ضلع غذر اور سکردو میں سودی کاروبار عروج پر،ادارے کاروائی کرنے میں ناکام عوام دلدل میں پھنس گئے۔

سکردو(ٹی این این) تحریر نیوز نیٹ وورک کی سروے ٹیم نے سکردو میں بڑھتی ہوئی سود کے کاربار کے حوالے سے ایک سروے کی۔ سروے کے مطابق سکردو میں گھر بیٹھے منافع بخش کاروبار اپنے عروج پر ہے لیکن روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں۔ سود کا گھناؤنا دھندہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں سب زیادہ سودی کاروبار ضلع غذر اور ضلع سکردو میں بتایا جاتا ہے اور بڑی تیزی سے یہ مکروہ دھندہ فروغ پا رہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ ضلع غذر میں خودکشی کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی سودی ہے جس کے باعث لوگ تنگ آ کر اپنی زندگی کی چراغ گل کر دیتے ہیں۔ اگرچہ گاہے بگاہے مسجد کےمنبرسے لیکر حکومتی ایوانوں تک سود کے مکروہ دھندے کی گن گرج سنائی دیتی رہی لیکن عملی طور پر اس کے مثبت نتائج سامنے نہ آ سکا۔ تاہم اس کے سدباب کیلئے قانون تو موجود ہے لیکن عملدرآمد تاحال نہیں ہو سکی۔ اس سلسلے میں زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے سپیشل برانچ کی مدد سے کئی ماہ پہلے سکردو شہر میں سودی کاروبار سے منسلک بیوپاریوں کی ایک لسٹ مرتب کرکے قانون کے شکنجے میں لانے کی کوشش کی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر آج تک منظر عام پر نا آ سکے۔ ضلع سکردو کے پولیس سربراہ نے متعدد بار اخباروں میں خبریں شائع کیں مگر وہ خبر کی حد تک ہی محدود رہے عملی طور پر کوئی ٹھوس اقدامات کرتے نظر نہیں آئیں جس کے سبب سودی نظام کو بام عروج پر پہنچانے والے بڑی دیدہ دلیری سے اس مکروہ کاروبار کو مزید وسعت دینے میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اب تک ان کے ہاتھوں جمع پونجی کے علاوہ گروی رکھی گئی جائیدادیں بھی گنوا کر فٹ پاتھ پر پہنچ چکی ہے۔ سود کے بڑے بیوپاریوں نے شہر میں اب کمیشن پر ایجنٹس کے ذریعہ لین دین شروع کر رکھا ہے تاکہ حیلے بہانوں سے قانونی گرفت سے بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق سکردو شہر کے اندر کون کون سے لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں وہ تمام اعداد و شمار تحقیقاتی اداروں کے پاس موجود ہیں نہیں معلوم آخر ایسی کونسی وجوہات ہیں جو ان عناصر کے خلاف کارروائی سے روک رہی ہے ۔اس وقت سودی نظام کے نت نئے طریقے اپنانے کی بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہے کہ ابتداء میں بڑے بڑے کاروباری اور امیر لوگوں کے نو عمر بچوں کے اوپر نظریں گاڑ کے رکھتے ہیں کہ کب کس وقت انہیں اپنی گرفت میں لینا ہے ۔اس کے لیے بھی حل ڈھونڈا گیا ہے کہ پہلے ان کے ہاتھوں مہنگا موبائلز موٹر سائیکلیں اور آخر میں لگژری گاڑیاں جو اصل قیمت سے دو گنا زیادہ قیمت طے کر کے پھنسایا جاتا ہے آدھ سے زائد قیمت وصول کر لیے جاتے ہیں ۔اس کے لئے ایک دو ماہ کا عرصہ دے دیا جاتا ہے مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے پر گاڑی چھین لی جاتی ہے یا موقع محل دیکھ کر اس کے اوپر مزید سود چڑھا کر واپس دے دی جاتی ہے اس طریقہ سے بھی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کر زندگی اجیرن کردی جاتی ہے اب تک کئی امیر زادوں کے ساتھ ساتھ عام شہری ان مافیا کے ہاتھوں لٹ چکی ہے نوجوان نسل سودی مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہوتا جا رہا ہے شنید ہے کہ اس مکروہ کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے بہت سے مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین خاص طور پر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کچھ ٹیچر کے نام سامنے آ رہی ہے ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc