گلگت بلتستان کی پرنٹ میڈیا بھی بیوروکریسی کے متوالے نکلے۔

اسلام آباد( تحریر نیوز) جمہوری معاشروں میں وہ افراد جنہیں عوام ووٹ دیکر ایوان اقتدار میں پونچاتے ہیں وہی لوگ دراصل کسی بھی ملک یا ریاست کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سرکاری افیسرچاہئے کتنے بڑے عہدے پر فائز ہو لیکن وہ ملازم کہلاتے ہیں اور سیاسی قیادت کے تابع ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کے پاس عوامی اور ریاستی معاملات میں اختیارات کا فقدان اپنی جگہ لیکن بحیثیت عوامی نمائندے اُن کی ایک عزت ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی پرنٹ میڈیا میں ہمیشہ مقامی عوامی نمائندوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری تقریب میں بیوروکریسی کے پیچھے دکھا رہا ہوتا ہے یعنی ایک طرح سے مقامی پرنٹ میڈیا اس وقت چالپوسی کے خطرناک مراحل سے گزر رہا ہے جوکہ صحافتی اقدار اور نام پر سوالیہ نشان ہے۔

گلگت بلتستان میں پرنٹ میڈیا منسلک افراد کو چاہئے کہ صحافتی اقدار کی لاج رکھتے ہوئے سیاسی قیادت اور سرکاری ملازمین میں فرق کو واضح کرتے ہوئے کسی تقریب کی کوریج اور اشاعت  کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ لوگ تمام تر کمزوریوں کے باوجود عوامی نمائندے اور بیوروکریسی ریاست کے ملازم ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc