اقوام متحدہ کےقرارداد کے مطابق گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرکے حقوق دیا جائے۔ممبران اسمبلی

اسلام آباد(ٹی این این) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران نےاسلام آباد پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کرکےگلگت بلتستان مجوزہ آرڈر 2020 مسترد کر دیا۔ پریس کانفرنس میں مختلف پارلیمانی جماعتوں ممبرانمسلم لیگ ن کے رہنما اسپیکر فدا محمد ناشاد، اپوزیشن لیڈر کیپٹن ر محمد شفیع خان، مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد، چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کیپٹن ر محمد سکندر، پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین رکن اسمبلی اور چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات کاچو امتیاز حیدر شرکت تھے۔
پارلیمانی رہنماوں کا متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں متنازعہ علاقہ قرار دیا جائے۔اُنکا مزید کہنا تھا کہگلگت بلتستان کوبہتر سالوں سے آرڈرز اور پیکج پر چلایا جا رہا ہےاورپاکستان تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان آرڈر 2020 کے نفاذ کی تیاری کی جا رہی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان آئین پاکستان کا حصہ نہیں ہےنہ ہی گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حقوق حاصل ہیں،اسمبلی گلگت بلتستان میں رائے شماری ہوئی نہ ہی آئینی اور فیصلہ سازی کے حقوق حاصل ہوئے۔اُنہوں نے وفاقی حکومت سے شکوہ کیا کہ قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ میں نمائندگی نہ ہونے کے باعث گلگت بلتستان میں عوامی مسائل کی حل کیلئے سخت مشکلات درپیش ہیں اور خطے میں میں بڑھتی بے چینی پاکستان کے لئے نیک شگون نہیں ہے اور محرومی کا یہ سلسلہ مزید جاری رہا ہے تو لاوا کسی بھی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ممبران اسمبلی مطالبہ کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق متنازعہ حیثیت تسلیم کی جائے اور گلگت بلتستان کو وہ تمام سہولیات دی جائیں جو کسی بھی متنازعہ علاقے کو حاصل ہوتی ہیں اور اگر حکومت ہماری نہیں سُنتے تو تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دی جائے گیاور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کریں گے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc