تنازعہ کشمیر یو این کی قراردادوں کے تناظر میں کے عنوان سے سکردو میں سمینار کا انعقاد۔ پاکستان اور ہندوستان سے بڑا مطالبہ۔

سکردو(پ،ر)تنازعہ کشمیر، لداخ، کرگل، جموں،شاقسگم، آقصائی چن اور گلگت بلتستان کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر اور ماضی، حال، مستقبل کے موضع پر سکردو کے مقامی ہوٹل میں سول رائٹس موومنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔سمینار سے سول سوسائٹی بلتستان کے اور سول رائٹس مومنٹ کے رہنماوں محمد علی دلشاد، محمد حسین عابدی، سیدانور علی کاظمی اور محمد شکیل صابری اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر سمیت دیگر تمام اکائیوں کے مستقبل کا فیصلہ پچھلے 72 سالوں سے حل طلب ہے اور اقوام متحدہ کے قرارداد نمبر 122جوکہ24 جنوری 1957 کو منظور کی گئی تھی اس قرار داد میں کہا گیا کہ آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی قانون ساز اسمبلی متنازع جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ہے۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا چونکہ اسوقت صرف آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس اقوام متحدہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کشمیر کے بھارت نواز سورماؤں کے ساتھ مل کر مسئلہ کوالجھائے رکھنے کوششوں میں لگی ہوئی تھی جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہےاور اس کا حل صرف اور صرف رائے شماری کے ذریعے ممکن ہے۔ مقررین نے کہا کہ نہ بھارت اور نہ بھارتی مقبوضہ متنازعہ علاقے کی کوئی سیاسی پارٹی یا تنظیم تنازعہ کا حل تجویز کرسکتی ہے اور نہ ہی پاکستانی مقبوضہ کشمیر و گلگت بلتستان میں موجود سیاسی پارٹیاں متنازعہ علاقہ کے بارے میں کوئی لائحہ عمل طے کرنے کا مجاز ہے۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے یہاں کے شہریوں کی انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے آزادانہ رائے شماری کیلئے راہ ہموار کریں۔ مقررین نے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370اور 35اے کو منسوخ کرکے کشمیریوں کیلئے آزادی کا راہ ہموار کیا ہے اب کشمیری کسی طور بھی شیخ عبداللہ اور مہاراجہ کے ساتھ ہونے والے محلاتی معاہدوں کے پابند نہیں ہے اور نہی بھارتی پارلیمنٹ کشمیر بارے کسی قسم کی قانون سازی کرنے کی مجاز ہے۔مقررین نے کہا کہ متنازعہ علاقے کے 46 فیصد رقبے پر اسوقت بھارت کاقبضہ اور 38 فیصد رقبہ پاکستان کے زیر قبضہ ہے جبکہ کم از کم 28 فیصد علاقے پر چین قابض ہے. اب ان متنازعہ علاقہ جات کے مستقبل کے حل، استصواب رائے کیلئے تینوں فریقوں کو اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے آپنی فوجیں ہٹانے ہونگے۔ مقررین نے کہا کہ تقسیم برصغیر کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے کشمیری مہاراجہ کے ریاستی اقتدار کو تحفظ دینے کے بدلے اس سے انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرا لیے تھے۔اس طرح وادی کشمیر، جموں اور لداخ پر انڈیا کا اقتدار قائم ہو گیا تھا. جبکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر قبائلیوں کے لشکر کشی کی بناء پر پاکستان کے زیر اثر آگیا تھا۔ جبکہ گلگت بلتستان کے عوام نے خود ڈوگرہ فوج کو بھگا کر اپنے علاقوں کو آزاد کرایا تھا لیکن کچھ بدخواہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی خود حاصل کردہ آزادی کو ایک جعلی معاہدہ کراچی کے ذریعے سلب کرنے کی کوشش کی گئی جس کا خمیازہ گلگت بلتستان کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں. جموں، کشمیر،لداخ،کرگل، شاقسگم، آقصائی چن اور گلگت بلتستان کے مستقبل کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق ابھی ہونا ہے اس تناظر میں . 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی اقوام کی قرار داد میں پانچ رکنی کمیشن کو ہدایات دی گئیں کہ وہ خطے میں جا کر دونوں ممالک کے درمیان امن بحال کرائے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے منعقد کرانے کے انتظامات کرے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی وجہ 93 ہزار جنگی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے شملہ معاہدہ پر دستخط کرنے پر پاکستان مجبور ہوا اور اس معاہدے کے ذیل میں بھارت نے انتہائی مکاری کے ساتھ تنازعہ کشمیر کا باہمی تنازعہ ہونے اور آپس میں بات چیت سے حل کرنے کے شرائط پر پاکستان سے دستخط لے لیا. اس دن سے آج تک بھارت اقوام متحدہ کے فورم پر اس تنازعہ کے کسی بھی رپورٹ، ریزولوشن پر جواب دینے سے گریز کرتا چلا آرہا ہے. لیکن ان تمام مسائل کے باوجود نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، نہ اقوام متحدہ، نہ بھارت اور نہ پاکستان یہ زحمت کرنے کیلئے تیار ہیں کہ آخر کشمیر، جموں لداخ ،کرگل،شاقسگم، آقصائی چن اور گلگت بلتستان کے باسی کیا چاہتے ہیں. مقررین نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام پر پاکستان کے ہر طالع آزما حکومتیں آرڈر کے ذریعےغلام بنائے رکھنے پر تل جاتے ہیں. یہاں کے عوام کسی صورت بھی آقا اور غلام کے تصور پر مبنی آرڈر 2020کو نہیں مانتے ہیں اور ہم اس آرڈر کو جمہوری اقدار کے مکمل منافی قرار دیتے ہیں. ان آرڈر کے ہی نتیجے میں گلگت بلتستان کے وفاق پرست ٹولے بھی اب دل برداشت نظر آتے ہیں. جس کا اظہار پیپلزپارٹی جی بی کے صدر نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا تھا.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc