آرڈر 2018 کے تحت گلگت بلتستان حکومت اور اسمبلی کو دیگر صوبوں کے برابر اختیارات مل چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ

گلگت(پ،ر)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ سیاسی مفادات اور آنے والے انتخابات کو مدنظر رکھے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کی مفاد میں ہر فورم پر بات کی ہے اور وفاقی حکومت کو سفارشات دیئے ہیں۔ ہم آرڈر کے بجائے ایکٹ کے ذریعے نظام چلانے کے حامی ہیں۔ چند لوگ اپنے سیاسی مجبوریوں کے تحت پریس کانفرنسز کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت گلگت بلتستان حکومت اور اسمبلی کو دیگر صوبوں کے برابر اختیارات مل چکے ہیں۔ سیاسی مفادات کی وجہ سے معروف نعرے لگائے جاتے رہے لیکن عوام اور علاقے کیلئے بہترین نظام پر غور نہیں ہوا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی ملازمتوں کے کوٹے سے گلگت بلتستان کو فاٹا سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تمام طالب علم اور لوگوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور فاٹا کی وفاقی حکومت میں ملازمتوں کا کوٹہ الگ کیا جائے۔ موجودہ وفاقی حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کرنے کی کوشش کی جس پر گلگت بلتستان حکومت نے دو فیصد کوٹہ گلگت بلتستان کو دینے کا مطالبہ کیالیکن وفاقی حکومت نے صرف ایک فیصد کوٹہ گلگت بلتستان کو دیا۔ ہماری آبادی کے تناسب سے آئینی طور پر ہمارا پونے ایک فیصد بنتا ہے۔ پھر بھی اس میں اضافے کی سفارش کی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے دیئے جانے والے نظام کو سمجھ کر بات کرنا چاہئے۔ بغیر سمجھے پاپولر نعرے لگائے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ایک دوسرے کو سننے کے کلچر کا فقدان ہے۔ مخصوص طبقے کیلئے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حق میں جو نظام بہتر ہو اس کی بات کرنی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو اختیارات سیاسی اصلاحات کے ذریعے سے ملے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز سے گلگت بلتستان کے اصلاحات کے حوالے سے مشاورت مکمل کی اور سفارشات وفاقی حکومت کو پیش کیا۔ سفارشات پر عملدرآمد کا طریقہ کار گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کے مشترکہ اجلاس میں نئے اصلاحات کو پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک صوبائی اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کا مشترکہ اجلاس طلب نہیں کیاجس پر وزیر اعظم پاکستان سے کہا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں صوبائی اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کے ممبران کو بلاکر نئے اصلاحات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ جس کے بعد مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ جس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ وزیر اعظم سے حالیہ اجلاس میں بھی گلگت بلتستان کونسل اور صوبائی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اصلاحات پیش کرنے کی بات ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سابق وفاقی حکومت نے تمام آئینی فورمز میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دی تھی تاہم اس پر عملی تعمیل نہیں ہوئی جس پر وزیر اعظم پاکستان سے بات ہوئی ہے کہ تمام آئینی فورمز میں گلگت بلتستان کی انتظامی بنیادوں پر نمائندگی یقینی بنائی جائے جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام آئینی فورمز میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کونسل کے اختیارات اور بجٹ کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت سے بات ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کو کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صوبائی معاملات میں کونسل کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے اور گلگت بلتستان میں جاری فیڈرل پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کو معیار اور رفتار کو یقینی بنانے کیلئے پرنسپل آکاؤنٹنگ آفیسر گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری کو بنانے کی بات کی ہے کیوں کہ صوبائی حکومت نے اپنے اے ڈی پی کی پچھلے چار سالوں سے 100 فیصد بجٹ کے استعمال کو یقینی بنارہی ہے جبکہ پی ایس ڈی پی کے منصوبوں پر رفتار اوردستیاب وسائل کے استعمال کو 100 فیصد خرچ نہیں کیا جاسکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی سابق وفاقی حکومت نے نوٹیفائی کردیا تھا لیکن موجودہ وفاقی حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں۔ دو تھائی اکثریت کی حامل صوبائی حکومت خطے کے تمام لسانی اور مذہبی طبقوں کے حسین امتزاج کا گلدستہ ہے اور ہم عوام کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر ملکی سطح پر تمام فورمز پر بے لاگ اور بے دھڑک نمائندگی کے قائل ہیں جبکہ خطے اور ریاست کے معروضی حالات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور مملکت کے اساس اور مضبوطی پر ایمان رکھتے ہیں اور بے عمل سیاسی نعروں کے قائل نہیں ہیں۔صوبائی حکومت سپریم کورٹ میں حتمی سفارشات جمع ہونے کے بعد اپنے سفارشات کی شمولیت یا عدم توجہی پر واضح موقف پیش کرے گی۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc