بلبل یاسین ضلع غذر گلگت بلتستان

بلبل یاسین تخلص، بلبل مراد نام، اپنے نام کے ساتھ یاسین کے اضافے کے ساتھ تخلص رکھنے والا بلبل مراد ہویلتی (سلطانآباد) یاسین میں 1955 ء میں آنکھ کھولی اوریہ سلطان آباد کے محمد بیگے قوم کا چشم و چراغ ہیں،ابتدائی تعلیم ہویلتی یعنی سلطان آباد سے حاصل کی اور چوتھی اور پانچویں جماعت گورنمنٹ پرائمری سکول تھوداس یاسین سے پاس کر کے گورنمنٹ مڈل سکول گوپس میں داخلہ لیا آٹھویں پاس کر نے کے بعد اس وقت کے گلگت ایجنسی کا اکلوتا ہائی سکول گلگت میں داخلہ لیا اور شاہ کریم ہاسٹل کونوداس میں رہائش رکھتا تھا 1972 ء میں میٹرک کا امتحان دے کر ڈی جے سکول سلطاں آباد میں 1975 میں بطور مدرس مقرر ہوے اور اپنی عمر عزیز تعلیم و تدریس میں گذاری اور اے کے ای ایس پی سے 2011 ء میں 36سال کی خدمات کے بعد پنشن حاصل کیا، اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ مذہبی طور پر بھی پوری زندگی اسماعیلی طریقہ بورڈ اور کونسل میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ مذہبی سکول سے بھی ساری عمر منسلک رہے۔ 1972 ء سے 1996 ء تک مذہبی تعلیم بھی شام کے اوقات میں دیتے رہے اور اسماعیلی کونسل کے سکریٹری، اسماعیلی طریقہ بورڈ کے چیرمین، اکنامک پلاننگ بورڈ کے کوارڈینٹر اور اسماعیلی ولنٹیر کور کے بھی سکریٹری رہ چکے ہیں۔ ان کے شاگرد آج بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور ملکی خدمات اور ترقی میں ہمہ کوشاں ہے،پنشن کے بعد بھی وہ اپنے معاشرتی کام یعنی سوشل کام میں ہمہ وقت جتے نظر آتے ہیں۔ پنشن ہونے کے بعد ان کا ایک اور پہلو یاکارنامہ اجا گر ہوا وہ ان کی شاعری تھی۔ ان کی شاعری کا موضوع یاسین،یاسین کی تاریخ، یاسین کے ہیرو،یاسین کی ثقافت، اور برشاسکی اور اس کی ڈوبتی ناؤ کی بقا ہے، اس کے دو ترانے خاص کر،ترانہ یاسین اور شہید لالک جان نشان حیدر آنے والے زمانے میں ہو سکتا ہے کی بروشاسکی نصاب میں شامل ہوں، اس کے علاوہ ان کے پاس ایک ذخیم تعداد میں غیر مطبو عہ شعری مجموعہ ہے جو آنے والے دور کے لئے اور نوجوانوں کے لئے ایک اہم سنگ میل کی حثیت رکھے گی، ان کی شاعری سے یاسین کی ثقافت جھلکتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف زرمیہ شاعری اور علاقے کے گمنام ہیرو بھی بردہ اخفا سے پردہ سکرین پر ابھرتے نظر آتے ہیں، جہاں یاسین کی تاریخ کو اجاگر کرتے ہیں تو دوسری طرف یاسین کی ندی نالوں،سرسبز میدانوں اور آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں کو کوہ سینین اور یارقند کے قالین سے مماثلت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم و تدریس کے آ غازکے ساتھ ساتھ ادارے کی جانب سے یہ ذمہ داری گئی کہ لڑکیوں کو سکول میں داخل کرنے کی مہم کا بھی آغاز کروں،توگھر گھر جاکر لوگوں کو عورتوں کی تعلیم کے بارے میں سمجھانا ایک طرح کی جوئے شیر لانے کا مترادف تھا اور جب میں نے کوئی بیس سے تیس لڑکیوں کو سکول میں داخل کرایا تو کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا کہ تم نے یہ کفر کیا اور لڑکیوں کو انگریزی تعلیم کی طرف متوجہ کر اتے ہو اور ہمارے معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کر رہے ہو بہر حال میرا مشن کامیاب ہوا اور بہت سے والدین نے میرا ساتھ دیا اور آج یاسین کی بچیاں، ڈاکٹر، انجینیر، یہاں تک کہ پی ایچ ڈی بھی کر چکی ہیں، اور ان کا یہ بھی کہناتھا کہ میں اس زمانے میں جب مجھ پر حملہ کیا گیا کے خلاف پہلا شاعری کیا تھا جو کہ پنشن کے بعد بام عروج پر پہنچ گیا۔ ان کے دو ترانے قاریین کے نذر کرتا ہوں۔ بلبل یاسین زندگی دو بڑے ہادثوں سے دو چار ہوا جب ہم چھوٹے تھے تو فٹ بال تو میسر نہ تھا اس کی متبادل ہم پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں کو جمع کر کے گیند بناکر سلائی کر کے فٹبال کھیلتے تھے یا پیدل پولو کھیلتے تھے جو ہاکی کی طرح کا کھیل تھا لیکن پولو سٹک سے یا درخت کے ہاکی نما ٹیڑھے شاخوں کو کاٹ کر ہاکی کی طرح بناکر جس کو بروشاسکی اور کھوار میں کاؤشھیر کہتے ہیں ان سے پیدل پولو کھیلتے تھے اور ہمارے گاؤ ں کے ساتھ دریائے یاسین کے کنارے بہت بڑا جنگل تھا جس کے ایک کنارے پرایک چھوٹا سا میدان تھا جس میں کبھی کبھی گدھوں پر سوار ہو کر پولو کھیلتے تھے ایک دن میں نہیں تھا تو ایسے ایک کھیل کے دوران بلبل یاسین گدھے سے گر کر بازو ٹوٹ گیا، جس کو ایک کاشغری ڈسپنسر نے دیسی طریقے سے کھینچ کر دونوں اطراف میں لکڑی ک ک باریک تختے باندھ کر پٹی کیا اور ایک ماہ بعد ٹھیک ٹھاک ہو گیا اس وقت یہی سب سے بڑا ڈاکٹر ہوتا تھا اور دوسری مرتبہ بہت عرصے تک ٹانگوں میں شدید درد ہوا اور یہاں تک کہ چلنے سے معزور ہوا لیکن بہت علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ دعا وغیرہ کراکر پھر سے صحت مند ہوا، اور اپنی زندگی کو مذہبی خدمت کے ساتھ ساتھ سوشل کاموں میں گذارا اور آج بھی ہمہ تن تیا ر رہتا ہے اللہ سلامت رکھے۔

(لالک جان شہید نشان حیدر )
لالک جان بائے جہ بتھانے سلسلہ کابلے شغنان سلامہ دیشقلتی می حویل یہ دوھٹے طوفان
ہاین گو ہنگ چے سًُورا رحمت باران لالک جان بشہ کہ تل ا میلچن گو ایتُم احسان لالک جان
کا ر گلے ہر دَن یٹے شہید یشو دوا ملتن ما ملتن ہمیش زندہ بہشت برین ہاین
منا گوشً کھا ٹ اَیتُم جغا نی غا گو کھرا یَن شہید یارایو نویا بہشت گون گو سًَر لالک جان
جنگ خبر دے یل گونزنگ فت نت رہی ایتی غانک سفر ا ٓے تی کا ٹ سًُو می اِییا تتی
ٓ ایسُم برنگ شوُا نت ہمت نی چھی ھو دوغٹی کار گلے نا وارسًھ چھر کہ گو حقا میدان لالک جان
گو ویلجی برنگ عیان گو منہ شیر خانہ یاران چھیش یا ٹے اُن نکو ئچ منے مِن دشًمیو حیران
تسقن دو سًو چیمی غان دیشقلتم بائے نارتھے جوان گویک ہمیش دواسی تاریخ تابان لالک جان
سًِلے اُ ن قق نکومن تا بش آفتابہ دریش مرید حسین ؑ اُن با امر ہر حکمتہ دو نیش
ہمت اُن گویا اِیتا منے کا اکوتی بندیش وزیر، جرنیلے ایتی گو ہنگ چے نعرہ لالک جان
غیرت اسلام نیا جوشولے ہیک نارہ دیلی یارایو شہید منین یسنے شیر زخمی منی
ہول سًُو را ایو منین دومین زندہ فت آئے تی اوسکو مورچہ ینگا نکون تے تھپے پارہ لالک جان
گو ینگا با لت اپامے بلبلے یاسینے ارمان بشہ کہ اتو شیمی گو اِیتُم احسان لالک جان
بتھنے یک دیو سم پاکستان شان لالک جان ہاین گو ہنگ چے سًُورا رحمت باران لالک جان

ایک ترانہ (ترانہ یاسین)
قرآن یک با یاسین اسلامِ ایس با یاسین اُن با عجیب حسین لے جہ بابائے یاسین
غازی تنگے ہاین با شہید یشو ملتن با اسلامے بٹ نیو کھن با اُن با حیدر مُسکین
مستوج چم تا بشام خاشً حک مت گُر گنم حکیم برنگ اکھر چم اپی تاریخ رقم مبین
بیارچی ہو لے کورنگ دیشقلتین بڈل بدنگ کُھل اوتین ہِن ہِن نو سًَن و ا جہ شیر کو ٹی یاسین
قر غزے ہول کا دو مین قلمقے فوج کا دو مین بخدور مہری مہ یر نت اوتین ہک دمہ سازین
افواج گوہرامان با دلباز مہری جان با ہر جنگہ لالک جان با گوتے دنیا غا یقین
لالکے کارگل گُر گُنی قصاص مڈوری ینی نشان حیدر دو سًُو می حیدر گو یک لے یاسین
چھمو گڑھ سکھ کہ دولاس کا رگلے چھر کہ براس گوتے گو یرم میراس ان بشہ رک لے یاسین
گو سًِل شرابے شیرین گو چھر می کوہ سینین جوتنگ یارقند قالین سًَن جنت با لے یاسین
علمے ہنر ایتنگ مہ سفر جاری ا وسنگ مہ برنگ اثر منیش ما گو کے جا اسے غرنگ
اُن پاکستانے حہ با لے بزرگانے سًَغۃ می یر اسلا مے سہ با سِن لے بلبلے یاسین
قرآن یک با یاسین اسلامے ایس با یاسین
ان با عجیب حسین لے جہ بابائے یاسین

تحریر: جاوید احمد

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc