں قرنطینہ لگائیں لیکن اپنی قومی، آئینی و اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کریں اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر کرائے پر دستیاب میڈیا زبانوں کو بھی سمجھائیں کہ بارڈر بند کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟۔ زائرین کے متعلق حقیقت سے پردہ اس وقت اٹھا جب وزیر اعلی بلوچستان نے اپنی ناکامی کا اقرار کرتے ہوئے واضح کردیا کہ تفتان پر سہولیات کی فقدان کے باعث کافی مشکلات کا سامنا رہا ساتھ ہی گورنر سندھ کا پریس کانفرنس بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تفتان پہنچنے تک تمام زائر بلکل ٹھیک تھے۔ اور انہیں ابتدائی طور پر تفتان باڈر پر ہی 15 دنوں تک قرنطینہ میں رکھا گیا جہاں بمشکل 25 سو افراد کی گنجائش ہے وہاں 6 ہزار افراد کو 15 دنوں تک جانوروں کی طرح رکھا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وائریس ایران سے آیا ہے اور ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھی اسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما گئی۔ جس کے بعد انہیں سکیورٹی حصار میں اپنے اپنے شہروں میں پہنچایا گیا یہاں تک کہ راستے میں بھی ان کو گاڑیوں سے اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ باوجود اس کے راستے میں جتنی صعوبتیں اٹھانی پڑی اپنے شہروں میں پہنچ کر انہیں مزید پندرہ دنوں تک قرنطینہ کے نام پر گھر والوں سے دور رکھا گیا اور قرنطینہ سنٹرز میں ان کے ساتھ کس قدر زیادتی ہوئی وہ ناقابل بیان ہے لیکن انہوں نے سب کچھ ہونے کے باوجود ملک عزیز کی محبت اور اپنی زیارات کی اجر کو ضائع ہونے سے بچانے کی خاطر انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد ٹیسٹ کرکے مطئمن ہوا تو سینکڑوں زائروں کو گھروں میں بھیج دئیے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے جب ان زائرین کو باڈر سے لیکر گھر کے دروازے تک سکیورٹی حصار میں پہنچایا گیا ان کو شہروں میں داخل ہونے کا موقع ہی نہیں دیا گیا تو پھر یہ وائریس کیسے پھیل گیا۔ چونکہ میڈیا تو اس وائریس کا تمام تر ذمہ دار زائرین کو ٹھراتے رہے مگر یہاں تو معاملہ الٹانکلا۔ تو آئیے اب ذرا تصویر کی دوسری رخ دیکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں جب وائریس پھیلا تو حکومت نے 72 گھنٹے کی ڈیڈلائن دی اور کہا گیا غیر ملکی افراد فوری طور پر اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ جس پر پاکستان ائیر لائن نے خصوصی اڑان بھری اور جہاز بھر بھر کے پاکستانیوں کو سعودیہ سے منتقل کرنا شروع کردئے جن کا نہ کہیں کوئی سکریننگ ہوئی نہ ان کو قرنطینہ میں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ چین اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک جو اس وقت اس مہلک وبا سے متاثر ہوا ہے ان ممالک سے آنے والے کتنے مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے؟ کیا یہ قرنطینہ فقد زائرین کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ کہ پاکستان کے لیے صرف ایران سے آنے والا وائریس خطرناک ہے؟ اگر ایسا ہے تو ملک میں تبلیغی جماعت کے ذریعے وائریس پھیلنے کا کیا سبب بنا کہیں تبلیغی جماعت کا بھی ایران سے کوئی واسطہ تو نہیں؟۔ اب جب معاملہ واضح ہوچکا کہ وائریس کا تعلق نہ حجاج سے ہے نہ زوارسے۔ اور پراپگنڈہ گروپ کا ہر طرف سے ناکامی مقدر بنی تو معاملے کا رخ بدلنے کے لیے ایک اور حربہ استعمال کیا اور ٹیلی ویژن پر شیعیان جہاں کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنایٰ کے خلاف بات کرکے ملت تشیع کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی مگر یہاں بھی انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ خدا را اب ان تفرقہ بازیوں سے نکل کر حقیقت کی طرف آجائیں۔ آنکھیں بند کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر سو اندھیرا ہو۔ خدا ہم سب کو حقیقت جاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین

تحریر: ایس ایم موسوی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc