کرونا وائرس غلطیاں،غلط فہمیاں اور احتیاطی تدابیر۔۔

کرونا وائرس نے 197ممالک تک نے اپنی رسائی حاصل کرلی ہے۔COVID19کرونا وائرس کی تیسری نسل ہے،جس نے ابتک دنیا بھر میں 19ہزار سے زیادہ افرادکو ابدی نیند سلا دیا ہے۔،دنیا کی ہر طاقت اس سے خوف زدہ دیکھائی دیتی ہے ۔جس تیزی سے کرونا وائرس اپنی جڑیں پھیلارہا ہے۔کوئی بعید نہیں کہ اس کا نتیجہ عظیم انسانی المیے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔جس کی شروعات ہوچکی ہیں۔کرونا سے چین متاثر ہوا لیکن ان کی بہتر حکمت علمی نے کرونا کو شکست سے دو چار کردیا یہی وجہ ہے کہ کرونا کی جائے پیدائش چین کا معاشی حب ووہان میں نظام زندگی 8اپریل سے بحال ہوگا اور چائنہ نے اس کا باضابطہ اعلان بھی کردیا ہے جو کہ حوصلہ افزا بات ہے۔مگر باقی دنیا میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے،اٹلی میں اس نے تباہی مچادی ہے او ر ساتھ ہی اسپین،ایران اور برطانیہ بھی اس سے شدید متاثر ہیں،آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق کرونا وائرس برطانیہ کی نصف سے زیادہ آبادی تک پھیل چکا ہے،جوکہ پریشان کن مرحلہ ہے۔پاکستان میں بھی کرونا کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے لگے ہیں،کیونکہ اب اسکریننگ کا عمل شروع کیا گیا ہے،لیکن یہ تو ابتدائے عشق ہے۔کورونا وائرس خطرناک نہیں اگر احتیاطی تدابیر اختیا رکی جائے تو۔ احتیاطی تدابیر کی تین قسم کی ہوتی ہیں۔ان میں پہلی قسم یہ ہے بین الااقوامی حکمت علمی، دنیا کی تمام طاقتیں،ممالک،اور تنظیمیں متحدہوکر اس کے حل کے متعلق غور وفکر کریں۔مگر ایسا نہیں کیا گیا،بس تماشا دیکھتے رہے اور انتطار کرتے رہے کہ کب ہم اس کا شکار ہونگے او ر اس متعلق سوچنا شروع کریں گے،نہیں تو کرونا وائرس کی شدت کا اندازہ چین میں پھیلنے والی تباہی سے آویزاں تھا،مگر اس وقت عالمی طاقتیں اس خوش فہمی میں مبتلا رہی کہ چائینہ کا تجارتی،اقتصادی،سیاسی،سفارتی اور معاشی گراف گررہا ہے جو ان چند طاقتوں کے لیے باعث نفع بنا،لیکن دنیا کو ہو ش اس وقت آیا جب کرونا پھیل چکا تھا،کرونا کی زد میں نہ صرف انسان بلکہ معاشرہ کے انفرادی واجتماعی کردار سے لے کر قومی و بین الااقوامی کردار بھی آنے لگے اور پوری دنیا کے ممالک کی اسٹاک ایکس چینج گرنے لگی،مگر اب کافی دیر ہوچکی تھی۔ا ب کرونا سرائیت کرچکا تھا،مگرا ب بھی حالات کنٹرول سے باہر نہیں ہیں،اب بھی مل کر بین الااقوامی سطح کے اقدامات کی ضرورت ہے،ایسے میں امریکہ کو اپنی سفاکیت اورہٹ دھرمی پر نظر ثانی کرنی ہوگی،شام وعراق میں حملے اور ایران پر مزید پابندیاں امریکہ کے مکرو ہ چہرے اورناپاک عزائم کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کس قدر انسان دوست ملک ہے۔بد قسمتی سے بین الااقوامی تنازعات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ انسانی مفادات ان اختلافات اور تنازعات کے بھنور میں دب چکے ہیں۔اس لیے بین الااقوامی ہنگامی اقدامات اٹھانے میں عالمی برادری ناکام رہی۔دوسری طرف دیکھا جائے تو چائنہ کے سوائے کوئی بھی ملک قومی سلامتی کے پیش نظر بھی اس وبا کو روکنے میں ناکام رہا،چائنہ کو تو اندازہ نہیں تھا کرونا کے یوں پھیل جانے کا کیونکہ یہ ایک نئی وبا تھیں اور ایک نیا تجربہ ونئی مشکل،مگر دنیا کے دیگر ممالک کو چائینہ کے حالات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے تھا۔چائینہ میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیائع کے پیش نظر ہر ملک کو قومی سلامتی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت تھیں مگرکسی بھی ملک نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا یہی وجہ بنا کہ ایک ہی مہینے میں کرونا وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا۔اگر ہر ملک قومی سلامتی کے پیش نظر خاطر خواہ اقدامات پیشگی کرلیتے تو نوبت اٹلی،ایران اور اسپین جیسی نہ ہوتی،خاص کر اٹلی جہاں چائنہ سے بھی زیادہ لوگ اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔وجہ پیشگی حفاظتی انتظامات کا فقدان۔یہی مثا ل ملک عزیز کی بھی ہے۔کرونا کے حملے سے قبل ہم بلکل خواب غفلت میں رہے،افسوس ہے حکومت پرحکومتی تھینک ٹینک پر،دفترخارجہ پر قومی سلامتی کے مشیروں پر۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ چائنہ ہمارا دیرینہ دوست ہے،چائنہ سے ہمارے ہر قسم کے تعلقات ہیں او ر پھراس کے بعد ایران،سمیت پاکستان کے پڑوس کے ممالک میں بھی کرونا ظاہر ہونا شروع ہوا مگرہم سوئے رہے۔اگر کرونا کی جگہ ہمسائیہ ممالک میں کوئی تیسری قوت حملہ کرتی تو کیا یہی رد عمل ہوتا ہمار ا،یقینا نہیں ہماری تو نیندیں اڑ جاتی،چین وسکون سب تباہ ہوجاتا،سکھ کا سانس لینا مشکل ہوتا کیونکہ خطرہ آس پاس منڈلا رہا تھا جو کہ اکثر منڈلاتا رہتا ہے۔یہاں اس بات کے ذکر کا مقصد یہ ہے ہم میں وہ بصیرت،وہ دانائی نہیں جوا یک باشعور قوم میں ہوا کرتی ہے۔ہم وہ قوم ہیں جو ظاہری خطرات وفوائد کے پیش نظر فیصلے کرنے پر اتر جاتے ہیں۔نہیں تو کرونا کی یہ سرد جنگ،افغانستان کی جنگ،1965، 1971یاپھر 1999کارگل جنگ سے کم خطرناک نہیں تھی۔راقم کو اس بات کا بر ملا اظہا رکرنے میں کوئی پریشانی نہیں کہ اس جنگ کو ملک کی سرحدوں سے ملک کے شہروں میں لانے تک کا کردار وفاقی حکومت نے بحسن وخوبی نبھایا۔ملک میں کرونا سے متاثرہ سنگل ڈیجٹ کو ٹرپل ڈیجٹ تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ایران سے آئیے ہوئے کرونا سے متاثر چند زائرین کی فورانشاندہی کرکے قرنطینہ میں منتقل کرنے کے بجائے،تفتان کے مقام پر خیموں کے جدید اسپتال بنا کر ایک خیمے میں 50سے100زائرین کو 14سے 28دنوں تک محصور رکھ کر بیش تر زائرین کو کرونا کے مریض بنانے کی جوحکمت عملی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور بلوچستان حکومت نے نبھائی وہ اپنی مثال آپ تھیں،تفتان میں ہنگامی خیام کے نصب کیے جانے پر احساس ہوا کہ چائنہ 10دنوں میں 1ہزار بستروں پر مشتمل اسپتال بناسکتا ہے تو ہم پاکستانی خیمے نصب کرکے چائنہ کی ترقی کو مات دے سکتے ہیں۔وفاقی حکومت کی غیر دانشمندی کا خمیازہ بھگتا ابھی باقی ہے نتائج ابھی شروع ہونے لگے ہیں،آگے کا اللہ مالک ہے کیونکہ ہم مضبوط عقائد والے مسلمان ہیں ہم آگے کا اللہ مالک ہے پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ نے جو کوشش کی تاکید کی ہے وہ اپنی جگہ،لیکن ہم چاہتے ہیں عمل صفر ہو نتیجہ توقعات سے کہیں زیادہ،کوئی بعید نہیں کہ من وسلوی کی توقعات ابھی زور پکڑ رہی ہونگی۔حکومت نے اپنے طور پر جو غلطی کی اس کے اژالے کے لیے اب ضروری ہے کہ ہنگامی اقدامات کیے جائیں،تفتان سے جوزائرین صوبو ں کے حوالہ کیے گئے ہیں ان کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں اور اسکریننگ کا عمل تیز کیا جائے،جو بھی متاثرہو اس کو الگ کرکے آئی سولیشن میں رکھا جائے تاکہ وائرس مزید نہیں پھیلے اور خدا کے لیے وائرس کو مذہبی وائرس بنا کر پیش کرکے حکومت پاکستان اور میڈیا مزید 70ہزار لاشیں اٹھانے کی آرزو مند نہ ہوں،سنجیدہ گی دیکھائی جائے،وائرس کے پھیلانے میں نہ زائرین کا کوئی قصور ہے اور نہ ہی ایران کی کوئی پالیسی اپنی ناکامی،اپنی ناقص پالیسز اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے،یہ وقت نہیں وائرس کو زائرین اور ایک مسلک کے ساتھ جوڑنے کا اور رہی بات کرتا ر پور راہداری پر کروڑوں خرچ کرنے والے تفتان پر بھی نظر کی جائے وہاں پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زائرین کو مشکلات کا سامنا نہ ہو،اور تفتان کے راستے کے اعلاہ دیگر ممالک سے وطن واپس لوٹنے والے 9لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی ذکر ہو تو اچھا رہے گا۔اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ کرونا وائرس کی آڑ میں زائرین پر سر زمین پاکستان تنگ کی جائے تویہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے،تفتان کے راستے ایران کربلا،شام،عراق، اور مدینہ تک جانے کی یہ راہداری بند کرنے کی خواہش مٹ جائے گی کیونکہ یہ راہداری وہ راہداری ہے جو روضہ امام علی رضا،شہید کربلا،حسن مجبتی ٰ،مشکل کشاء،زینب کبرا،انبیائے کرام،خانہ کعبہ،مسجد نبوی،روضہ رسول ﷺ اور جنت البقیع سے ہوتے ہوئے جنت معلی تک پہنچنے کی راہداری ہے ،اس لیے اس راہداری کی راہ میں رکاوٹوں کے قیام کا سوچنے والے اپنے ایمان،کردار پر توجہ کریں۔ابھی کرونا نے پاکستان میں مزید پھیلنا ہے اگر حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہیں کیے گئے تو اٹلی کے حالات پاکستان کے لیے ایک فلم کے پرومو کی طرح ہونگے،باقی کا اندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں۔ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ عوام کو سہولیات فراہم کریں،غریبوں کی ضروریات ان کے گھروں کی دہلیز پر حل کی جائے،داڑی دار مزدور کو راشن اس کے گھر پہنچایا جائے تاکہ وہ بچوں کے ساتھ گھر میں آئی سولیشن میں رہ سکے،دوسری بات ایک شہر سے دوسرے شہر او رایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک کا زمینی راستہ غیر ضروری ٹرانسپورٹ اور آمد ورفت کے لیے بند کیا جائے،اس سلسلے میں سب سے بڑا خطرہ گلگت بلتستان کو لاحق ہے جہاں حالیہ دنوں میں ایک ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار ہوگئے ہیں،گلگت بلتستا ن کی حکومت کے اختیارات کے مطابق اچھے اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں مگر وفاق کا تعاون سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔آگے جاری ہے

تحریر: عبد الحسین آذاد

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc