ایک سیلفی اپنی کردار کی بھی۔۔۔

ارب ِ کائنات نے قدرت کو جس باکمال وباجمال طریقے سے ترتیب دیا کہ عرش پر فرشتوں نے اپنے رب کی تخلیق پر اس قدر فخر و مسرت محسوس کی کہ کائنات کے ہر کونے پر سجدئے شکر بجالایا گیا اور خدا کائنات کی مہربانی کا عالم دیکھیں کہ اپنی اس باکمال تخلیق کی چابی انسان کے حوالے کردی اور انسان کو اس کائنات فانی کا بے تاج بادشاہ اور اپنی تخلیق کا بلا شریک نمائندہ چنا۔اور اپنی کامل و صادق ترین کتاب(قرآن کریم) کا عنوان کا مظہر بھی انسان کو ہی قرار دیا۔
گویا یہ بات طے گئی کہ انسان زمین پر خدا کائنات کا نمائندے اعلٰی ہوگا جو زمین پرچلنے والے ، آسمان میں اُڑنے والے اور پانی میں تیرنے والے مخلوق کا محافظ و نگہبان ہوگا جن کو خدائے کائنات نے اپنی جوار رحمت سے تخلیق کی۔ اور خدا کے حکم سے باقی مخلوقات کو انسان کا خدمت گاربنایا گیا۔ انسان نے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانا شروع کیا۔حضرت آدم ؑ نے اس زمین کو اسی ذمہ داری کے تحت آباد کرنا شروع کیااور اس آبادی کو حضرت ابراہیم ؑ نے خدائے کائنات اور اس کے نوازشات سے آگاہ کیا، حضرت نوح ؑ نے خدا کی حکم کی تکمیل کا احسن مثال قائم کیا اور آخر نبی ﷺ نے اس دنیا کی بہتری کا راستہ دیکھایاور آخر ت کی کامیابی کا قانون واضح کیا۔ اور اس قانون کی بقا ء کے لیے امام علی ؑ اور امام حسینؑ نے اپنی شہادت کا تحفہ خدائے کائنات کے حضور پیش کیا۔
لیکن آج اکیسوی صدی میں انسان نے اپنے رب کی دی ہوئی ذمہ داری اور اپنے پیغبروں اور بزرگوں کی تعلیمات کونہ صرف فراموش کردیا بلکہ اس ذمہ داری کو خدا کے معصوم مخلوقات پر ہتھیار طور پر استعمال کرتے ہوئے بے رحمانہ اور وحشیانہ ظلم و جبر کا نہ ختم ہونے والا باب شروع کرچکا ہے۔جس زمین نے ہمیں ماں کی طرح شفقت سے آباد کیا اور انسان نے اس سے (زمین) کوبیماریوں کا تحفیِ عظیم پیش کیا۔ انسان سے نہ صرف زمین پر رینگنے والا مخلوق بلکہ آسمان میں اُڑنے والے پرند اور پانی میں تیرنے والا مخلوق کوئی بھی محفوظ نہیںدوسر ے مخلوقات کی تو اللہ کی پناہ، انسان انسان پر ظلم کے پہاڑ توڑتا نظر آتا ہے ۔آج اُس شامی بچے کی بات یاد آتی ہے جس نے کہا تھا کہ وہ خدا کے حضور انسان کی شکایت کرے گا اور شاید اُس بچے نے خدا کے حضو رپہنچ کر انسان اور انسانیت کی شکایت کی ہوگی جس کی وجہ سے آج قدوت نے کرونا وائرس کی شکل میں اپنے اور انسانیت کے اوپر ہونے والے ظلم و جبر کا بدلہ انسان سے لینا شروع کیا ہے۔ اب انسان خدا کے قہرسے اللہ اللہ کا تسبح گن رہا ہے۔ نوبت اس حد تک آ پہچی ہے کہ انسان ،انسان سے ملنے سے ڈرتا ہے اور منہ پر ماسک لگائے ایک دوسرے سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔اے انسان یہ وہی فصل ہے جو ہم نے برسوں بویا، اب فصل تیار ہے۔
لیکن میں اب بھی اپنے رب ِکائنات کی رحم سے ناامید کبھی بھی نہیں کیونکہ اللہ کے ننانوے ناموں صرف ایک نام القھارہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیںکہ انسان کو ظلم و ستم کی کھلی چھوٹ ہے۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ اے انسان ’’ ایک ـسلفی اپنی کردار کی بھیـــ‘‘۔

نوٹ : اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں ، ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے گریز کریں۔ ربِ کائنات ہم سب کا حامی ہوں۔

تحریر : وجاہت عالم ہنزائی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc