سکردو میں انتظامیہ اور ادارے شہریوں کو لوٹنے والے مافیاز کے سامنے بے بس ہے سول رائٹس موومنٹ نے مافیاز کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا

سکردو(پ ر) سکردو شہر اور گرد و نواح سے موصول ہونے والی شکایات درج ذیل ہیں جن کے ازالے کیلئے انجمن تحفظ حقوق صارفین جلد لائحہ عمل کا اعلان کرینگی.

1. شہر بھر میں ناقص پاپڑ جوکہ مختلف لیبل کے پلاسٹک پیکٹوں میں بند ہیں کھانے سے بچوں کو پیٹ میں درد، تیز بخار، اپینڈکس پھٹنے کے کیسز زیادہ سامنے آرہے ہیں انکے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں.

2. شہر بھر کے مختلف ہوٹلوں میں صفائی کے ناقص انتظامات اور برتن دھونے کے لیے صاف نلکے کا پانی نہ ہونے اور ایک دیگچے میں استعمال شدہ برتن اور پیالیوں کو ڈبو کر دوبارہ لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں فراہم کرنے کی شکایات ملی ہیں جس کے سبب زیادہ تر ٹی بی، الرجی اور دیگر چھوت کی بیماریوں کے لگنے کا اندیشہ ہے. ان ہوٹلوں، چائے خانوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے.

3. شہربھر کی مارکیٹوں میں قصائیوں کی جانب گائے بھینس کے گوشت کے ساتھ چربی، اوجڑی، خصوصاً پھیپھڑوں اور ہڈیاں زیادہ ڈالنے کے علاوہ گاہکوں کے ساتھ بدتمیزیوں کی شکایات درج ہوئی ہیں. جوکہ قصائیوں کا اشرافیہ کےساتھ میل جول اور صاف قیمہ گوشت کی بوٹیاں کوٹہ گھر پہنچانے کا شاخسانہ بتایا جاتا ہے.

4. سبزی منڈی میں سبزیوں اور فروٹس کی قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے سبزیوں اور فروٹس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں. پنڈی اسلام میں 20روپے میں ملنے والی سبزی یہاں سکردو 80روپے سے 90روپے میں فروخت کی جارہی ہے اس کا مطلب ہے کہ پروڈکشن/کاشت کی قیمت سے 20 گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے جوکہ یہاں کے صارفین کےساتھ ظلم ہے.

5. سکردو شہر کے تندروں پر انتظامیہ اور مافیا کی ملی بھگت سے سستا آٹا کی فراہمی کے باوجود فی روٹی 15روپے مقرر کیاگیا اور باقاعدہ 140گرام روٹی دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اب کہیں بھی 140 گرام روٹی دستیاب نہیں ہے بلکہ دوبارہ پرانے وزن کے برابر 15 روپے میں 80 گرام کی روٹی سپر آٹے کے ملاوٹ کے ساتھ فراہم کیا جارہا ہے. جس پر چارہ جوئی کی ضرورت ہے.

6. بازار میں گندھے اور پلاسٹک کے پاپڑ کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کے خلاف سخت شکایات موجود ہیں. انتظامی اشرافیہ اپنے بچوں کو کبھی بھی اسطرح کے رنگین پلاسٹک کیمیکل پاپڑ کھلانے کے لیے تیار نہیں ہے مگر عام عوام کے لیے مارکیٹ میں دستیابی ان انتظامی ستمگروں کا مسئلہ نہیں ہے. ان پاپڑوں کی مارکیٹ میں فراہمی پرپابندی کے علاوہ دکانوں پر چھاپے مار کر موجودہ سٹاک کو ضبط کیا جائے تاکہ بچوں کو بیماریوں بچایا جاسکے.

7. علاقے میں بلا تار مواصلاتی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں ایس کام، اور ٹیلی نار کی جانب سے ناقص سروس کی فراہمی پر صارفین برہم ہیں. مقامی انتظامیہ ٹیلی نار فرنچائز دے باز پرس کرے کہ وہ بغیر لائسنس 4جی کے بڑے بڑے پیکج اور 4جی لیبل کے ساتھ سم اور کارڈ کیسے فروخت کررہے ہیں. چونکہ سکردو میں ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی کمپلین سنٹر موجود نہیں ہے اس لئے 4 جی سروس کارڈ اور سم بغیر 4 جی سروس کے فروخت کرنے کے الزام کے تحت فرنچائز کے خلاف صارفین کو دھوکہ فراڈ پر مقدمہ درج کرنے کی سبیل کی جائے تاکہ صارفین/عام عوام کو لوٹنے کا سلسلہ بند ہوسکے. مزید ابتک فروخت کردہ تمام پیکجزاور 4جی کارڈ لوڈ صارفین واپس کرایا جائے. اور ایس سی او کی سروس میہنے میں ایک ہفتہ بھی تسلسل کے ساتھ سروس دینے میں ناکام ہے.لیکن ایڈوانس پیکج لوڈ ہونے کی وجہ سروس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے. جس پر عوام کا غم و غصہ احتجاج اور ان کمپنیوں سے بائیکاٹ کی صورت میں نکلے سکتا ہے.

8. سکردو سے گمبہ کی طرف جانے والے مسافروں نے گاڑیوں کے ناروا کرایہ کی شکایت کی ہے. ان کا سدباب کرنے کیلئے متعلقہ ذمہ داران سے اپیل کی ہے.

9. شہر بھر میں باربر شاپس میں انتظامیہ کےساتھ ملی بھگت کرکے ریٹ مقرر کرنے پر عوام نے برہمی کا اظہار کیا ہے. اور کہا کہ صرف چند ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگز اور ان سے ہڑتالیں کرواکر ریٹس بڑھانا کسی صورت میں منظور نہیں ہے. جب بھی اشیاء کی ریٹس پر غور کرنا ہوں تو صارفین کو بھی آن بورڈ لیا جائے اور صارفین کونسل کی مشاورت لازمی قرار دیا جائے.

10. شہر بھر میں ٹیلروں کی جانب سے من مانے ریٹس مقرر ہونے کی وجہ سے عام صارف کیلیے کپڑوں کی سلائی بھی دشوار ہوا. یکساں اور مناسب ریٹس کا تعین کیا جائے.

11. شہر بھر میں ٹیکسی ڈرائیوروں کی جانب سے من مانی رقم طلب کرنے سے عام مزدور پیشہ، کم آمدنی والا طبقہ کو بحالت مجبوری ٹیکسی کرنا بھی دشوار ہوگیا ہے. فاصلے کے مطابق ریٹس تعین کیا جائے. اور ٹرانسپورٹ کمپلین چوکی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے.

12. مویشیوں کے لیے استعمال ہونے والے چوکر مارکیٹ میں مافیا کے زیر کنٹرول ہونے کا مبینہ طورپر اندیشہ ظاہر کیا ہے اور چوکر کے ریٹس آٹے سے بھی زیادہ ہے. مافیا چوکر کی 50 بوری پاکستان سے منگواکر 500 بوری لو کل ملز سے خریدتے ہیں اور لوکل چوکر کو بھی پاکستان سے منگوائے چوکر کی ریٹس پر فروخت کرتے ہیں. انتظامیہ کو اسکے خلاف بھی دہیان دینے کی ضرورت ہے.

13. شہر بھر میں پرائیویٹ سکولوں میں داخلوں کا سیزن ہے لیکن بعض سکولز نے تجارت کے غرض سے کلاس میں 30 سے 40 طلباء کے داخلے کیلئے 500 سے زائد پراسپکٹس کئی 300سے لیکر 100روپے میں فروخت کررہے ہیں اسطرح سے علم جیسے بنیادی ضرورت پر بھی سکول مافیا صارفین غریب/ والدین کی جیب صاف کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں. ان مافیاز کے علم کو تجارت کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے ساتھ صارفین کے استحصال کا تدارک مقامی انتظامی مشینری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی ماہانہ فیس، داخلے کے دوران والدین کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کے رجحان کے خاتمے کےلئے متعلقہ محکمہ نظامت تعلیمات سےمل کر لائحہ عمل طے کریں اور سکولز میں چھٹیاں ختم ہونے سے قبل پرائیویٹ سکولز کی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگز طے کریں اور انجمن تحفظ حقوق صارفین کی مشاورت کے ساتھ ماہانہ فیس، پراسپکٹس کی قیمت اور کلاس میں بچوں داخلے کی گنجائش سے دو گنے سے زیادہ پرا

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc