ہائے زود پشیماں کا پشیماں ہونا

کسی بھی ملک میں بسنے والے عوام کے لیے ریاست اس کی ماں کی حیثیت رکھتی ھے جبکہ ریاستی ادارے ان پھلدار درختوں کے مانند ہوتی ھے جوکہ عوام کو ہر موسم اور ہر حالات میں ان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔جب ماں رونے اور چلانے کے باوجود دودھ دینا بند کردے اور پھلدار درختوں نے بہترین موسم میں سوکھنے کی اداکاری کرتے ہوئے پھل دینا بند کردے تو ایسی بستیوں اور علاقوں میں زندگی کی رمق ممکن نہیں ہوتی دوسری الفاظ میں ایسی ماوں اور پھلدار درختوں کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہیں ہوتے ۔ پاکستان کو وجود میں آئے 73 سال گزر گئے یہ 73 سال بلتستان کے عوام خداداد مملکت پاکستان کی استحکام کے لئے دعائیں دیتے تھک گئے ہیں ۔ عوام کو کیا معلوم تھا کہ یہ دھرتی ماں ان پر آنے والے مشکلات پر دودھ خشک ہونے اور درخت سوکھنے کی اداکاری کرینگے ۔ گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت جو گزشتہ کئی سال سے بلتستان والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رھے ہیں ۔ یہاں کی ملازمتیں ،ترقیاتی اسکیمیں سمیت مختلف اداروں کو گلگت میں موجود بیورو کریسی اپنا خالہ جی کا گھر سمجھتے ہیں ۔ گلگت ڈویلپمینٹاتھارٹی(GDA)اور سکردو ڈویلپمینٹاتھارٹی(SDA)دونوں ایک ساتھ وجود میں لائے کئی سال گزر گئے گلگت میں موجود اس متعصب بیوروکریسی نے آنے والی ساری بجٹ GDA میں رکھا اسے اوپر اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کی جبکہ SDA میں آج تک ایک روپیہ نہیں رکھا بلکہ SDA بے کھاتہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اگر SDA فعال ہوتے تو سکردو کے عوام مسلسل ایک ماہ سے اتنے مشکلات میں نہ ہوتے۔ کسی علاقے میں کوئی ایسا آفت آئے جو اس کی کنٹرول سے باہر ہو اس علاقے کو آفت زدہ قرار دیا جاتا ھے اس سال بلتستان میں سردی اور برف دونوں نے پچھلے 100 سال کا ریکارڈ توڑ دیا کئی جگہوں پر بڑے بڑے درخت پھٹ گئے لوگوں کو گھروں کے چھت سے برف پھینکنے کا جگہ نہیں مل رہا تھا شہر کے سڑکوں پر برف کے ٹیلے نہیں بلکہ برفانی تودے دکھائی دے رھے تھے سکردو کے کئی بازاروں میں گاڑیوں کا گزرنا تو ایک خواب تھا انسانوں کا پیدل گزرنا محال ہوچکے تھے اتنے بڑے مقدار میں برف کا ہٹانا عوام کی بس کی بات نہیں تھی یعنی یہاں برف کو ہٹانا عوام کی کنٹرول سے باہر تھا لہذا فوری طور اس علاقے کو آفت زدہ قرار دیکر سرکاری مشینری کو حرکت میں لانا چاہئے تھا لیکن سکریٹری بلدیات کی بلتستان دشمنی دیکھیں کہ آفت زدہ قرار دینا تو دور کی بات بلکہ سکردو کی سڑکوں پر سے برف نہ ہٹانے کا حکم جاری کردیا جب سکریٹری موصوف کا یہ پروانہ سکردو انتظامیہ کو ملا تو یہ لوگ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر منظر سے غائب ہوگئے اور عوام گزشتہ ایک ماہ سے تاریخ کی بد ترین مشکلات سے گزر رھے ہیں ۔ سیاسی نمائیندے اور سیکریٹریز اپنے سہولیات اور عیاشی کے لئے کروڑوں روپے ادا کرکے 4×4 وی گو گاڑیاں خریدتے ہیں اگر ان کو عوام کا تھوڑا بہت بھی درد ہوتا تو یہ لوگ عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لئے ان مہنگی گاڑیوں کے جگہے جدید مشینری خرید چکے ہوتے سکردو کے عوام تسلسل سے پریشانی میں مبتلا لیکن ان اپنے اس عیاشی اور فضول خرچی پر کوئی پشیمانی نہیں۔ گلگت میں دو انچ برف کو ہٹانے کے لئے وزیر اعلی خود نگرانی کرتے ہیں سکردو کے سڑکوں پر سے برگ کو نہیں ہٹانے کا پروانا جاری کیا جاتا ھے خدارا تاریخ سے سبق سیکھیں سکردو بلتستان کے عوام کو دیوار سے لگانے کی سازش بند کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ بلتستان کے عوام گلگت سے علیحدگی اور اپنے لئے الگ سیٹ اپ کے لئے تحریک شروع کرے پھر اس زود پشیماں کے پشیماں ہونے کا کوئی فائیدھ نہیں ہوگا۔ تحریر:احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc