انمول۔

وہ لاکھوں میں ایک تھی، شوخی و شنگی ایسی کہ انھیں دیکھ کر پریاں بھی شرما جائیں, کردار و گفتار میں یکتا تھی۔ جب ہنستی تو پھول کھلتے، دنیا کی ساری خوشیاں سمٹ کر گویا اُس کی مسکراہٹ میں سمو جاتیں۔ شوخ اداوں پہ نازاں نہ تھی بلکہ یہ اُس کے کردار کا لازمی جز تھا ۔ حسن میں باکمال تھی، بڑی بڑی آنکھیں، دراز قد، سنہرے بال ، غضب کی شوخ ادائیں، بل کھا کر چلتی، خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے، قدرت نے اسے فرصت میں بنایا تھا۔

بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی، سب اسے لاڈ پیار کرتے تھے۔ نام انمول تھا لیکن سب پیار سے اسے آنو پکارتے تھے، غلطی سے بھی کوئی انمول کہہ کر مخاطب کرتا تو منہ بسور لیتی، چہرے کے تاثرات سے عیاں ہوتا کہ اسے صرف انو کہہ کر ہی پکارا جائے، وہ انو نام سے خوش تھی، ایک تو عمر ہی ایسی تھی۔

انو گلگت بلتستان کے پسماندہ، دور افتاده علاقہ یاسین کے گاؤں طاؤس کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی، دو بھائیوں اور دو بہنوں میں وہ سب سے چھوٹی تھی ۔ باپ محنت مزدوری کر کے بمشکل کنبے کی کفالت کرتا تھا۔

انو جب پانچويں جماعت میں آئی تو گھر کی حالت کچھ بہتر ہونے لگی، کیونکہ بڑے بھائی کو فوج میں ملازمت مل گئی، جب ساتویں جماعت میں پہنچی تو دوسرا بھائی بھی فوج میں بھرتی ہوا، یوں خاندان پر سالوں سے چھائے غربت کے سائے کسی حد تک ٹل گئے۔

انمول نے میڑک اچھے نمبرات سے پاس کیا ، مالی حالات اب بھی اتنے مستحکم نہیں تھے کہ انو کو مزید تعلیم کے لیے بڑے شہر بھیج سکے، طاؤس انٹر کالج میں پری میڈیکل میں آنو نے داخلہ لیا۔

کارکردگی کلاس میں سب سے اچھی تھی، کلاس روم کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی، جو کام اسے ملتا انہماک اور تسلسل سے ساتھ انجام دیتی، اساتذہ اُس سے خوش تھے، اکثر و بیشر سٹاف روم میں انو کی قابلیت کا چرچا ہوتا۔

آنو میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ کرکٹ کی اچھی کھلاڑی تھی، ساتھ کوہ پیمائی کا جنون کی حد تک شوق تھا، پرس سمینہ بیگ کی تصاویر سے بھرا رہتا۔

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ انمول کردار و گفتار میں یکتا تھی، صاف گو اور نیک سیرت لیکن مزاج شاہانہ تھا ۔ جس سے بھی ملتی فراخدلی سے ملتی، ہنسی مذاق طبیعت کا لازمی جز تھا جس وجہ سے حلقہ احباب کے کچھ لوگ اُس کے کردار پر شک کرتے، مگر ایسے اذہان کی مجال نہ تھی کہ غلیظ باتیں اُس کے سامنے کرتے۔

دنیا کی باتیں ایک طرف، ادھر انو اپنی دنیا میں مگن تھی ، پڑھائی کے ساتھ کوہ پیمائی کا شوق جنون کی حدیں چھو رہا تھا ۔
کوہ پیماؤں کے بارے سوچ کر بسا اوقات افسردہ ہو جاتی، اسے ریاست پاکستان سے شکوہ تھا کہ اس نے مرحوم کوہ پیما حسن سدپارہ کو وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ مستحق تھا ۔
علیل ہو کر اسلام آباد میں فوت ہوا تو جسد خاکی بغیر کسی پروٹوکول گاڑی کی چھت سے باندھ کر سکردو پہنچایا گیا۔
اس سانحہ کے بارے سوچ کر آنکھیں نم ہو جاتیں اور آنسو رخسار پہ نمودار ہو کر بے آئین سرزمین کی مٹی میں جذب ہو جاتے، اس کے آنسو رائیگاں تھے جن کی کوئی قیمت نہ تھی ۔
وقت اپنی رفتار سے گردش کرتا رہا، انو نے ایف ایس سی اچھے نمبرات سے پاس کیا، کالج سے فارغ تھی، فراغت کے وہ لمحات گھر پہ گزار رہی تھی، کام کاج میں بھابیوں کی مدد کرتی ۔
جولائی کا مہینہ تھا، انمول کے بڑے بھائی کو چھٹی ملی تھی، وہ عنقریب گھر آنےوالے تھے ۔ موقعہ غنیمت جان کر فون پر بھائی سے ہائکنگ کے لئے جوتوں کی فرمائش کی، بھائی نے بھی بنا کچھ بولے فرمائش پوری کرنے کا گرین سگنل دے دیا، وہ خوشی کے مارے اچھلنے لگی، آس پاس کوئی نہ تھا ایسے میں ہلکا پھلکا رقص کرنے لگی۔

اب وہ بے چینی سے بھائی کی راہ تکنے لگی، آخر وہ دن آن پہنچا اور انو کو ہائکنگ کے جوتے مل گئے ۔
اگلے مرحلے میں انو بھائی سے ایک اور فرمائش کرنے والی تھی
فرہان کو آئے ہفتہ گزر چکا تھا، سفر کی تھکان نکل چکی تھی۔
ایک دِن انو بولی: بھائی جان ” قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہوں، آپ کی رائے جاننا چاہتی ہوں۔
فرہان کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے ، انو یہ بات تم اپنی بھابھی سے شیئر کرنا ، دیکھو وہ کیا کہتی ہے۔
انو اسی لمحے اٹھی اور بھابھی کے پاس گئی جو کسی کام میں مصروف تھی، کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بولی:
”بھابھی میں یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہوں، آپ کی کیا رائے ہے“ ؟

یہ سن کر بھابی کےچہرے پر پہلے سنجیدگی کے اثرات نمایاں ہوئے پھر مسکراتی ہوئی بولی:
پیاری انو: تم سے پہلے میں نے سوچا تھا اور فرہان سے ذکر بھی کر چکی ہوں۔ دسمبر میں داخلے شروع ہوں گے تم بھی لے لینا ، ہم ہیں ناں تمہاری مدد کے لئے۔ یہ سن کر انمول کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا ، اب دسمبر کے انتظار میں دِن کٹنے لگے۔
اللہ اللہ کر کے دسمبر بھی آگیا یوں انمول کو فزکس ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ مل گیا۔ گلگت میں رہائش کے لئے یونیورسٹی کے ہوسٹل میں رہنے پہ اکتفا کیا گیا۔

یونیورسٹی کے ابتدائی ایام بڑے پر مسرت تھے، نئے دوست نیا ماحول تھا، کم وقت میں انمول ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی، وہ ہر ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے ہنر سے خوب واقف تھی۔
وہ ذہین و فطین لڑکی تھی، ڈیپارٹمنٹ کے تمام اساتذہ کا بہت احترام کرتی تھی، اساتذہ بھی اسے پسند کرتے تھے۔
وقت گزرتا رہا، قافلے دھول اڑاتے رہے۔

اُسی عرصے انمول کی سہیلیاں بھی بن چکی تھیں ، جو انو کے زیادہ قریب تھیں اُن میں ایک زہرہ بتول نگر، تھول کی رہنے والی تھی، دوسری جگلوٹ سے کوثر بانو تھی۔
تینوں کی اچھی دوستی تھی،ایک ساتھ پڑھائی فراغت کے لمحوں میں گپ شب روز کا معمول تھا۔

انمول سوشل میڈیا استعمال کرتی تھی، فیس بک پر ثمینہ بیگ کو فالو کرتی تھیں، ثمینہ بیگ کی افیشل پیج لائیک کر کے اس کی تصاویر پر کمینٹ کرنا اُس کا معمول تھا۔ ثمینہ بیگ سے ملنا چاہتی تھی، لیکن ملنے کے لئے راہ سجائی نہیں دے رہی تھی
فرسٹ سمسٹر کے امتحانات ان دنوں قریب آچکے تھے ۔
معمول کے کلاسیس سے فارغ ہوکر وہ زہرہ اور کوثر کے پاس گئی، اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ دونوں سہیلیوں کا رویہ آج پہلے سے بلکل مختلف تھا۔ خلاف معمول رویہ دیکھ کر اسے حیرت ہوئی، پہل کرتے ہوئے بولی ۔
”یار کیا ہوا تم دونوں کو ، اتنے غصے میں کیوں ہو“؟
کوثر بولی: بیٹھو، تمہیں ایک بات بتانی ہے،
وہ دونوں سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
زہرہ بولی: یار انمول تم اسمٰعیلی لڑکیاں گلگت بلتستان کی ثقافت کو کیوں بدنام کرتی ہو؟ جہاں دیکھو تمہاری کمیونٹی کی لڑکیاں ناچتی رہتی ہیں۔
تم لوگ گلگت بلتستان میں فحاشی پھیلا رہے ہو ، کوثر کہنے لگی ۔۔
سہیلیوں کی باتیں انمول کے دِل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئیں ،
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولی ،،
یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہو ؟ میں کبھی نہیں ناچی!
”تمہارے کمیونٹی والے ناچتے ہیں ناں! اس لئے بتا رہی ہیں“ ،
زہرہ انمول کی بات کاٹتے ہوئے بولی،، یونیورسٹی میں لڑکوں سے ہاتھ ملاتی ہو ، ہنستی رہتی ہو ، نقاب نہیں لیتی، وہ بولتی چلی جا رہی تھیں۔۔
انمول خود پر قابو نہیں رکھ پائی، بولی ،،
یار جو ناچتی ہیں وہ مرضی کی مالک ہیں، مسلک نے کب لوگوں کو ناچنے کا کہا ہے، ذاتی فعل کو مسلک کے ساتھ کیوں جوڑتی ہو؟ کہاں اسمٰعیلی آئین میں لکھا ہے کہ لڑکیاں ناچیں گی، جو فعل وہ انجام دیتی ہیں اِس سے مسلک کا کیا تعلق ؟ ہر طرح کے لوگ ہر فرقے میں ہوتے ہیں ۔ ہم اپنی مرضی اُن پر زبردستی نہیں تھوپ سکتے، یہ خلاف قانون ہے، حیا آنکھ میں ہونی چاہیے، وہ بولی، فحش لباس نہیں ذہنیت ہوتی ہے ، جتنی ذہنیت فحش ہو گی اتنی صنف نازک غیر محفوظ ہوتی رہے گی۔

” تم لوگ گلگت بلتستان کی ثقافت کا جو چہرہ دنیا کو دیکھا رہے ہو وہ درست نہیں ہے“ زہرہ بولی۔

یار چھوڑ دیں اِس بحث کو ، گلگت بلتستان میں ثقافت ہی کہاں محفوظ رہ چکی ہے، انمول بولی
،،بلتی ثقافت کی جگہ پارسی ثقافت آ گئی ہے، بلتستان میں پارسی ثقافت نمایاں ہے، مجھے بتائیں کہیں بلتی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے؟ یہی حال گلگت کا ہے، اس بحث میں نہ پڑے چھوڑ دیں،، یہ سب بتا کر انمول چھپ ہو گئی ۔
کوثر اپنی جگہ سے اٹھی اور چلی گئی کچھ لمحے بعد زہرہ بھی چلی گئی ۔

انمول کافی دیر وہی بیٹھی رہی، اس بحث کے بعد اُس کا دماغ چکرا گیا تھا، وہ کلاسیس اٹینڈ کئے بنا ہوسٹل چلی گئی اور اپنے روم جا کر بستر پہ دراز ہوکر سوچنے لگی کہ یونیورسٹی میں معصوم لڑکیوں کو مسلک، ثقافت کے نام پر کیوں ہراساں کیا جاتا ہے؟کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے لئے قانون سازی نہیں کر سکتے!

اُن لوگوں کی پشت پر طاقتور تنظیمیں ہیں جو انہیں شہہ دیتی ہیں اور حفاظت بھی کرتی ہیں، ہم جیسے غریبوں کے پیچھے غریب ماں باپ کے سوا کوئی نہیں ۔
زندگی میں کبھی غلط کام نہیں کیا، لوگ پھر بھی برا سمجھتے ہیں، ہم نے کونسا گناہ کیا ہے! وہ خود سے مخاطب تھی،،
گہری سوچ میں گم نا جانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئی،،
“اٹھو انو کھانا تیار ہے ،، اس کی رومیٹ لڑکی نے آواز دی ، بوجھل طبیعت کے ساتھ اُس کی آنکھ کھلی ۔ شام کا کھانا تیار تھا۔
منہ دھو کر بمشکل دو ہی لقمے خلق میں اُتارے ، واپس جا کر بستر پر لیٹ گئی ، سہلیوں کی باتیں بدستور اُس کے دماغ میں گونج رہی تھیں۔
دوسرے دِن یونیورسٹی میں مغموم طبیعت کے ساتھ کلاسیس آٹینڈ کیں یونہی ایک مہینہ گزر گیا ۔
،،ایک دِن صبح وہ بہت خوش دیکھائی دے رہی تھی ،،
””انو آج بہت خوش دیکھائی دے رہی ہو ،، کیا وجہ ہے کوئی سپیشل گیسٹ تو نہیں آرہا ،، اس کی رومیٹ لڑکی چھڑتے ہوئے بولنے لگی۔۔
””چپ کرو تم ہمیشہ الٹا ہی سوچتی ہو ،،میری عادت تمہیں پتہ ہے اِن باتوں سے دُور ہوں ،نہ کبھی واسطہ پڑا ہے۔۔انمول نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔۔
کل شام سوشل میڈیا پر پتہ چلا ہے ثمینہ بیگ گلگت آ رہی ہے، اس سے ضرور ملوں گی، وہ مسکراتی ہوئی بتا رہی تھی،،
یہ کہہ کر انمول یونیورسٹی کے لئے نکل گئی۔
آدھا گھنٹہ گزرا تھا اُس کے رومیٹ لڑکی کے موبائل پر کال آئی
،، انمول روڈ حادثے میں شديد زخمی ہوئی جسے فوری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملی ہے
۔۔ان اللہ وانا الیہ راجعون۔۔

تحریر: ظفر اقبال

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc