کوہستان اور غذر کے درمیان ہندروپ نالے کا تنازعہ بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کا مسلہ۔

اسلام آباد(ٹی این این) گلگت بلتستان کے معروف کالم نگار قوم پرست رہنما اور تاریخ دان شفقت علی انقلابی نے ہندروپ واقعے کو بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا فیس بُک پر ایک پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ بین الاقوامی سرحدوں کے معاملات میں جرگے نہیں ہوتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کے مابین کراچی میں 27 جولائی 1949 میں طے پانے والے ایگریمنٹ کے بعد جو نقشہ جاری کیا تھا وہ اس حوالے سے ریکارڈ کا حصہ ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس نقشے کے اندر ریاست جموں کشمیرکے پاکستان ہندوستان چین اور افغانستان کے ساتھ انٹرنیشنل سرحدوں کے ساتھ عبوری سیز فائر لائین بھی طے ہے اوراس معاہدےمیں اقوام متحدہ ضامن ہے پاکستان اور ہندوستان دستخط کنندہ ہے۔ جموں کشمیر کے مسلئے کے حل تک دونوں ملک اس باونڈری کی پاسداری کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ پاکستان صوبہ کے پی کے کی طرف سے سازین لولوسر اور شندور کی جانب سے اس باونڈری کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ہندرپ گاوں کے چراگاہ میں مداخلت بھی اس عالمی ایگریمنٹ کی خلاف ورزی ہے۔ راجہ گوپس کو بھی کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ چراگاہ کسی کوہستانی بھائی کو دے۔ راجہ صاحب ایف سی آر کی روح سے پاکستانی پی اے کے ماتحت تھے۔ اس ایگریمنٹ کو سمجھے بغیر جرگے سے کیا نکلے گا۔ یہ غذر والوں کا اور کوہستانی بھائیوں کے مابین کو تنازعہ سرے سے ہیں ہی نہیں۔ یہ انٹرنیشنل بارڈر میں مداخلت کا ایشو یے۔ غذر اور کوہستان کے مابین جرگے کے بجائے گلگت بلتستان حکومت اس ایگریمنٹ کی روشنی میں اسلام آباد سرکار سے بات کرے۔ اسلام آباد میں مزاکرات کے لئے وزیر اعلی گلگت بلتستان وزیر اعظم جموں کشمیر ، قانونی ماہرین اور جموں کشمیر کے ایشو کے ناجی جیسے ماہرین پر مشتمل وفد تشکیل دے کے پاکستان کے ساتھ سازین ، شندور لولوسر اور ہندرپ چاروں علاقوں کے اندر ہونے والی مداخلت ختم کرائی جائے۔ یہ مقامی ایشو نہیں عالمی ایگریمنٹ اور انٹرنیشنل طے شدہ بارڈر کا مسلہ ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc