گرینڈ جرگے کا بڑا فیصلہ،ہندورپ نالہ کیس کا مرکزی ملزم ملک آفرین کوہستانی رہاہوگئے۔

گلگت(ٹی این این نامہ نگار خصوصی) ضلع غذر ہندورب نالہ کیس میں عدالت سے ضمانت نہ ملنے پر گرفتار ملک آفرین کو گرینڈ جرگے کے بعد رہائی کا فیصلہ ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق پختونخواہ کے ضلع کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں واقع ہندرب نالہ کے حوالے سے گرینڈ جرگے پہلا مرحلہ کمشنر آفس گلگت میں چھے دن کی بیٹھک کے بعداختتام پذیر ہوگیا۔ 28 رکنی گرینڈ جرگے میں عمائدین ضلع غذر اور کوہستان نے ہندورب نالے کے مسلے کو مسلکی رنگ دینے کے بجائے آپس کی غلط فہمیوں کو فریقین کا ذاتی تنازعہ ماننے پر اتفاق کیا ہے اور گرینڈ جرگہ مستقل طور پر مستقبل میں بھی حکومت کی سرپرستی میں غذر اور کوہستان کے تنازعات مسائل کے حل لیے اپنا کردار کرتے رہیں گے۔ اسی طرح جرگے نے فیصلہ کیا ہے ہندراپ واقعہ کےبعد مقدمات قانون کو مطلوب افرادعدالت میں پیش ہونگے اور حکومت جرگہ کے ساتھ ملکر مقدمات کو ختم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔گرینڈ جرگے نے ایک چودہ رکنی مشترکہ ورکنگ کمیٹی تشکیل دے گی جو حکومت کی سربراہی میں دونوں اطراف کے معاملات کو قانون،ثبوت اور حقائق کی بنیاد پر جرگے کو رپورٹ پیش کریگی۔تاہم جرگہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے تک سول کیس جو عدالت میں زیر سماعت ہے چلتا رہے گا۔
دوسری طرف گزشتہ روزگلگت بلتستان بچاو تحریک کے رہنماوں سینئر قانون دان احسان علی ایڈوکیٹ ،کنوینر شبیر مایار.حسنین رمل، شیخ فدا حسین ایثار،تعارف عباس ایڈوکیٹ اور دیگر نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس جرگے کو گلگت بلتستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے یہاں پر جرگے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اگر جرگہ کےذریعے فیصلے کرنا ہے تو وفاق کے ساتھ ہمارا بھی جرگہ کرایا جائے ہم بھی ریاست کے ساتھ جرگہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اُنکا کہنا تھاپاکستان اور ہندوستان کے درمیان کراچی ملٹری اگریمنٹ کے تحت اقوام متحدہ کی موجودگی میں ریاست جموں کشمیر کے سرحدیں متعین ہے جسکی کوہستان سے خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس خطے کے سرحدوں اور اراضی علاقوں پر قبضہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لہذا قانونی طور پر اُن کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج ہونا چاہئے۔سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے صارفین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اور ذیادہ تر صارفین کی جانب سے اس جرگے قانون کے ساتھ مذاق قرار دیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد جس طرح سے کوہستان سے گلگت بلتستان کے عوام کو دھمکیاں دی گئی اُس پر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا لیکن ملک آفرین کی رہائی کیلئے حکومت سطح پر اہم کردار ادا کرنا لمحہ فکریہ ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc