“پانچواں اور چھٹا صوبہ”

گلگت بلتستان کا سیاسی سوال ہنوز تشنہ طلب ہے۔ ہر دور میں اس خطے میں سیاسی اصلاحات کی بات ہوتی رہی ہے مگر واضح روڈ میپ کا تعین وقت کا تقاضا ہے۔ 1947 سے قبل گلگت بلتستان کے کچھ علاقے کشمیر کے ساتھ اس طرح منسلک تھے جس طرح قیام پاکستان سے پہلے بھارت اور پاکستان تاج برطانیہ کے حصہ میں تھے ۔ 1947 کے انقلاب کے بعد جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس عمل میں گلگت بلتستان والوں کا کوئی کردار شامل نہیں تھا مگر “کلمہ” کی بنیاد پر حاصل ہونے والے نو مولود ملک کی باز گشت گلگت بلتستان کی پہاڑوں سے بھی ٹکرانے لگی حالانکہ پاکستان بننے کے بعد بھی گلگت بلتستان میں ڈوگرہ حکومت قائم تھی۔ گلگت بلتستان کی عوام نے ڈوگرہ تسلطہ سے بغاوت کا اعلان کیا اور کرنل حسن خان کی قیادت میں گلگت میں متعین ڈوگرہ گورنر “بریگیڈر گھنسار سنگھ” کو گرفتار کر کے ڈوگرہ تسلط کا خاتمہ کیا اور یکم نومبر 1947 کو گلگت کے کچھ علاقے آزاد ہوئے یوں عوامی تجاویز اور آرا کی روشنی میں جمہوریت گلگت کے نام پر نئی ریاست قائم کی گئی جس کے پہلے صدر کے طور پر شاہ رئیس خان کو مقرر کیا گیا۔۔۔ اس پورے عمل میں میجر براون کا کیا کردار تھا اور یہ الگ بحث ہے مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ انقلاب گلگت میں مقامی لوگوں کے کردار اور آپس میں بے مثال اتحاد کو صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ 16 نومبر تک گلگت دنیا کے نقشے پر الگ ریاست کے طور پر قائم ہوا لیکن اس کے بعد مقامی راجاوں کی مرضی سے یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ نتھی ہوا اور نائب تحصیلدار سردار عالم خطے کے پولیٹکل ایجنٹ مقرر ہوئے۔۔۔ سردار عالم نے فاٹا کی طرز پر گلگت میں بھی ایف سی آر نافذ کیا۔۔۔ 14 اگست 1948 کو بلتستان کا علاقہ بھی آزاد ہوا جبکہ 1952 میں داریل تانگیر کے علاقے بھی ایک معاہدے کے تحت انتظامی طور پر پاکستان میں شامل ہوئے یوں تین مختلف اکائیاں الگ الگ وقت میں ون یونٹ بن گئے جسے ناردرن ایریاز کے نام سے جانا گیا بعد ازاں 2000 کی دہائی میں گلگت بلتستان کا نام دیا گیا۔۔۔۔ریاست نے مسلئہ کشمیر پر ہونے والی متوقع رائے شماری کی لالچ میں جواہر لال نہرو کے کشمیر پر اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے بعد گلگت بلتستان کو بھی مسلہ کشمیر سے نتھی کیا حالانکہ 1947 کے انقلاب کے بعد گلگت کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور نہ ہی اس مسلے کا حصہ بن سکتے۔۔۔ مگر۔۔۔ ریاستی موقف کو عالمی سطح پر موثر بنانے کیلئے گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر کا حصہ قرار دلوایا گیا۔۔ تب سے آج تک گلگت بلتستان کے پاپولر مطالبے کو پورا کرنے میں اقوام متحدہ کی قرار دیں رکاوٹ ہیں۔۔ مگر دوسری جانب نریندر مودی نے 6 اگست 2019 کو لداخ اور مقبوضہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہلی سرکار میں ضم کیا ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذکورہ علاقے بھی متنازعہ حیثیت کے حامل ہیں جس طرح گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ہیں۔۔ مودی کے اقدام کے بعد نہ تو اقوام متحدہ ٹس سے مس ہوا اور نہ ہی کسی سیکورٹی کونسل کی قراداد پر کوئی فرق پڑا بلکہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے مظلوم کشمیریوں پر ظلم کی سیاہ رات مذید طویل ہوگی۔۔ گلگت بلتستان کے سیاسی اصلاحات کے نام پر ہونے والے ماضی کے تجربات بہتر سہی مگر بہترین نہیں ہوسکتے۔۔ بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور گلگت بلتستان کی مقامی آبادی کے پاپولر ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان مذید آرڈرز کا متحمل نہیں ہوسکتا۔۔ اس علاقے کو عبوری سہی مگر آئیں پاکستان میں شامل کیا جانا چاہئے۔ گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت نے دہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر زمانے میں عوامی پلس کے برعکس کھیلا ہے۔ سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کو کبھی بھی آئیں میں ضم ہونے نہیں دیں گی اس معاملے کو باب چلاس سے خنجراب تک عوامی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔۔ پاکستان کے ذمہ دار اداروں کو چاہئے کہ گلگت بلتستان و لداخ اور آزاد کشمیر و مقبوضہ کشمیر کو پانچواں اور چھٹا صوبہ بنانے میں دیر نہ کرے تاکہ اس عمل سے نریندر مودی کے اقدام کا اسے جواب بھی ملے گا اور عبوری آئین دینے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھئ کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ کشمیر پر پاکستان کا موقف بھی برقرار رہے گا۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں لداخ کی سیٹیں مختص کی جائیں جبکہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی سیٹیں رکھی جائیں۔۔۔

 

 

تحریر: فیض اللہ فراق

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc