لاک ڈاون کیوں ؟ اور چند ضروری اقدام۔۔

کورونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں خوفناک شکل بلکہ سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے اور یہی صورتھال ہماری بھی ہے، اس کی روک تھام کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک بار پھر سب سے آگے بڑھکر مزید بڑا قدم اٹھایا اور صوبہ بھر میں 15 دن کے لئے (اتوار اور پیر کی درمیانی سے)لاک ڈائون کیا ہے ، جو عملاً کرفیو ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے اس اقدام کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے سراہا ہے ، کیونکہ پوری دنیا کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس وبا کے پھیلائو کو روکنے کا واحد حل ’’قرنطینہ (تنہائی) ‘‘ہے۔ یہ بات وزیر اعلیٰ سندھ 27 فروری 2020ء سے مسلسل کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم سب نے اس کو مذاق سمجھا اور آج ہم ایک مشکل امتحان سے دوچار ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس ضمن میں اپنی دو تقاریر میں تاحال نہ صرف کوئی واضح حکمت عملی نہیں بتائی ، بلکہ لاک ڈائون کی عملاً مخالفت کی ہے ، اب وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں وہی بہتر بتاسکتے ہیں ، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آج نہیں تو کل وفاقی حکومت کو لاک ڈائون پر جانا ہی ہوگا ، ایسا نہ ہوکہ کل ہم پر ’’سوجوتے اور 100پیاز‘‘والی مثال صادق آجائے ۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 27 فروری کی پریس کانفرنس(ہم نے خود کور کی ہے)میں ہاتھ جوڑ کر وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ خدا را چیکنگ اور اسکریننگ کا کوئی مناسب انتظام ہونے تک ملک میں ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ داخلی اور خارجی راستے سیل کریں اور ائیرپورٹس پر ہنگامی بنیادوں پر اسکریننگ کاانتظام کریں مگر افسوس کہ اس پر بھی توجہ نہیں دی گئی اور جب توجہ دی گئی تو اس وقت سر سے کافی حد تک پانی گزر چکا تھا۔
پاکستان میں کوورنا کا پہلا مریض اسلام آباد میں غالباً 22 یا23 فروری کو سامنے ا ٓیا مگر 26 فروری تک اس کو پوشیدہ رکھا گیا ، ہم اس کو بھی بہتر حکمت عملی اس لئے قرار دیتے ہیں کہ اس وقت ملک میں پی ایس ایل کا سیزن 5 عروج پر تھا ۔ پہلا کیس سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ، تاہم جب سندھ میں پہلا کیس جب 26 فروری کی شام کو سامنے آیا تو وفاق نے دونوں کا اعلان کیا اور پتہ چلا کہ دونوں کی سفری تاریخ ایران سے منسلک تھی ۔
یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایران سے براستہ تفتان آنے والے زائرین کا سلسلہ شروع ہوا ، افسوس کہ یہاں پر بھی سندھ حکومت کے سوا کسی نے اس کع سنجیدگی سے نہیں لیا اور آج ایران سے آنے والے ہزاروں زائرین نہ صرف اپنے آپ ، اپنے عزیزو اقارب بلکہ پورے ملک کے لئے خود کش حملہ آور بنے ہوئے ہیں ۔ ان کو سندھ میں تو کافی حد تک تلاش کیا گیا ہے مگر باقی صوبوں اور وفاق میں ایسا کچھ نظر نہیں آرہاہے۔ سندھ حکومت نے ایران کے بعد شام اور سعودی عرب سے آنے والے افراد میں سے کچھ کیس سامنے آنے پر ان کا ڈیٹا بھی حاصل کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ حالیہ دو ہفتوں میں سعودی عرب سے آنے والے تقریباً 11 ہزار افراد سے رابطہ کریں اور ان کو از خود تنہائی کے لئے ہدایت کریں اور ان افراد پر مکمل نظر رکھیں ، ضرورت پڑنے پر ان کا ٹیسٹ بھی کریں ۔ حکومت سندھ کے دعوے کے مطابق انہوں نے زائرین کو لیکر جانے والے گروپوں اور اداروں سے دو ماہ کا ڈیٹا حاصل کیا ہے اور ان افراد سے رابطہ کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زائرین کی اصل تعداد ظاہری تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہی صورتحال دیگر متاثرہ آنے والے مسافروں کی ہے۔ایران سے آنے والے مسافروں پر اس لئے زور دیا جارہا ہے کہ ایران ان ممالک سب سے زیادہ متاثر ہے ، جن ممالک سے ہمارے گہرے اور بڑے پیمانے پر ابطے ہیں اور کیسز بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اب اٹلی اور دیگرممالک پر بھی سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایران نے جب سے لاک ڈائون کیا ہے ، اب وہاں حالات میں بہتری آرہی ہے۔
سندھ حکومت کو ان مشکل حالات کا ادراک تھا یہی وجہ ہے کہ 16 مارچ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم پاکستان سے ٹیلی فون پر رابطے میں بالاقوامی اور بین الصوبائی سرحدیں سیل کرنے کے ساتھ لاک ڈائون کی تجویز دی مگر افسوس کہ اس پر بھی عمل نہیں ہوا اور مجبوراً حکومت سندھ نے خود صوبے میں یہ عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور 23 مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی عمل شروع ہوچکا ہے۔ حکومت سندھ نے مکمل ہوم ورک کے بعد سخت قدم اٹھایا ہے اور اس سے پہلے تمام اداروں اور خود تحریک انصاف کی صوبائی قیادت سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور شخصیات کو اعتماد میں لیا ، یہی وجہ ہے کہ آج کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو لاک ڈائون کی مخالفت کررہا ہے ۔ یہ فیصلہ یقیناً مشکل بھی ہے اور اس سے مسائل بھی پیدا ہونگے مگر اس مہلک وبا سے بچنے اور اس کے روک تھام کا یہی راستہ ہے۔ اب یہ بھی ضروری ہے کہ لاک ڈائون پر سختی سے عمل کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا بھی دی جائے ۔ حکومتی ہدایات پر عمل کیا جائے تو کسی جائز ضرورت مند کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی ، تاہم ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
مسائل میں سب سے اہم مسئلہ روز کے روز کمانے والے طبقے کا ہے ، اب اس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک کر توجہ دینا ہوگا اور چند اقدام کرنے ہونگے ۔
(1)مجبور اور مزدور کے کی اشیاء ضرورت کے لئے وفاقی اور حکومتیں ٹول فیری نمبر جاری ، انٹرنیٹ میں سہولت فراہم کریں، تاکہ ان مشکلات حالات میں کوئی اشیاء ضرورت کی وجہ سے کسی اور مشکل کا شکار نہ ہوسکے اور لوگوں کو آسرا بھی ہوگا کہ ہم بے سہارا نہیں ہیں ۔یہ اعلان بھی کیا جائیے کہ ضرورت مند اپنے شناختی کارڈ (جوگھر کے سربراہ کا ہو)کا مکمل اندراج کریں اور ان کو بھی آگاہ کیا جائے کہ یہ فہرست کسی بھی وقت آویزاں کی جائے گی ۔ ا س کا فائدہ یہ ہوگا کہ دو نمبر لوگوں کے شر سے محفوظ رہا جاسکےگا اور صرف ضرورت مند ہی کو فائدہ ملیگا۔
(2)حکومتی پالسی کے مطابق جب کم سے کم 15 دن کاروبار اور آمدنی متاثر ہوگئی تو یقیناً گھروں اور دوکانوں کے کرایہ داوروں کو شدید مشکلات ہونگی ، اگرچہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالک مکان و دوکان سے رعایت کی اپیل کی ہے مگر عمل بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے ، اس لئے حکومت اپیل کی بجائے حکم دے اور لاک ڈائون کے ایام کا کرایہ معاف کردے ، اس سے سب کو فائدہ ہوگا۔
(3)عوام حکومتی سختی کا انتظار نہ کرے بلکہ خود لاک ڈائون میں سختی سے عمل کرائے ، بالخصوص گلی محلوں کے بزرگ ، بااثر افراد یا جن علاقوں میں محلہ کمیٹیاں یا سوسائٹیز ہیں وہ اہم کردار اداسکتے ہیں۔
(4)اپنے قرب و جوار پر نظر رکھیں تاکہ کوئی فرد کسی مالی مشکل کی وجہ سے کسی مصیبت کا شکار نہ ہوسکے ، لوگوں کی مدد میں پیش پیش رہیں مگر ماہرین کی ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے۔
(5)مخیر حضرات لوگوں کی مدد کریں اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے رمضان المبارک کا انتظار نہ کریں بلکہ ابھی سے ہی آغاز کریں ۔
(6)ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں پر سخت نظر رکھی جائے اور ان کو نشانہ عبرت بنایا جائے ۔
(7)افواہوں کو پھیلانے یا افواہوں کا ھصہ بننے سے مکمل گریز کریں، ملوث افراد کے خلاف حکومت بھی سخت ایکشن لے۔
(8)کسی علاقے میں کوئی ایسا فرد یا افراد موجود ہوں جنہوں نے متاثرہ ممالک کا حالیہ دنوں سفر کیا ہے یا سفر کرنے والوں سے ملاقات کی ہے ، ان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ حکومت کو تفصیلات فراہم کردیں تاکہ حکومت مزید کارروائی کرے۔
(9)حکومت اداروں ، افراد، ہیلتھ کے عملے اور دیگر کئ ساتھ مکمل تعاون کریں۔
(10)اللہ تعالیٰ نے جن کی عطاء کیا وہ لوگوں کی مدد کریں اوراپنے اخراجات میں اسراف سے گریز کریں اور لوگوں کی مدد پر توجہ دیں۔
(11)خود بھی گھر پر رہیں اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کریں ، گھروں پر عبادات ،مطالعہ اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں ۔
اگر ہم نے سنجیدگی سے عمل کیا تو انشاء اللہ تعالیٰ اپریل کے پہلے ہفتے میں ہمارا ملک اس وبا سے پاک ہوگا ۔

تحریر:عبدالجبارناصر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc