گلگت بلتستان میں خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کو کیوں ہمت مل رہی ہیں؟ اخر اسمبلی سے قراداد منظور ہونے کے باوجود کیوں عملدرآمد نہیں ہوا تحریر نیوز کی خصوصی رپورٹ

خپلو(محمد علی عالم) ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں خواتین کو ہراسگی کا سامنا ہے، گلیوں، چوراہوں، بازاروں، سکولوں ہسپتالوں اور دیگر تمام پبلک مقامات پر اوباش اور بدقماش افراد خواتین ہو ہراساں کرنے میں مصروف ہیں مگر سماج کے دباو اور بدنامی کے خوف سے خواتین ہراسگی کے واقعات کے خلاف شکایات درج کرنے سے گھبراتی ہیں۔ شکایت کرنے والی باہمت خواتین کو معاشرے میں دباو کا شکار بنا کر چُپ کردیا جاتا ہے، جس سے بدقماش اور آوارہ طبع افراد کی ہمت افزائی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے 2013 میں ہراسگی کے واقعات کے خلاف قانون بنایا ہے مگر حکومتی عدم توجہی اور سول سوسائٹی کی عدم دلچسپی کے باعث اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔

اس حوالے سے میر ی سابق صوبائی مشیر اطلاعات سعدیہ دانش سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں  اسمبلی میں انسداد ہراسمنٹ بل پاس ہو گیاتھا جسے بعد میں ایکٹ کی شکل دے کر قانون بنادیا گیا ہے، لیکن  بدقسمتی سے اس قانون پر عملدرآمد اور اس حوالے سے شعور و آگاہی پھیلانے کے لئے عملی اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ مذکورہ قانون کو علاقائی ثقافت اور اقدار کی روشنی میں بنایا گیا تھا۔

ایک شہری، فرضی نام صدیقہ، (اصل شناخت چھپادی گئی ہے)،  جو پیشے کے اعتبار سے سکول ٹیچر ہے، کا کہنا تھا کہ بہت ساری لڑکیاں اور خواتین راہ چلتے یا کام کرتے ہوئے مخلتف قسم کی ہراسگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباش لڑکے کاغذ پر اپنا نمبر لکھ کر لڑکی کی طرف پھینک دیتے ہیں، اور دور دور تک گھور گھور کر انہیں کودیکھتے ہیں۔ لڑکیوں کے نزدیک آکر گاڑیوں میں اونچی آواز میں موسیقی چلاتے ہیں، جبکہ بیہودہ اور ذومعنی الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لڑکے  اور مرد گاڑیاں روک کر راہ چلتی لڑکیوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا بھی کہتی ہیں، جس سے لڑکیاں خوف و ہراس کا شکار ہوجاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بہت سارے لڑکے مختلف طریقوں سے لڑکیوں کے نمبر حاصل کر کے انہیں بیہودہ پیغامات بھیجتے ہیں، اور انہیں ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ معاشرے میں اگر عورت کی غلطی نہ بھی ہو تو ساری غلطی ہم پر ہی ڈال دی جاتی ہے۔ ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ  تم بازار کیوں جاتی ہو؟ اکیلی سفر کیوں کرتی ہو؟

صدیقہ کا مزید کہنا تھا کہ اس ہراسگی کے عالم میں بھی لڑکیاں شکایت نہیں کرتی کیونکہ معاشرے میں مجرم کی بجائے مظلوم کو معتوب کرنے کا رواج ہے۔ لڑکی ہراسگی کی شکایت کرے بھی تو اس کی مدد نہیں کی جاتی ہے، بلکہ اسے ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خاندان کے خوف اور بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

کرن قاسم، جو کئی سالوں سے گلگت بلتستان میں شعبہ صحافت سے منسلک ہے، کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی خواتین ہراسگی کی زد پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں قانون کے حوالے سے شعور کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے مخصوص پولیس سٹیشنز موجود ہیں مگر قانون کے بارے میں آگاہی نہ ہونے اور معاشرتی، قبائلی اور خاندان کے خوف کے باعث ان اداروں تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کرن قاسم کا یہ بھی کہنا تھاکہ گلگت بلتستان کی ثقافت اور رسوم و رواج اس قسم کی ہیں کہ کوئی بھی خاتون ان معاملات پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ میڈیا میں بھی ایسے واقعات شاذو نادر رپورٹ ہوتے ہیں، کیونکہ میڈیا پر خواتین کی ہراسگی سے متعلق رپورٹ آنے کے بعد ایسی خواتین مزید مسائل کا شکار بنتی ہیں اور ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہ اس حوالے سے سماجی فکر بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو خواتین کے وجود اور ان کی عزت و تکریم کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کے لئے بھی مزید اقدامات اُٹھانے ہونگے۔

اکیسیوں صدی کی خواتین کو گھروں میں بند کر کے نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ خواتین سکولوں، کالجوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جبکہ بہت ساری خواتین ملازمت پیشہ ہیں۔ ان تمام خواتین کو معاشرتی بھیڑیوں سے بچانے کے لئے راست اقدامات اُٹھائے بغیر عدل اور مساوات کا حصول ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور سول سوسائٹی کے فعال کارکنوں سمیت ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc