عوامی ایکشن کمیٹی نے آرڈر 2020 کے تحت الیکشن کرانے کی صورت میں مزاحمت کا اعلان کردیا۔

گلگت(سعادت علی)عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے مجوزہ متوقع آرڈر 2020 کو مسترد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ کسی صورت گلگت بلتستان میں آرڈر 2020 کو نافذ ہونے نہیں دینگے اور اس آرڈر کے تحت انتخابات 2020 ہونے نہیں دینگے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مکمل گائیڈ لائن دیا ہے اب حقوق کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں رہا ہے لہزا ایکٹ اف پارلیمنٹ کے زریعے لوکل آتھارٹی کا قیام آٸینی و قانونی تحفظ کے ساتھ مربوط نظام دیا جاۓ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سید یعصوب الدین۔غلام عباس۔مسعود الرحمن۔ابرار بگورو۔راجہ میر نواز۔فاروق احمد و دیگر نے گلگت کے مقامی ہوٹل میں صحافيوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوۓ کہا کہ 2020 آرڈر گلگت بلتستان میں نافذ ہوا تو اس کے قصور وار گورنر اور وزیراعلی گلگت بلتستان ہونگے لہذا ان کو چاہیے کہ اپنی دوغلی پالیسی ختم کرے گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت قوم سے مخلص نہیں ہے ان کی نیتوں پر ہمیں شک ہے کیونکہ جب ان کے ہاتھ میں کچھ ہوتا ہے تب کچھ نہیں دیتے ہے 2009 آرڈر کو پیپلز پارٹی بہتر اور 2018 آرڈر کو ن لیگ بہتراور اب متوقع آرڈر 2020 کو تحریک انصاف بہتر قرار دے کر تعریفوں کے پل باندھ رہی ہے بلکہ سڑتاج عزیز کمیٹی کی سقارشات پر ن لیگ خود رکاوٹ بنی آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا کب تک گلگت بلتستان کے عوام کو آرڈرز کےتحت چلایا جائے گا گلگت بلتستان کے عوام پر آرڈرز ہی آرڈرز کیوں گلگت بلتستان اسمبلی خود انتظامی اور سیاسی آئین بناکر سفارشات قومی اسمبلی بھیجے وہاں سے منظور ہوکر آئی وہی جی بی میں نافذ کیا جاۓ تاکہ بہتر حقوق مل سکے ارڈر 2020 کے حوالے سے عوامی رابطہ مہم جاری ہے اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلا کر قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے گا اور تحریک چلائےی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں 2009 آرڈر میں وار ہوا جس میں جنگلات۔منرلز اور مائنیگ کے اختیارات وفاق کو دیے گیے پاور شیرنگ فارمولے کے کی وجہ سے جی بی کے عوام کے لیے نوکریوں کے دروازے تقریبا بند ہوچکے اور 2018 آرڈر کی وجہ سے پہلے کی نسبت وفاقی ملازمین ذیادہ آنے لگے ہم نے آرڈرز کے خلاف مزاحمت کی ہے اور آئندہ بھی کتے رہینگے۔حکومتی ممبران اسمبلی اور وزرا 2020 کے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے بیانات اور پریس کانفرنسس کر رہے ہے اگر یہ لوگ اتنے ہی جی بی کے عوام کے ساتھ مخلص ہے تو اسمبلی سے استعفی دے کر صرف ساڑھے چار مہینے کی مراعات کو قربان کرکے دیکھاۓ یہی وزرا 2018 آرڈر کی مخالفت کرنے پر عوامی ایکشن کمیٹی اور اپوزیشن ممبران کو را کے ایجنٹ قرار دےرہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے 5 آگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے اب آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار دےکر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جاۓ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc