یاسین کے منجھے ہوئے سیاستدان ۔۔

کہا جا رہا ہے کہ یاسین کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یاسین کے سیاستدان بہت منجے ہوئے سیاستدان ہوتے ہیںروسو ایک عظیم نامور دانشور اور ادیب تھا ، اس کا تعلق فرانس سے تھا۔ انقلاب فرانس سے قبل جب فرانس میں جاگیرداری نظام مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑھے ہوئے تھا، اس وقت روسو نے نہ صرف جاگیرداری نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا بلکہ اس نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس نظام پر ایسی ضربیں لگائیں کہ جس نے اس نظام کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا۔جس کے نتیجے میں نپولین جو فرانس کا ایک سیاسی رہنما تھا اس نے روسو کی فکر کی روشنی میں سیاسی جدوجہد کے ذریعے اس نظام کا خاتمہ کر دیا۔ اس طرح فرانس ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ جسے انقلاب فرانس کا نام دیا جاتا ہے اسی لیے نپولین نے کہا تھا کہ روسو نہ ہوتا تو نپولین بھی نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظالمانہ نظام کی تصویرکشی اس کی تنقید اور نئے نظام کی سماجی اور تہذیبی بنیادوں کی تلاش اور تدوین کا کام اسی دانشور طبقے نے کیا ہے۔سیاسی شعور رکھنے والے عوام کے ان منجھے ہوئے سیاستدانوں کی بدولت یاسین کی عروج اور زوال سے آگاہ کرنے کی کوشش کرونگا۔عوام یاسین نے اُن سب منجھے ہوئے سیاستدانو کو موقع فراہم کیا جو عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے یہاں تک کہ 2 بار بھی آزمایا گیا، لیکن کارکردگی صفر۔یاسین امن،بھائی چارگی،اتفاق اور اتحاد کا نام تھا ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کی سر زمین کا نام تھالیکن سیاست اور سیاسی شعور نے سب سے پہلے یہاں کے لوگوں کو بیگل،خوشوخت،رانا ،ہلبی ،شریفی وغیرہ وغیرہ میں تقسیم کر دیا،پھر محبت کی جگہ نفرت،سچائی کی جگہ منافقت ،بے اتفاقی جیسے بلہ نے جنم لیا،یہی سیاستدانوں نے یہاں کے لوگوں کو مہمان نوازی اور امن کے نام پر بلیک میل کرتے رہے۔یہ نام نہاد سیاسدانوں نے اپنے علاقے کے لوگوں سے زیادہ دوسرے لوگوں کو ترجیع دینا پسند کرنے لگے۔یہاں کے یوتھ کو سپورٹس ایکٹیویٹیس کے لئے گراؤنڈ کے بجائے منشیات کے میدان آباد کرنے کو ترجیح دینے لگے،یاسین میں سڑکوں کی حالات سے آپ سب بخوبی آگاہ ہے جو ان سیاستدانوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،یاسین کے قدیم تہواروں پر سیاست چمکانے اور ان تہواروں کو ناکام کرنے والے منجھے ہوئے سیاستدان،۔مختلف آین جی اوس (NGO’s)کے ترقیاتی کاموں پر کریڈٹ لینے والے سیاستدان، ترقیاتی کاموں پر کوٹ سے سٹے اڈر نکلنے والے منجھے ہوئے سیاستدان،پی ڈبلیو ڈی (PWD) میں ٹھیکوں کے لئے لائن میں کھڑے ہونے والے سیاستدان،ووٹ حاصل کرنے کے لئے لوگوں سے قسم اٹھانے پر مجبور کرنے والے منجھے ہوئے سیاستدان،سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مثالی بنانا ہم سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ہے۔سیاست کی وجہ سے علاقے میں نفرت کے بجائے محبت کوفروغ دینا سب کا مقصد ہونا چاہئے ہے۔

تحریر: صلاح الدین

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc