اقوام متحدہ قانون کے تحت سرحدوں کا تعین کرئے۔ جرگہ متنازعہ علاقے پر لاگو نہیں ۔گلگت بلتستان بچاو تحریک کا عالمی اداروں سے کئی مطالبہ کردیا

گلگت(سپیشل رپورٹر)گلگت بلتستان بچاو تحریک کے کنوینر شبیر مایار.سینئر قانون دان احسان علی ایڈوکیٹ ،حسنین رمل، شیخ فدا حسین ایثار،تعارف عباس ایڈوکیٹ اور دیگر نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ہدرپ واقعہ پر عمائدین کوہستان سے جرگہ گلگت بلتستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے یہاں پر جرگہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اگر جرگہ کے زریعے فیصلے کرنا ہے تو وفاق کے ساتھ ہمارا بھی جرگہ کرایا جائے ہم بھی ریاست کے ساتھ جرگہ کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہاں انٹر نیشنل بارڈر ہے اس خطے کے سرحدوں اور اراضی علاقوں پر قبضہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور سرحدی علاقوں کے تعین کے لئے سروے آف پاکستان اور سروے انڈیا کے 1948 کے نقشے اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کے مطابق تعین کیا جائے۔انہوں نے مذید کہا کہ کوہستان کے عمائدین کے ساتھ جرگہ ہوسکتا ہے تو گلگت بلتستان کے فرزند کامریڈ باباجان کے کیس میں جرگہ کیوں نہیں ہوتا ہے گلگت بلتستان میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت قائم عدالتیں اور یہاں پر نافذ کالونیل نظام کے خلاف ہمارا جدوجہد جاری رہیگا انہوں کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی ایک ڈمی اسمبلی ہے اور یہاں موجود نام نہاد ممبران عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں ان کے زریعے گلگت بلتستان پر کوئی آرڈر یا نظام قبول نہیں کریں گے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے فیصلیں خود کرنا کا اخیار دیا جائے گلگت بلتستان کے بچاو تحریک کے رہنماوں نے مذید کہا کہ گلگت بلتستان کی ایک ایک انچ زمین کی دفاع کریں گے اور گلگت بلتستان کے زمین کو کسی کو ہتھیانے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے مذید کہا کہ کوئی شندور پہ قبضہ کرتا ہے کوئی تھور کے علاقہ پر قبضہ کی کوشش کرتا ہے اور کوئی تحفہ میں زمین فراہم کرتا ہے یہ سلسلہ بند کیا جائے اور اقوام متحدہ کے عالمی ادارے انٹرنیشنل قوانین کے تحت اس صورتحال کا نوٹس لیں اس موقع پر احسان علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان ریفامز کمیشن کو عوام نے مسترد کردیا ہے یہ نام نہاد کمیشن جس علاقے میں گئی ہے وہاں انہیں بری طرح ناکامی کا سامنا ہوا ہے لینڈ لیفامرز کمیشن کا اصل مقصد غیر قانونی طور پر گلگت بلتستان کے زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جس کو کسی طرح گلگت بلتستان کے عوام قبول نہیں کریں گے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc