راجہ گوہر امان کی تاریخ۔۔

عبدالحمید خاورنے اپنی کتاب تاریخ اقوام دردستان و بلورسان کے صفحہ نمبر 32 میں ذیلی عنوان تاریخ راجگان دردستان میں یوں رقم طراز ہے کہ ا ٹھارویں صدی سے قبل اس قوم کی تاریخ پر جاہلیت کے بادل چھائے ہوے ہیں علاقہ دردستان کے مقامی حکمرانوں میں سے صرف راجہ گوہر آمان وہ واحد مجاہد ہے جس نے قوم درد کو منظم کر کے سکھوں اور ڈوگروں کو پیہم شکستیں دیں اور ان کو اس علاقے سے باہر دھکیل دیا ،اگر چہ اندرونی طور پربھی کافی ظلم و جبر روا رکھا۔ان کی وفات کے بعد اس قو م کا شیرازہ بکھر گیا ۔
خوشوقت
!
شا عالم
!
بادشا
!
ملک آمان
!
زوجہ اول
!
دوری آمان گوہر آمان میر آمان
گوہر آمان کی پہلی بیوی سے ملک امان اور میرولی تھے جو کہ امان الملک کی پھوپھی تھی جبکہ دوسری بیوی سے غلام محی الدین المعرف پہلوان بہادر تھے جو کہ امان الملک کا بھانجہ اور داماد تھا اور پہلوان بہادر کے تین بیٹے شا عبد ر حمان خان ( وفات منم )، بعد از موت ان کو کہاجاتا ہے ) دوسرا بیٹا محمد رحیم خان المعروف مجی غشٹی یعنی منجلہ اور تیسر ا محی الدین المعروف چق مہتر یعنی چھوٹا مہتر (راجہ)
تاریخ کی کتابوں میں ہر ایک نے چاہے وہ فرنگی ہو یا سکھ اور ڈوگرہ یا گوہر امان سے مفت کا بھیر رکھنے والے مقامی لکھاری سوائے چند ایک کے ، سب نے گوہر امان کو ایک ظالم ، جابر اور سفاک حکمران کے طور پر دکھانے کی کوشش کی ہے ، حالانکہ یہ بات صاف طور پر سمجھ میں آنے والی ہے کہ فرنگیوں ، سکھوں اور ڈوگروں کے خلاف سوائے خوشوقتیہ خاندان کے حکمرانوں کے، کسی نے وہ مذاہمت نہیں کی جو ان کو اپنے ملک کو ان غیر ملکیوں سے محفوظ رکھنے کی غرض سے کیا جانا چاہئے تھا ۔ خوش وقتیہ میں بھی گوہر امان وہ واحد شخص تھا جس کو میں دل
سے غازی گوہر امان کہتا ہوں جس نے 1837 سے 1860 اپنی موت تک سکھوں، ڈوگروں اور فرنگیوں کی مخالفت کی ، کئی جنگیں لڑی ،جن میں اس کو پسپا بھی ہو نا پڑا لیکن آخر کار اس نے سکھوں اور ڈوگروں کو گلگت سے نکال کر دریا سندھ پار تک دھکیلنے میں کامیاب ہوا ،جتنا عرصہ وہ لوگ اس کی زندگی میں اس ملک میں رہے گوہر امان نے ان کا جینا حرام کیا تھا اور ہر وقت وہ لوگ گوہر امان سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ 1852 سے 1860 تک ان کو وہ شکست دی کہ اس کی زندگی میں دریا سندھ کی اِس طرف آنے کی جرات نہیں ہوئی۔ چونکہ استور والوں نے کئی دہائی پہلے ہی مہاراجہ کو آ بیل مجھے مار کے مصداق چیلاسیوں کی بار بار لوٹ مار سے تنگ آکر اپنے ملک میں بلایا تھا کہ ان کو چیلاسیوں کی لو ٹ مار سے نجات دلائے ، لیکن سکھوں اور ڈوگروں نے استور میں پکے تھانے قائم کر کے اور اپنی مرضی کا ٹکس لگا کر استور پر 1947 تک حکومت کی۔
یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ ان غیر ملکیوں نے گوہر امان کو اس لئے ظالم دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے اپنے تیئس سالہ دور حکومت میں ان کو گلگت کی سرزمین پر ٹھیرنے نہیں دیا اور ہر وقت ان کے ساتھ بر سر پیکار رہا،اور ان کو بونجی سے پار ہی رہنے پر مجبور کیا وہ تو اس لئے اس کے مخالفت میں جو کچھ لکھا تو لکھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ مقامی لکھاری معلوم نہیں گوہر امان یا سلیمان شاہ کو ہی ظالم دکھانے کی کیوں کوشش کرتے ہیں ، کیا شیری بدت کی ظلم ان کو نظر نہیں آتا یا کوئی بھی راجہ جو اس وقت کے حالات کے مطابق چاہے وہ کسی بھی خاندان یا علاقے یا ملک کا راجہ ہو کوئی بھی متقی نہیں ہو تا تھا ، کیا علی شیر خان انچن سکردو سے ادھر کے تما م علاقوں کو تاراج کرتے ہوے چترال تک نہیں پہنچا تھا کیا اس نے یہاں کی دولت کو نہیں لوٹا تھا کیا ایک بندہ بھی قتل کئے بغیر ان علاقوں کو فتح کیا تھا۔ کیا وہ اچار ڈالنے آئے تھے کیا اس نے گلگت کے علاقہ حراموش کو بلتستان سے نہیں ملایا تھا کیا یہاں سے لوگو ں کو ساتھ لے جاکر بلتستان میں نہیں بسایا تھا ، اسی طرح کیا ہنزہ اور نگر کے راجے ایک دوسر ے کے خلاف بر سر پیکار نہیں رہتے تھے کیا وہ ایک دوسرے کو قتل کئے بغیر لڑائیاں لڑتے تھے ، ششکٹ کا نام ششکٹ کیو پڑ گیا کیا کسی کو پتہ نہیں ہے ، تو جناب عالی یہ اس زمانے کا دستور تھا کہ ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے پر حملہ کرتے تھے لوٹ مار کرتے تھے دولت اور غلام حاصل کرکے چلا جاتے تھے حکومت کرتے تھے ۔ لیکن صرف گوہر امان یا سلیمان شاہ کو ظالم کیوں کہا جاتا ہے ، ان تمام باتو ں سے صاٖ ف ظاہر ہو تا ہے کہ سوائے بغض اور عناد کے کچھ بھی نہیں
آئے دیکھتے ہیں کہ کیا گوہر امان نے اپنی حکومت قائم کر نے کے لئے کریم خان یا عسیٰ بہادر کی طرح ڈوگروں یا سکھوں کو دعوت دے کر گلگت لایا۔ کیا کسی غیر ملکی کی مدد کر کے گلگت کو فتح کیا یا کہ سکھوں اور ڈوگروں کو مار بھگانے کے لئے گلگت پر حملہ آور ہوا ، اگر ایسا ہے تو پھر گوہر امان وہ واحد ہیرو ہے جس نے ایک حریت پسند ہیرو کا کردار ادا کیا ہے جس نے سکھوں اور ڈوگروں کو دریا سندھ پار دھکیل دیا اور ان کو ناکوں چنے چبا نے پر مجبور کیا ۔
گوہر امان نے 1840 میں گلگت پر حملہ کر کے راجہ سکندر کو سنیکر بگروٹ کے قلعے میں چھ ماہ تک محاصرہ کر کے شکست دی اور گلگت پر
حکمران بنا اور راجہ سکندر قتل کیا گیا اور کریم خان مہاراجہ کشمیر کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور امداد طلب کی اور سید نتھو شاہ کی سر کردگی میں گلگت پر حملہ آور ہوا اور گوہر امان جنگی حکمت عملی کے تحت گلگت سے پونیال کی طرف کوچ کر گیا اور گلاپو اور بیارچی کے علاقے میں مورچہ بندی کر کے زبردست تیاری کیا اور کشمیر سے متھرا داس ایک بڑی فوج لے کر اس گمنڈ کے ساتھ آیا تھا کہ وہ گلگت کے علاوہ باقی سارے ملحقہ علاقے بھی فتح کر کے ڈوگروں کی حکمرانی میں شامل کریگا لیکن شومئی قسمت سے غازی گوہر امان کے فوج کے ہاتھوں ایسی شکست کھائی کہ واپسی پر سیداھا کشمیر جاکر دم لیا۔ یہ یاد رکھئے اس لڑائی میں یاسین برکولتی سے تعلق رکھنے والے ( قوم ہلبی تنگے اور غلباشیرے ) کے جد امجد دو چچا ذاد بھائی بوڈول اور بدنگ نے ایسے بہادری کے جوہر دکھائے کہ کہتے ہیں کہ گوہر امان جب شیر قلعہ سے میدان جنگ میں پہنچا تو وہاں لاشوں کے انبار کے انبار کے علاوہ کچھ نہیںتھا ۔
عبدالحمید خاور اپنی کتاب ’’ تاریخ اقوام دردستان اور بلورستان ‘‘ کے صفحہ نمبر 80 کے ہاشیہ میں یو ں لکھتا ہے کہ ’’ یہ روایت غالباََ بالکل درست نہیں کہ گوہر امان سکھ فوج کی آمد کا سن کر گلگت خالی کر کے بھاگ گیا تھا، گوہر امان بغیر جنگ کے بھاگنے والا شخص نہیں تھا ۔یہ کوئی جنگی چال ہو سکتی ہے کیونکہ بعد میں متھرا داس ، نتھو شا اور راجہ کریم خان کے متحدہ فوج کا جو حشر گوہر امان نے گلاپور کے مقام پر کیا تھا اس سے سب واقف ہیں ‘‘ کریم خان کی مہاراجہ کو دعوت دے کر گلگت پر حملہ کرانے کی وجہ سے گلگت اور ملحقہ علاقوں کو، گوہر امان کی موت کے بعد آئندہ 88 سال تک غلام بنانے کا موقع ملا ۔ لیکن گوہر امان نے اپنی دور حکومت میں ان کو چین اور سکھ سے حکومت نہیں کرنے دیا۔ جب متھراداس سید نتھو شاہ اور راجہ کریم خان نے یاسین کی طرف ایک زبردست فوج لے کر کوچ کر کے بیارچی کے مقام پر پہنچ گئے تو گوہر امان کے شیر دل فوج نے ان کا وہ حشر کیا کہ متھرا داس تو بھا گ کر سیدھا کشمیر پہنچ گیا ۔
عبدلحمید خاور کی کتاب کے صفحہ 79 پر یو نقشہ کھینچا ہے کہ ’’ متھراداس اپنی فوج لے کر گلگت پہنچ گیا اور کچھ دن آرام کے بعد گوہر امان پر حملہ کر نے کی تیاریاں کر نے لگا اور اُدھر گوہر امان نے یہاں سے جاکر زبردست دفاعی تیاری کر کے گلاپور میں مورچے قائم کئے اور یہاں گلگت سے مکمل خبریں حاصل کرتا رہا ۔ متھراداس جب آگے بڑھا تو سامنے دشمن کے فوج کو دیکھا لڑائی شروع ہوئی تو طرفین سے گولیاں بارش کی طرح برسنی شروع ہوگیئں ، بہادر کٹ کٹ کے گر رہے تھے آخر کار گوہر امان کی فوج کا پلہ بھاری رہا۔ جب سکھ فوج پسپا ہو کر بھاگنے کی کوشش کر نے لگی تو گوہر امان نے ایک دستہ فوج پہاڑوںکے اوپر سے روانہ کردیا تاکہ سکھوں کا راستہ بھاگنے کے لئے بند کر دیں۔ اُدھر خود سامنے سے زبردست ہلہ بول دہا ۔ سکھ فوج جب بھاگنے کے لئے پیچھے مڑی تو سامنے سے دشمن راستہ روکے کھڑا تھا یہ حالت دیکھ کر سکھ فوج کے اوسان خطا ہو گئے اور افراتفری کے عالم میں اپنے اور دشمن کے سپاہیوں میں امتیاز نہ کر سکے ، بے تحاشہ تلواریں چلیں ، سکھوں کی تلواریں بجائے دشمنوں کے خود سکھوں ، کو اپنے ساتھیوں کو کاٹ رہی تھی ۔ گوہر امان نے جب یہ حالت دیکھی تو اپنے سوار دستہ کو آگے بڑھایا جس نے سونت سونت کرتلوار چلایئں ، خون کی ندیاں بہنے لگی ۔ مختصر یہ کہ متھراداس چند سو سواروں کو لے کر مشکل سے جان بچا کر گلگت پہنچا اور یہاں پر دم لئے بغیر سیدھا کشمیر چلا گیا ۔اس پسپائی کے بعد فریقین کے مابین صلح کے لئے نامہ و پیام کا سلسہ جاری ہوا اور گوہر امان اور نتھو شاہ کے درمیان صلح ہوگئی۔
1852 میں گوہر امان نے دوبارہ گلگت پر حملہ کر کے راجہ محمد خان ثانی سے حکومت چھین لی اس میں وزیر رحمت کا بھی اہم کردار تھا۔ گلگت
میں ڈوگرہ فوج دو حصوں میں تقسیم تھی ایک حصہ نوپورہ کے قلعے میں اور دسرا حصہ گلگت خاص میں مقیم تھا۔ گوہر امان نے حملہ کر کے دونو ں قلعوں کو الگ الگ محاصرہ میں لے لیا۔ گلگت خاص کے قلعے سے ایک سکھ کمانڈر کی قیادت میں 200 فوجی نوپورہ کے قلعے کی محصورین کی امداد کے لئے روانہ ہوئی ۔ ان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ نائی کوئی کی جانب سے اور دوسرا دستہ براستہ بسین سے روانہ ہوے بالائی دستے کو گوہر امان کی فوج نے صفایا کیا لیکن بسین والا دستہ کسی طرح نوپورہ کے قلعے میں گھسنے میں کامیاب ہوا لیکن محاصرہ کی شدت اور خوراک کی کمی کی وجہ سے ڈوگرہ فوج نے بات چیت کیا اور ان کو صلح کی بنا ء پر گلگت خاص جانے کی اجاذت مل گئی ۔لیکن راستے میں گوہر امان کی فوج اور ڈوگروں میں جھگڑا ہوا اور ڈوگروں کو گھیر کر گوہر امان کے فوج نے سب کو مار دیا اور ادھر گلگت خاص کے قلعے میں مقیم فوج کا بھی صفایا کیا گیا ، کہتے ہیں کہ صرف ایک بوڑھی عورت جان بچا کر کسی طریقے سے دریا سندھ کے کنارے پہنچے میں کامیاب ہوئی اور ایک گائے کا دم پکر کر گائے کو دریا میں ڈا ل کر ھانکر دوسری طرف نکل گئی اور بونجی میں مقیم فوج کو یہ خبر سنائی اور زندگی بھر مہاراجہ کشمیر سے وظیفہ لیتی رہی۔
1854 میں چیلاسیوں نے استور میں لوٹ مار مچائی تو استور والوں نے مہاراجہ سے امداد کی اپیل کی اور آبیل مجھے مار کے مصداق ڈوگروں کو بلایا تو ڈوگروں نے چیلاس کی باغیوں ی سرکوبی کی اور پھر چکر کوٹ سئی پر حملہ کیا جب گوہر امان نے گلگت میں یہ خبر سنی تو اس نے داریل اور تانگیر والوں کو بھی پیغام بھیجا اور 5000 بہادروں کا ایک دستہ پہنچ گیا ،گوہر امان کے اپنے فوج کے 3000 سوار اور 2000پیدہ دستے ملا کر دس ہزار کا فوج ڈوگرہ فوج پر بلائے ناگہا نی اور قہر خداوندی بن کرٹوٹ پڑی ، گوہر امان کے بیٹے ملک امان کی زیر قیادت فوج نے ڈوگروں کی کشتوں کے پشتے لگا دیئے ، کہا جاتا ہے کہ صرف ایک سو ڈوگروں کو لے کر مغرور جرنیل جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا باقی سب کے سب مارے گئے ۔ ’’بحوالہ عبدالحمید خاور کی کتاب اقوام دردستان و بلورستان)
855 میں چکر کوٹ کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہی جنریل بیس ہزار کی فوج لے کر استور دارد ہوا اور گوہر امان کو جنگ کی دعوت دی اور للکارا۔ گوہر امان نے داریل اور تانگیر کے لوگوں کو اس ہدایت کے ساتھ پیغام بھیجی کہ وہ سئی میں جمع ہوں اور ادھر سے نامی گرامی سرداروں کے زیر قیادت 7000 آدمی اور گوہر امان کے بیٹے ملک امان کی قیادت میں یاسین ، غذر، پونیال اور گلگت کے تین ہزار سوار اور چھ ہزار پیادہ بہادروں کو لے کر نیل دار پہنچا ۔عبدل الحمید خاور کی کتاب کے صفحہ نمبر 87 میں یوں رقم طراز ہیں کہ کہ داریل ، تانگیر سے جلداد، لال خان گیال کوٹ، داریل سے عزتی و فتح شاہ خان ، بیتوری اور کلشمیر سمیگال داریل سے کسوتی منیکال سے رستمی ، کھمی تانگیر سے محمد میر اور ادب شا گلی تانگیر سے کریم ، لویا ۔ ککش او متی ، دیامر تانگیر سے میر ا رمی لولوک تانگیر سے ،7000 آدمی لے کر آئے تھے ۔ ڈوگرہ فوج نشیب میں تھے ۔ملک امان کے فوج اور قبائلی فوج اونچائی پر ، جنگ شروع ہوتے ہی دونوں اطراف سے بہادر شاہینوں کی
طرح ایک دوسرے پر جھپڑ پڑے اور گوہر امان کے فوج نے دشمن کے صفوں کو تتر بتر کر دیا ،ڈدوگرہ فوج تقریباََ ختم ہو گئی بچے کھچے فوج کو ملک امان نے گھیر ے میں لے کر قتل عام کیا ، کہتے ہیں ایک سپاہی جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو اور باقی سارے قتل ہوے ، وہ سپاہی اس عبرت ناک شکست کی خبر لے کر بونجی میں مقیم جرنیل تک پہنچایا ، اس لڑائی میں گوہر امان کے 200 ، اور قبائل کے دو آدمی شہید ہوے ، گوہر امان واپس گلگت آکر ایک بہترین اور مضبوط قلعہ تعمیر کرایا ۔ قبائلیوں نے بھی اس تعمیری کام میں زبردست کام کیا اور پھر دوران جنگ جو مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا تھا لے کر اپنے گھروں کو چل دیا ۔ اس قلعے کی ایک برجی آج بھی گلگت شہر کے سینے پر پاکستان کا ہلالی پرچم کو تھامے سینا تان کر کھڑی ہے اور گوہر امان کی حریت پسندی اور غازی ہونے کی ثبوت پیش کرتی ہے ۔ یہی وہ برجی ہے جس کے اوپر سے فرنگی پرچم کو ہٹاکر 1947 میں گلگت کے غازیوں اور حریت پسندوں نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا تھا جو آج تک ایک وفادار غلام کی طرح گوہر امان برجی نے تھام رکھی ہے معلوم نہیں یہاں کے باسیوں کو کب پاکستان کے شہری ہو نے کا حق ، حقیقت میں حاصل ہو تا ہے ۔ اس سبز پرچم کا رکھوالا یہ برجی آج بھی گواہی دیتا ہے کہ اس کے بنانے والا واقع ہی ایک ظالم نہیں بلکہ غازی تھا اور ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی آزادی میں شریک شہیدوں اور غازیوں کو بھی یہ برجی سلام پیش کرتی ہے۔ جنھوں نے اس پرچم کی سر بلندی کے خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیا تھا ۔
بھوپ سنگھ کا معرکہ 1857 ء
گوہر امان 1937 ء میں تخت نشین ہوے اور 1960 اپنی موت تک زیادہ تر سکھوں اور ڈوگروں کے ساتھ نبر و آزما رہے جن کو فرنگیوں کی پشت پناہی بھی حاصل تھی یہی وجہ ہے ان فرنگیوں نے گوہر امان مخالف لوگوں سے پوچھ پوچھ کر گوہر امان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر نے میں اہم کردار ادا کیا ۔
عبدالحمید خاور کی کتاب کے صفحہ نمبر 89-88 پر درج ہے’’ کہ گوہر امان کے ساتھ پہلے سکھ اور پھر ڈوگروں کے ساتھ مختلف ادوار میں معرکے ہوے ان میں کبھی گوہر امان اور کبھی سکھ و ڈوگرے گلگت پر قابض ہوے اور آخر کار گوہر امان سب پر غالب رھا ‘‘۔ لیکن ان کے ساتھ جو چار پانچ بڑے بڑے گھمسان کی لڑائیاں ہویئں ان میں گوہر امان ہی فاتح رہا۔ بھوپ سنگ پڑی میں ڈیڑھ ہزار ڈوگرہ افواج اور ان کا جرنیل بھوپ سنگھ کو وہ عبرت ناک شکست دی کہ کہ رہتی عمر تک ڈوگروں کو یاد رہی۔ عبدالحمید خاور اس لڑائی کی تفصیل یو ں لکھتے ہیں کہ ’’جرنیل بھوب سنگھ اس خیال سے شاداں و فرداں اپنی فوج لے کر بونجی سے براہ چکر کوٹ بطرف گلگت روانہ ہوا کہ گلگت کا اینٹ سے
اینٹ بجا دے گا اور لوگوں پر ایسا ٹکس لگائے گا کہ جس سے لوگوں کی کمر ٹوٹ جائے۔ راستے میں اپنے لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میں پھلدار درختوں پر بھی ٹکس آئد کرونگا ۔ چنانچہ ان خیالوں اور ارادوں میں مگن جانب گلگت روانہ ہوا لیکن اس کوکیا معلوم کہ اس کا کیا حشر ہونے والا ہے ۔ اپنے مستقبل سے بے خبر رات کو مناور کے قریب پہاڑی کے نیچے دریا کے کنارے ایک میدان میں پڑاؤ ڈالا۔ جو اس وقع کے بعد آج تک بھوب سنگھ پڑی کے نام سے مشہور ہے ۔
اِ دھر گوہر امان کو اطلاع ملی کہ ڈوگرہ افواج بغرض حملہ چکر کوٹ سے گلگت کی طرف روانہ ہو گیئں ہیں ۔ گوہر امان نے اپنی فوج جمع کی سازو سامان سے آراستہ کر کے روانہ ہوا اورمناور آیا تو معلو م ہوا کہ دشمن آج راستے میں پڑاؤ ڈالے ہوے ہیں ۔ اب گوہر امان جو ایک ذہین جرنیل تھا ایک عجیب جنگی چال چلی اپنی فوج کو حکم دیا کہ جب تک اندھیرہ نہ پھیل جائے آگے مت بڑھو، جب شام ہوئی اور اچھی طرح اندھیرہ چھا گیا تو فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا جب دشمن کے کیمپ کے نزدیک پہنچ گئے تو نصف فوج کو دریا عبور کر کے پار جانے کا حکم دیا تاکہ دریا کے پار جاکر مخالف سمت میں مورچے قائم کرے اور نصف فوج کو خود لے کر پہاڑی کے اوپر عین دشمن کے کیمپُ کے اوپر سے جب غنیم کی فوج خوب خرگوش میں محو اسرتاحت ہوگی تو سنگ باری شروع کی جائے ۔ جب صبح ہوئی، بھوب سنگھ کی فوج ابھی سوئی ہوئی تھی پہاڑ کے اوپر سے بڑے بڑے پتھر گرنے لگے تو بھوب سنگھ کی فوج بیدار ہوئی اور دیکھا کہ دشمن نے چاروں طرف سے گھیرا ڈالا ہوا ہے ۔ اب نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن والی بات تھی ، سنگ باری سے دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگ لقمہ اجل ہو گئے ۔پہاڑی کے دامن سے جہاں کیمپ تھا سنگ باری سے جو بچے وہ بھاگ کر دریا کے کنارے جمع ہو گئے تو مدافعانہ کارروائی شروع کی تو اچانک دریا کے دوسری طرف سے گولیاں بارش کی طرح برسنی شروع ہویئں، بھوب سنگھ کو اپنی قابلیت پر ناز تھا اب حیران و پریشان کھڑا تھا کہ کیا کیا جائے ۔ دریا پار کے گولیوں سے بچنے کے لئے اگر دامن کوہ میں پناہ کے لئے جاتے تو اوپر سے پتھر برستے ہیں پتھروں سے بھاگ کر دریا کے کنارے جاتے تو دوسری طرف سے گولیاںبابرش کی طرح برستی ہیں ۔گویا چار سو موت ہی موت منہ کھولے کھڑٰی ہے۔ بھوب سنگھ کی فوج بد حواس ہو کر بہت ساروں نے دریا میں چھلانگ لگا لگا کر دریا کے خونی موجوں کے نذ ر ہو گئے اور جب تقریبا ساری فوج لقمہ اجل ہو گئے تو بھوب سنگھ نے صلح کی درخواست کی تو لڑائی تھم گئی اور بھوب سنگھ پا بہ زنجیر گوہر امان کے پاس لایا گیا جو کہ رحم کی اپیل کر نے لگا لیکن گوہر امان نے کہا کہ اگر تمھیں رحم کی ضرورت تھی تو گھر سے ہی نہ نکلتے اور پھر تلوار کی ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کر دیا ‘‘۔ اس طرح بھو ب سنگھ کا پھل دار درختوں پر ٹکس لگانے کا خواب ادھورہ رہ گیا ۔ ناظرین آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ ایک ایسے مجاہد کو ظالم ، جابر کہاجا سکتا ہے ۔ ظاہر ہے وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ اگر ایک حکمران کا خوف نہ ہو تو لوگ قابو میں نہیں آتے تھے امن و امان کو بر قرار رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ ظلم و تشدد بھی کیا جاتا تھا اور مفتوحہ علاقوں کو اس وقت کے تمام حکمرانوں نے لوٹا ہے اور مال غنیمت جمع کیا ۔ کیا نگر کے لوگوں نے ہنزہ کے راجہ سے ساز باز کر کے راجہ سکندر کو گلگت بدر نہیں کیا ، کیا اس کے سامان کو ضبط نہیں کیا ۔ کیا عذر خان کو کشمیر کی طرف بھاگنے پر مجبور نہیں کیا گیا ۔ کیا ڈوگروں نے کشمیر سے لے کر ارندو چترال تک واخان بارڈر یاسین ۔ ہنزہ نگر ، چیلاس استور ، بلتستان سے مال غنیمت نہیں لوٹا ۔ کیا علی شیر خان انچن ، رئیس ، ان تمام نے جن علاقون کو فتح کیا ، کیا وہاں قتل و غارت نہیں کیا ۔ تو پھر صرف گوہر امان کو ہی ظالم اور سفاک کیوں کہا جاتا ہے ۔ اس نے کبھی کسی بندے کو اپنے مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا حالانکہ اس نے درکوت سے چترال اور بونجی تک حکومت کیا ، البتہ ہر انسان غلطی کا پتلاہے۔ گوہر امان سے بھی دانستہ نادانستہ طور پر غلطیاں ہوئی ہونگی لیکن ظلم تو سارے راجوں نے بھی کیا مگر ان کی غلطیوں کو پس پشت ڈال کر صرف گوہر امان کو ہی ظالم کہنا ایک مجاہد کے کے لئے زیادتی ہے ۔کیا کسی دوسرے راجہ نے گلگت کو غیر ملکیوں سے نجات دلانے کی اتنی کوشش کیا جو اکیلے گوہر امان اور اس کی فوج نے کیا ۔ جبکہ گوہر امان نے 1840 سے 1860 تک گلگت کو سکھوں اور ڈوگروں سے نجات دلانے کی جد وجہد میں گذارا ، اس کے بر عکس لوگوںنے ڈوگروں کو دعوت دے کر گلگت لایا ۔ یہ کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ گوہر امان بہت نیک یا پارسا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 1840 سے 1857 تک اس نے سکھوں اور ڈوگروں کو جن کو فرنگیوں کی پشت پناہی حاصل تھی کی قدم جمنے نہیں دیا ۔یہاں تک کہ ان کی موت کے بعد گلگت بلکہ پورے علاقے یعنی موجودہ غذر اور ہنزہ نگر اور چترال بھی فتح کی گیا ۔ یاسین میں سینہ بہ سینہ کہانیوں کی روایت ایک یہ بھی ہے کہ مڈوری کے قلعے کو فتح کرنے کے بعد سکھوں اور ڈوگروں کا ایک جتھہ گوہر امان کے قبر پر پہنچ گیا تو اس میں ارتعاش آگیا اور قبر ہلنے لگا تو وہ بھا گ گئے لیکن جب دوسرا جتھہ اس کے قبر کے نزدیک گیا تو قبر شق ہو کر اندر سے اتنے تعداد میں بھڑ نکل کر ڈوگروں پر حملہ آور ہوے کہ ان کو یاسین کی حدود سے باہر نکال کر ہی دم لیا اور سکھوں اور ڈوگروں نے کہا کہ گوہر امان مر کر بھی ہمارے لئے خطر ناک ہے۔ پھر کوئی ڈوگرہ آئندہ اٹھاسی سالہ دور میں یاسین نہیں گیا۔ اور کشمیری ڈوگروں اورفرنگیوں کو گلگت اور دوسرے علاقوں پر حکومت کرنے کا موقع عسیٰ بہادر ا ٓف پونیال اور کریم خان آف نگر کی وجہ سے ملا ۔ جس کی وجہ سے فرنگیوں کے علاوہ مولوی حشمت اللہ خان کشمیری نے بھی جہاں اپنی کتابوں میں اپنے آقا مہاراجہ کے گن گایا ہے وہاں غازی گوہر امان کو ظالم دیکھانے میں کثر نہیں چھوڑی ۔اسی طرح دوسرے کچھ مقامی لوگ بھی اس کار خیر میں شریک ہیں ۔ ’’ منشی عزیزالدین اپنی کتاب تاریخ چترال کے صفحہ نمبر 115 میں لکھتا ہے کہ1840 تک جو لڑائیاں چترال میں لڑی گیئں وہ سب خانہ جنگیاں تھیں ، کیونکہ مہتر ان چترال آپس میں ہی لڑتے بھڑتے رہے ۔ انھوں نے اس عرصے میں کسی غیر ملک یا غیر قوم پر حملہ نہیں کیا ۔ گوہر امان نے غیر قوموں سے جنگ کی اور انھیں شکستیں دیں۔ اس لئے تاریخ چترال میں اس کا نام سب سے زیادہ مستحق عزت ہے ۔ اس کے زمانے کے بڑے بھاری واقعے گلگت کے حملے ہیں جہاں اُ ن دنوں سرکار کشمیر کا ڈنکا بج رہا تھا ۔ ‘‘
گوہر آمان کے بارے میں ایک سفید جھوٹ تاریخ کی کتابوں میں یہ لکھا گیا ہے کہ گوہر امان نے نتھو شاہ کے ساتھ صلح کے بعد اپنی ایک بیٹی کو نتھو شاہ کی عقد میں دیا نہ صرف یہ جھوٹ ہے بلکہ یہ بھی کہ ہنزہ کے راجہ نے اور نگر کے راجہ جعفر خان نے بھی اپنے ایک ایک بیٹی نتھو شاہ کے عقد میں دیا ،یہ ایک بالکل سفید جھوٹ ہے اگر نتھو شاہ کے ساتھ اتنے رشتہ داری کے بعد وہ اپنے تینوں سسرال کے خلاف کیسے لڑا ، اور چھلت کے مقام پر ہنزہ نگر کی فوج کے ہاتھوں کیوں بے دردی سے مارا جاتا ، جی ڈبلیو لیٹنر کی کتاب ہنزہ نگر ھینڈ بکس سے اقتباسات جو گوہر امان کے بارے میں لکھا ہے کا ترجمہ پیش کی جاتی ہیں .
From Hunza and Nager Hand book pages wars with Gilgit pages 70 to 73
٭1833ء؁ راجہ گوہر امان نے اپنے چچاعظمت شاہ کو یاسین سے مار بھگایا ( عظمت شاہ سلیمان شاہ کا بیٹا تھاجو کہ گوہر امان کا چچا ذاد بھائی تھا نہ کہ چچا )
٭1841۱ء میں سکھوں کے( زورآور سنگھ) مقامی اتحادیوں کے ساتھ مل کرراجہ گوہر آمان کے خلاف متحد ہو گئے
٭1841ء میں راجہ گوہر آمان نے سکندر خان کو شکست دیا اور گلگت پر قبضہ کیا
٭1842ء میں نتھے شاہ کی قیادت میںایک فوج کشمیر سے گلگت کی طرف روانہ ہوا
٭1843۱ء میںراجہ گوہر آمان نے سکندر خان کو مار ڈالا
٭1844ء میں راجہ گوہر آمان نے پورے علاقے کو فتح کیا مگر اسی سال نتھے شاہ نے سکندر خان کے بھائی کریم خان کو۴۰۰۰ فوج کے ساتھ مدد کو پہنچا اور نومل کاقلعہ فتح کیا ، مگر اسکا ساتھی متھرا داس کو گوہر آمان نے شیر قلعہ میں شکست دیا
٭1845ء راجہ گوہر آمان ، راجہ ہنزہ اور راجہ نگر نے سکھوں کو نکالا
٭ 1846ء میں طاہر شاہ کا بیٹا کریم خان نے نتھے شاہ کو دعوت دیا اور بسین کے مقام پر راجہ گوہر آمان کو شکست دیا
٭1848ء کو عسیٰ بہادر کو ملک امان شاہ نے شیر قلعہ سے نکال دیا اور وہ کشمیر چلا گیا ، گوہر امان نے راجہ ہنزہ اور نگر کو ساتھ ملا کر نتھے شاہ کو شکست دیا اور مارڈالا اور گلگت پر گوہر امان کا قبضہ ہو گیا اسی سال اکبر امان نے بار گو اور شکیوٹ کے قلعے فتح کئے تھے
٭ 1849ء کو گلگت کے تمام قلعے پھر سے گوہر آمان نے محمد خان کے بیٹے سے چھین لیا
٭ 1852ء کو گوہر امان نے گلگتیوں کو ساتھ ملا کر سکھوں کو پھر نکالا اور بوپ سنگھ اور انس ا لدین کو شکست اور مار دیا بچے کھچے فوج دریا ئے
سند ھ پار کر کے استور کی طرف بھاگ گئے۔
٭1855 ء کو افضل الملک آدم خور نے گوہر آمان کو یاسین اور مستوج سے نکال دیا
٭ 1856 ء کو گوہر آمان نے افضل الملک آدم خور کو یاسین اور مستوج سے نکال باہر کیا
٭ 1857ء کو گوہر آمان نے گلگت دوبارہ فتح کیا
٭ 1860 ء کو غازی گوہر آمان مر گیا جس نے کبھی سکھوں کو چین کی نیند سونے نہیں دیا اور نہ ہی کبھی قبول کیا
٭ 1861 ء میں اکبر خان کو ملک آمان نے قتل کیا
٭ 48 یا 1849ء میں سکھوں نے استور میں عملداری قائم کیا اور ایک تھانہ قائم کیا ، جہاں اسلحہ جمع کیا جاتا تھا ۔ پھر ایک تھانہ بونجی میں قائم
کر کے دریا ئے سند ھ پار کر کے سئی جگلوٹ میں تھانہ قائم کرنے کا سوچا تو گوہر آمان کو پتہ لگا اور داریل تانگیر سے لشکر منگوایا جن کی تعداد 5000 تھی جن میں داریل سے گلشیر، لالہ خان ، عزتی، بترا خان، محمد خان ، شیاتھنگ اور جلدار شامل تھے اور تانگیر سے خیراللہ،
منصور، رستمی، مینون سردار تھے، گوہر آمان کے بیٹے ملک آمان نے 3000 کی لشکر لے کر نیلی دار پہنچ گیا گوہر امان خود بیمار تھا وہ منور میں رہا ، اس کے علاہ بگروٹ سے 2000، نومل سے 200 ، سکھوار سے 100، منور سے 200 لوگوں نے حصہ لیا اور سامان جمع کیا ،
سکھ جنرل کی قیادت میں 8000 کی تعداد میں فوج تھی ، چکر کوٹ میں سخت لڑائی کے بعد سکھوں کو شکست ہوئی اور صرف چند سو بھا گ گئے کچھ قیدی بنائے گئے اور زیا دہ تر مارے گئے
حوالہ کتابیات: تاریخ اقوام دردستان و بلورستان عبدالحمین خاور
تاریخ چترال منشی عزیزالدین
ہنزہ نگر ھینڈ بک کرنل جی ڈبلیو لیٹنر
گلگت ایجنسی امر سنگھ چوہان
تحریر: جاوید احمد

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc