سپر پاورز بمقابلہ کورونا وائرس۔۔

قدرت آج انسانیت سے نالاں ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے عجب افرا تفری کا عالم ہے دنیا آج بے بس ہے ایک چھوٹی سی نہ دکھائی دینے والی مخلوق نے خود کو سپر پاور کہنے والوں کو ناک رگڑنے پر مجبور کیا ہے۔ تاریخ میں لوگ نمرود کے ناک میں جاکر موت کا سبب بننے والے مچھر کی مثالیں دیتے تھے ابرہہ کے ہاتھیوں اور ابابیلوں کی مثالیں دیتے تھے۔ مگر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جونہی انسان نے ترقی کی اور فضاؤں کو مسخر کیا اور اپنی ترقی پر اترا کر قدرت کو بھول کر خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگا۔ قدرت نے پھر اپنا جلال دکھائی اور اس نام نہاد ترقی کا بھانڈہ مچھر اور آبابیل سے بھی چھوٹی مخلوق سے بیچ چوراہے پھوڑ دیا چائینہ کے صوبہ ووہان سے ابھرنے والے کورونا وائرس نے اب پوری دنیا میں اپنے پنجے گھاڑ دئے ہیں اور پوری دنیا کی چیخیں نکلوائی ہیں معیشت کا پٹھہ بٹھا دیا ہے۔ دنیا کے سارے سٹاک ایکسچینج دھڑام سے سر کے بل زمین بوس ہوئی روشنیاں مدھم ہیں رم جھم تاریکی میں بدل گئیں ہیں ۔بازار سکول تھیٹر مدرسے مسجدیں حتی کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سب بند ہیں۔ گلوبل ویلیج آج ہزاروں مسافتوں میں بدل چکے ہیں دنیا کا سارا نظام دھرم برھم ہے، انسانیت ایک دوسرے سے بھگ رہی ہے ،کاروبار زندگی بندہے۔
تادم تحریر دنیا کے قریب دو سو کے ممالک اس وبا کی ذد میں آچکے ہیں لاکھوں انسانوں پر یہ وائرس قابض ہو چکا ہے۔ ہزاروں میں لوگ اس بیماری کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں پوری انسانیت ایک طرف اور یہ نہ دکھائی دینے والی مخلوق کورونا ایک طرف جتنی تیزی سے یہ جراثیم پھیل رھا ہے۔ اتنی اموات نہیں ہوتی ہیں مگر اسکی دہشت باقی بیماریوں کے سبب بننے والے بیکٹیریا اور وائرسسز سے زیادہ ہے۔ اسکا سبب مدر پدر آذاد میڈیا اور سوشل میڈیا جس میں ہر کوئی اپنے آپ کو ماہر کورونا بن کر دھڑا دھڑ بلا تحقیق خبریں نقصانات فائدے اعلاج کے فتوے داغ رہا ہے۔ لوگ ڈاکٹر کی کم ٹرمپ اور بابا پیر عطائیوں کی زیادہ سنتے ہیں اسلئے گلوبل ویلیج مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اب اس وبا سے بچنے کا ایکہی حل ہے، صبر استقامت سے سائنسی بنیادوں پر مقابلہ کرنا ہے۔ نہ اتنا پینک ہونے کی ضرورت ہے اور نہ اتنا لا پرواہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس جراثیم کا اعلاج دریافت نہیں ہوا ہے مگر اس سے بچنے کا طریقہ پرہیز ہے یہ وائرس کورونا تین راستوں سے انسان کے جسم میں داخلہ ہوتاہے ناک منہ اور آنکھوں کے راستے ا س لئےان تین راستوں پر پہرہ دینے کی ضرورتہے۔ پہرہ یہہے کہ احتیاط کی جائے اپنے ہاتھوں کو ان راستوں سے دور رکھا جائے بے جا بھیڑ باڑ میں نہ جایا جائیں۔ اس وائرس سے متاثر انسان سے دور رہا جائے اپنی جسم اور ارد گرد کو صاف رکھنے کی ضرورتہے۔ اپنے ہاتھ ہر کام کے بعد دھو لیا کریں جب تک یہ وبا ءہے۔ اپنے آپکو اپنے گھر تک محدود کیا جائے۔ جب تک آپ باہر جاکر اس وائرس کو گھر خود نہیں لاؤ گے یہ خود آپکے گھر داخل نہیں ہو سکتا خود آبیل مجھے مار نہ کہا جائے یہ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا صفائی کے ساتھ اپنی خوراک اچھی رکھیں گھر پر آرام کے ساتھ خوب سویا کریں۔ گرم پانی فروٹ کا استعمال زیادہ کریں یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی خدانخواستہ اگر کورونا سے متاثر ہو جاتے ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کورونا جتنی تیزی سے پھیلتا ہے اس سے اتنی اموات نہیں ہوتیں اس سے سو افراد میں سے دو یا تین کی اموات ممکن ہیں۔ اس سے کئ اور جراثیم سے زیادہ امواتہ ہوتی ہیں مگر کورونا کا خوف سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ پھیلایا گیا ہے۔ یہ وائرس سب سے زیادہ نظام تنفس سانس لینے کے نظام کو متاسر کرتا ہے جس سے کھانسی سانس لینے میں دشواری اور بخار جسم میں درد عام نشانیاں ہیں۔ اگر کسی کو بھی یہ مزکورہ بالا تکالیف ہوں تو فورا ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ فوری طور پر اعلاج اور احتیاطی تدابیر کی جا سکے یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سارے لوگ پہلے تو اس بیماری کو ماننے سے انکاری ہیں اور بہت سارے اس بیماری سے متاثر ہونے کے بعد بھی چھپانے کی تگ و دو کرتے ہیں اور گھر میں بیٹھے رھتے ہیں جو انتہائی خطرناک اور غیر زمہ داری کا مظاہرہ ہے جس سے پورا خاندان اسکی لپیٹ میں آتا ہے۔ اللہ سب کو اس جان لیوا بیماری سے سب کی حفاظت فرمائیں سب کو حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کر کے ایک اچھا انسان اور شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئے آپس میں متحدہو کر صبر اور استقامت سے اس بیماری کا مقابلہ ممکن ہے افراتفری سے جان چھڑا ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
تحریر : ڈاکٹر محمد زمان خان

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc