طبقہ علماء اور ہماری دنیا۔۔

کسی بھی معاشرے میں بنیادی طور پر کرنے کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ یا تو لوگ پیداواری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرتے ہیں مختلف صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ یا پھر سروسز کی فراہمی سے متعلقہ امور سرانجام دیتے ہیں جیسے کہ اساتذہ، ڈاکٹر اور مختلف دفاتر میں کام کرنے والے افراد۔۔ کاروبار کرنے والے افراد اپنے کاروبار کی نوعیت کے اعتبار سے انہی دو میں سے کسی ایک طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مذہبی علماء کا تعلق ان میں سے کسی ایک طبقے سے بھی نہیں ہے۔ نہ یہ کسی پیداواری عمل کا حصہ ہیں اور نہ یہ سروسز کی فراہمی سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے بعض حضرات ان کو تعلیم کے شعبے سے متعلق خیال کریں لیکن اگر دیکھا جائے تو جو تعلیم یہ طبقہ فراہم کرتا ہے وہ صرف آخرت سنوارنے کے لئے ہے۔ کسی زندہ معاشرے کو چلانے کے لیے جن امور پر رہنمائی اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے اس طبقے کے دامن میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس تہی دامنی کے باوجود یہ طبقہ بہرحال موجود ہے۔ پوری شان و شوکت اور جاہ و جلال کے ساتھ موجود ہے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ہسپتالوں کے ڈاکٹر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کی نسبت بہتر زندگی گزارنے والا یہ گروہ آخر معاشرے کی کیا خدمت کرتا ہے؟؟ یہ سوال ہے جو ہم سب کو ان سے نہیں خود سے کرنا چاہیے۔
اہم اور قابل غور وہ راستہ ہے جو اس طبقے نے اپنے وجود کو منوانے کے لیے اختیار کیا ہے۔ چونکہ معاشرے کے کسی اہم کام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اس لئے کہ ہر اہم کام میں مداخلت کرکے اپنی زندگی اور موجودگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔۔۔۔ ایک مثال جو ابھی تازہ ہے وہ علاج معالجے کے امور سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اب علاج صرف کسی مریض کو دوا تجویز کرنے کا نام نہیں ہے۔ علاج فراہم کرنے والے صرف مختلف امراض کے لیے دوائیں تجویز نہیں کرتے۔ اگر کچھ لوگوں کے خیال میں صرف دوا تجویز کرنا ہی معالج کا کام ہے تو معذرت کے ساتھ ایسے حضرات کو چاہیے کہ وہ علاج اور معالج کی تعریف پر نظر ثانی فرمائیں۔

اس دور میں معالج کے لئے ضروری ہے کہ اس کو معلوم ہو کہ کسی بھی مرض کے پیدا ہونے کے اسباب اور وجوہات کیا ہوتی ہیں۔ یہ اسباب و وجوہات مریض میں کیسی اور کونسی علامات پیدا کرتے یا کر سکتے ہیں۔ ایک مرض کو دوسرے ملتے جلتے امراض سے کن بنیادوں پر الگ کرکے تشخیص کیا جا سکتا ہے یا کیا جانا چاہئے۔ اس کام کے لئے دنیا میں بڑے بڑے تشخیصی نظام موجود ہیں۔ بعض ماہرین ساری زندگی ان تشخیصی نظاموں کی تشکیل و تہذیب جیسے کاموں پر صرف کر دیتے ہیں۔ آجکل تشخیصی عمل میں مدد کے لیے آئے روز نئے طریقے اور آلات متعارف ہو رہے ہیں۔ یہ میڈیکل سائنس کا ایک الگ شعبہ ہے اور اس میں کام کرنے والے لوگ اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود کبھی دوا تجویز نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ امراض کی درجہ بندی کئی حوالوں سے کرنے کے بعد ان میں تخصص Specialisation کے راستے کھول دیے گئے ہیں۔ مثلا ذہنی امراض کا علاج کرنے والے کینسر کے علاج پر بات نہیں کرتے۔ اس کے بعد ان شناخت شدہ اسباب و وجوہات کاسدباب کرنے والی ادویات کو دریافت کرنے کا مرحلہ آتا ہے مختلف امراض کی ادویات دریافت کرنے کے لیے جو علم اور محنت درکار ہوتی ہے سر درد کیلئے پیراسیٹامول کھانے والا آج شاید اس کا اندازہ بھی نہ کرسکتا ہو۔ ہر دریافت ہونے والی دوا تحقیق کے ایک طویل اور منضبط طریقے سے گزرتی ہے جس کے ذریعے اس دوا کی افادیت کی آزمائش ہوتی ہے جس کے بعد یہ دوا معالج تک پہنچتی ہے جب معالج یہ دوا تجویز کرتا ہے تو اس کے پیچھے اتنے بہت سے ماہرین کا علم اور تجربہ موجود ہوتا ہے جس کی بنیاد پر مرض کی تشخیص ہوئی اور پھر دوا تجویز کی گئی۔ مرض کی شناخت اور علاج کے دریافت کے اس طویل عمل کو ذہن رکھئے اور پھر ان لوگوں کے علم اور عقل پر غور فرمائیں جو ہر مرض کے لئے شہد اور کلونجی ہاتھ میں لے کر نکل آتے ہیں۔

میں نے ابھی مرض کی تشخیص سے لے کر دوا کی دریافت کا اور وہاں سے دوا تجویز کرنے تک کے جس عمل کی وضاحت کی ایک عامیانہ سی کوشش کی ہے اس عمل کے ہر مرحلے میں مختلف ماہرین اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں مگر فرائض کی یہ انجام دہی پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ایک انتہائی پیچیدہ مگر منضبط نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ اس سارے عمل میں کوئی کسی دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔۔۔۔ تشخیصی نظام پر کام کرنے والے دوائیں دریافت کرنے والوں کے بارے میں کوئی رائے اور کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتے۔ اسی طرح تشخیصی آلات بنانے والے معالجین کے کاموں میں دخل درمعقولات نہیں کرتے۔ اچھے اور بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کام جو بظاہر ایک سے لگتے ہیں میں ایک نمایاں اور قابل شناخت تقسیم کار موجود ہوتی ہے۔

سوال ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔ جواب ہے کہ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ امراض کے علاج کے اس عمل کی پیچیدگی کا نہ صرف پورا علم اور ادراک ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے ذیل میں ماہرین میں اتفاق راے موجود ہے۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی مرض کا علاج صرف ایک شعبہ کے بس کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے شراکت کار اور تقسیم کار کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ اسی لیے مختلف امراض کے معالجین مختلف ہیں۔۔ دوائیں مختلف ہیں۔۔ تشخیص کے طریقے اور ٹیسٹ مختلف ہیں۔کوئی ایک معالج یا دوا تمام امراض کا علاج نہیں کر سکتی۔ ایک معالج جیسے ہی محسوس کرتا ہے کہ مریض کا مرض اس کے دائرہ علم سے باہر ہے وہ مریض کو فورا اس شعبے میں بھیج دیتا ہے جہاں اس کے مرض کا علاج کرنے والے ماہرین موجود ہوتے ہیں۔ ہر شعبے کا ماہر اپنے دائرہ علم میں رہتا ہے اور دوسروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔

علاج تو ایک خاصا پیچیدہ عمل ہے۔ آپ گھر بنوانے کا ارادہ کیجئے آپ کو مختلف کاموں کے لئے مختلف مہارت کے لوگوں کی مدد کی ضرورت پڑے گی گی آپ کا فریج خراب ہوگیا ہے ایک مختلف ماہر چاہیے ہوگا۔۔ ٹی وی سیٹ خراب ہوگیا ہے ایک مختلف ماہر کی ضرورت پڑے گی۔

اوپر جن شعبوں کے ماہرین کی مثالیں دی گئی ہیں یہ سب زندہ معاشروں میں زندوں اور زندگی کے لیے ضروری کام کرنے والے ماہرین کی مثالیں ہیں۔ ان سب ماہرین کو پتہ ہے کہ معاشرے میں زندگی کی رونقیں بحال رکھنے کے لیے ان کی ضرورت بہرحال موجود رہے گی اسی لیے وہ دوسرے کے کاموں میں ناک گھسائے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس مذہبی طریقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو علم ہے کہ ان کے بغیر معاشرے کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا اس لیے ان کے لیے ضروری تھا کہ یہ اپنی ایک Nuisance value پیدا کریں۔ (Nuisance کا ترجمہ اپنی مرضی سے اختیار کیجئے) ان کے لئے ضروری تھا کہ معاشرے میں مصنوعی اور مردہ موضوعات پر اختلافات پیدا کئے جائیں۔ ایسے اختلافات جن کا آج کی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔۔۔ مسئلہ خلافت۔۔ آل اور اصحاب کی اہمیت کا مسئلہ۔۔ رفع یدین۔۔ مزارات کی حرمت و تقدس۔۔غیر اللہ سے مدد۔۔ تصوف عین دین ہے یا متوازی دین۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان مسائل پر شدومد سے گفتگو کی جائے اپنے مخالفین کے لئے روز روز نئے القابات اور فتاویٰ جاری کیے جائیں۔

دوسرے، دنیا کے ہر مسئلے پر رائے دی جائے۔ چاہے اس کے بارے میں علم اور مہارت ہو یا نہ ہو۔ ہر مسئلے کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ ان کی رائے کے خلاف اقدام اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے برابر ہوگا۔ تیسرے یہ کہ ہر نئی فکر چیز، دریافت، اور روش کی مخالفت کی جائے۔ تاکہ سوچنے اور سمجھنے کے نئے اسلوب اور طریقے دریافت نہ ہوسکیں۔ مذہبی طبقے کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی سوچ، فکر اور علم کی اولین مخالفت ان کی طرف سے آئی ہے۔ کیا مثالیں یاد دلانے کی ضرورت ہے؟؟

چوتھے، زندگی کے عام مسائل کے اسباب دین سے دوری میں ڈھونڈ کر یہ بتلایا جائے کہ چونکہ ان کی ہدایت کے مطابق عمل نہیں کیا گیا اس لئے ہمیں مختلف مسائل جیسا کہ زلزلہ، بیماریاں اور سیلاب وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک نسبتاً نیا طریقہ اس طبقے نے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کا اختیار کیا ہے ہر نئی روش اور مسئلہ کو مغرب کی سازش بنا کر عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ لیکن غالبا سب سے اہم طریقہ جو اس طبقے نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ عقیدت مندوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ مذہب ہر مسئلہ کا حل فراہم کرتا ہے وہ مسئلہ چاہے چودہ سو سال پرانا ہو یا آئندہ صدی میں پیش آئے اس کا حل مذہب میں موجود ہے۔ اور اس مذہب جو ان مسائل کا حل اپنے اندر رکھتا ہے کا علم اس مذہبی طبقے کے پاس ہے۔اس لئے اب جو بھی مسئلہ بنی نوع انسان کو درپیش ہوگا اس کے حل کے لئے بجا طور پر مذہبی طبقے سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ وہ چاہے نظام حکومت کے انتخاب کا مسئلہ ہو یا کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کا معاملہ۔۔۔اس طبقے کی رائے کو ہر معاملے میں اہمیت ملنی چاہیے اور یہ طبقہ بہرصورت اس کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی ضمن میں ایک انتہائی گمراہ کن نظریہ جو یہ طبقہ پھیلانے میں کامیاب رہا ہے وہ یہ کہ بےروزگاری صحت اور امن عامہ جیسےمسائل عقیدے کی کمزوری کے سبب پیدا ہوتے ہیں اور عقیدے کو مضبوط کرکے ہی ان سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں بالخصوص مذہبی طبقہ حتی الامکان یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح گفتگو سے باہر نہ ہو پائے۔ ان کو معلوم ہے کہ مسلمان صرف شوال کے چاند کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں تاکہ روزوں کے خاتمے اور عید کے بارے میں جان سکیں۔ اسی لیے سب سے زیادہ اختلاف عیدالفطر کے چاند پر ہوتا ہے۔ ملک میں دو عیدیں اب معمول کا حصہ ہیں لیکن گزشتہ سالوں میں برطانیہ کے مسلمانوں نے عید الفطر کا تہوار تین مختلف دنوں میں منایا۔ کسی کا چاند سعودی عرب میں نکلا، کسی کا پاکستان میں اور کسی کا عراق یا ایران میں۔۔ خود کو گفتگو میں رکھنے کے اس ہنر میں یہ طبقہ اتنا یکتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد وہی لوگ کہ جو ان کا سبب تھے میڈیا پر بیٹھ کر سدباب کی ترکیبیں بتاتے ہیں۔ خود کو گفتگو میں رکھنے کے اس ہنر میں یکتائی اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ وہ صاحبان علم جو بظاہر ان لوگوں کے خلاف ہیں بھی نہیں دیکھ پاتے کہ وہ کس طرح ان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ ذرا سوشل میڈیا اٹھایے۔۔ بظاہر سیکولر نظر آنے والا یہ گروہ کبھی آپ کو خادم رضوی کی ویڈیو شیئر کرتا نظر آئے گا اور کبھی ناصر مدنی کی۔۔۔ ان حضرات کا مذاق اڑانے کی کوشش نے ان دو حضرات کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے یا کمی۔۔۔ یہ سوال خود سے کیجیے۔ حال ہی میں علماء نے کورونا وائرس پر جو پریس کانفرنس کی اس کی ویڈیوز بھی سیکولر طبقے نے شیئر کی۔۔ مقصد ٹھٹھا اڑانا تھا۔ ان ویڈیوز کے نیچے کیے جانے والے تبصروں پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ٹھٹھا اڑانے کی اس کوشش نے ان علماء کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ ایک صاحب نے کورونا وائرس کا علاج دریافت کر لیا ہے.. اس کی ویڈیو بھی اس وقت وائرل ہے۔۔۔اس سے کیا ان صاحب کی مقبولیت میں کمی ہوئی یا اضافہ؟ سیکولر طبقہ مذہبی علماء کی ویڈیوز اور بیانات کو پھیلا کر اس طبقے کو Relevant بنانے کے علاوہ کوئی اور خدمت سرانجام نہیں دیتا۔ ان کی یہ کاوش مذہبی علماء کو گفتگو میں شامل رکھنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مذہبی طبقہ ایک بڑے عالمی سیاسی نظام میں اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے۔ ریاستی اور ریاستی ادارے ان کی پشت پناہی کرتے ہیں ریاستی اداروں کی پشت پناہی اس گروہ کی زندگی ہے۔۔ جب ہم ان کے کسی قول، تقریر، تصویر یا تحریر کو اپنی فیس بک کی وال پر شئیر کرتے ہیں تو ہم انجانے میں ریاستی اداروں کے کام میں ان کے شریک بن جاتے ہیں

ڈاکٹر اختر علی سید

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc