کرونا وائرس نے حکومتی ترجیحات اور بنیادی سہولیات سے متعلق بے حسی اور عدم دلچسپی کو بے نقاب کر دیا۔

سکردو( اقبال علی اقبال )کرونا وائرس نے صوبائی حکومت کی ترجیحات اور بنیادی سہولیات سے متعلق بے حسی اور عدم دلچسپی کو بے نقاب کر دیا،،، کابینہ میں ماہر ڈاکٹر موجود ہونے کے باوجود صحت کا قلمندان وزیر اعلی نے کیوں اپنے پاس رکھا؟ اس سوال نے حکمرانوں کی ترجیحات کا پول کھل کر رکھ دیا ہے، صرف پی ڈبلیو ڈی دفتر میں نظر آنے والے وزراء اور ممبران کرونا وائرس کے بعد منظر سے ہی غائب ہوگئے ہیں،،، اس آفت اور مصیبت کے موقع پر سنیئر وزیر کی نہ صرف کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی بلکہ ہسپتالوں میں درکار میڈیکل سامان کے حصول سے متعلق صوبائی سطح پر کوارڈینشن میں بھی بلکل نا کام رہے، سنیئر وزیر کی خود غرضی اور زاتی مفادکے لیے خاموش رہنے کی مجرمانہ پالیسی کے باعث جس طرح پانچ سالوں میں صحت کے سارے منصوبے گلگت تک محدود رہے بلکل اُسی طرح آج اس آفت کے موقع پر بھی کرونا کے زیادہ مریض بلتستان میں ہونے کے باوجود میڈیکل سامان گلگت ڈویژن کی نسبت نصف سے بھی کم مل رہا ہے، خوفناک صورت حال سے نمٹنے کے لئے مقامی ڈاکٹروں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں وینٹی لیٹر اور انتہائی نگہداشت یونٹ کی تعمیر کے لیے اپنی مدد آپ چندہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مایوس قرطینہ میں موجود مریضوں نے بھی چندہ مہم میں رقوم جمع کرائی ہے اور اب تک صرف تین روز کے دوران 50 لاکھ روپے جمع کر لیے گئے ہیں، حلقہ ایک کے رہائشیوں محمد افضل، محمد اسلم اور علی مدد نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکومت پانچ سال میں ڈسٹرکٹ ہسپتال سکردو کو ایک وینٹی لیٹر تک نہ دے سکی، سنیر وزیر اور تمام ممبران کی کارکردگی صرف پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکوں کی تقسیم اور کمیشن خوری تک محدود رہی ہے، انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے ڈاکٹر کو انجنیرینگ کا قلمندان دے کر صحت کی وزارت کا قلمندان اپنے پاس رکھا جس کا آج قوم خمیازہ بھگت رہی ہے جہاں پانچ سال میں سارا بجٹ صرف عمارتوں کی تعمیر پر لگایا گیا اور خوب کمیشن کمایا گیا، اور آج قوم کو ویٹنٹی لیٹر پر ڈال کر بلتستان کے سارے صوبائی وزراء گھروں میں قرطینہ میں بیٹھ گئے ہیں اور سرکاری اداروں کی مدد کے لیے سنیئر وزیر سمیت کوئی بھی ممبر دستیاب نہیں ہے،بلتستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے بھی پریس کانفرنس میں میڈیکل سہولیات کی کمی پر شدید افسوس اور خطرے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکردو میں کیسز زیادہ ہیں اور ڈاکٹروں اور میڈیکل کے لیے حفاظتی سامان نہ ہونے کے برابر ہے، اگر صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی جاری رہی تو ڈاکٹر اُسامہ شہید کی طرح کئی ڈاکٹرز جان کی بازی ہار سکتے ہیں، ہمارے نمائندے نے حکومتی کارکردگی جاننے کے لئے جب سنیئر وزیر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون بند ملا، سوشل میڈیا میں بھی لوگ سنیئر وزیر کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے کی زاتی گاڑیاں اور جائیدادیں خریدنے کے لئے ان کے پاس پیسہ ہے لیکن مقامی ہسپتالوں کو ماسک اور دستانے خریدنے کے لئے ایک روپے دینے کے لئے تیار نہیں، لوگوں کی بڑی تعداد نے وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں سے بے حس صوبائی حکومت کو فوری طور پر ختم کر کے پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc