حق حاکمیت کے مطالبے کو جاری رکھنا ممکن نہیں مگر حق ملکیت کیلئے اپنی جان سے کھیل جائیں گے۔ امجد ایڈوکیٹ

گلگت(ٹی این این) پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے  پارٹی کے دیگر رہنماوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں متوقع گلگت بلتستان آرڈر 2020 کو مسترد کردیا۔اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام بہتر سالوں سے سیاسی جبر برداشت کرتے آرہے ہیں ہمارے خطے میں سیاسی جدوجہد اور آئینی حق مانگنا غداری کے زمرے میں تصور کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے گلگت بلتستان کو اپنی چراگاہ بنا کے رکھا ہوا ہےیہاں کے عوام پہلے راجگی کے جبر سہتے تھے اور اور اب جہوریجبر سہنے پر مجبور ہیں۔اٌنکا مزید کہنا تھا کہ ایک بار پھر آرڈر 2020 کے نام پر ہماری قوم کی ساتھ ذلت کی انتہا ہوئی کی جارہی ہے اب ہم حکمرانوں کے روئے پر اعتراضات بھی نہیں کرینگے کیونکہ ہم سیاسی مظلومیت کے آخری درجے پر پہنچ چکے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہر تین ماہ بعد نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں گلگت بلتستان کے عوام کی توہین کی جاتی ہے ۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر پر مودی کے عمل پر رد عمل نہ دے کر ثابت کر دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام انسان نہیں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں اور پاکستانی حکمرانوں کے سامنے گلگت بلتستان کے عوام کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہاں جبر کی بنیاد پر نظام نافذ ہے اسلئے حق حاکمیت کے مطالبے کو جاری رکھنا ممکن نہیں لیکن حق ملکیت کے لیے اپنی جان سے کھیل جائیں گے۔ اُنکا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے کسی بھی سرکاری اہم عہدے کیلئے گلگت بلتستان کا باسیوں کیلئے ناممکن ہے بسفقط ایک عہدہ دیاہوا ہے وہ ہے وزیر اعلیٰ، ہم کہتے ہیں کہ یہ بھی واپس لے جائیں کیونکہ اُن کے پاس اختیار کچھ بھی نہیں ہے، اُنہوں نے کہا کہ آئی جی، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہوم، سیکرٹری فنانس، سپریم اپیلیٹ کورٹ کا چیف جج، چیف کو رٹ کا چیف جج یہاں کا باشندہ نہیں بن سکتا میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں لیکن سپریم اپیلیٹ کورٹ میں وکالت نہیں کر سکتا۔، اگر یہی پالیسی ہے تو وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی واپس لیا جائے تاکہ یقین ہو سکے کہ ہم اس خطے کے وارث نہیں،ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc