محکمہ تعلیم سکردو ہیومن رائٹس کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ملیار گاوں کے طالبات کے ساتھ کیا زیادتی کررہی ہیں وجہ ناقابل برداشت

سکردو(ٹی این این) محکمہ تعلیم گلگت بلتستان 2010 سے ہیومن رایٹس کی خلاف ورزی کیوں کر رھا ھے۔۔؟

روندو:گرلز مڈل سکول ملیار روندو ڈسٹرک سکردو کو محکمہ تعلیم بلتستان کے حکم نامے پر 2010 سے چلانے کی اس شرط کے ساتھ اجازت دی گئی کہ ایک سال کے اندر ھی محکمانہ طور پر سکول بلڈنگ بنائی جائے گی پھر وھاں کی کمیونٹی نے فیصلہ کیا جب تک سکول کی عمارت نھیں بنتی امام بارگاہ میں سکول چلانے کا فیصلہ کیا لیکن انکو کیا پتہ تھا یہ ایک سفید جھوٹ ثابت ھوگا اور انکی بچیاں سخت موسمی حالات مشلا تیز دھوپ،سخت سردی یا برف پڑے سخت موسمی حالات کاسامنہ کرنے جار رھی ھیں اور سخت موسمی حالات میں بھی سالانہ %96 ریزلٹ آتا ھے لیکن عرصہ دس سال گزر گیا اور ھزار بار ڈائریکٹر ایجوکیشن سکردو ،سیکرٹری ایجوکیشن گلگت بلتستان اور کمشنر بلتتستان تک سکول ایجوکیشن کمیٹی نے رابط کیا لیکن ٹرکھانے کے سوا کچھ نھیں ملا۔آخر یہی معلوم ھوا ان بچاری بچیوں کا یہی قصور ھے کہ یہ باقی بچیوں کی طرح تعلیم حاصل۔کرنا چاھتی ھیں جس کے لئے آسمان تلے سخت موسمی حالات کو بھی خاطر میں نھیں لاتی ھیں۔۔

ایک زرئع کے مطابق سال 2019 میں عوامی پریشر کی وجہ سے محکمے نے ڈیپارٹمنٹل اسکیموں میں اس سکول۔کی عمارت کو فائنل کیا تھا لیکن انکے مطابق وھاں کے منتخب نمائندے نے سیاسی مخالفت میں کینسل کرایا ھے کیونکہ گاؤں ملیار میں منتخب نمائندے کے سیاسی مخالفین زیادہ ھیں اور اسطرح سکول کو پچھلے دس سالوں سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا بنا رکھا ھے جسکے سامنے محکمہ بھی بے بس نظر آتا ھے اگر اپریل کے اواخر تک بھی سکول بلڈنگ کے لئے کچھ نھیں ھونے کی صورت مییں وھاں کی کمیونٹی اس بات پر غور کر رھی ھے کہ سکول کو بند کردیا جائے اور امام بارگاہ کو بھی سکول کے لئے بند کر دیا جائے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc