لوک داستان رگیالفو کیسر سے منسوب رہچھ نما پتھر اخر ہے کہاں اور اس حوالے سے روایات ہے کیا؟ قسط نمبر دو

بلتستان میں شمع اسلام روشن ہونے سے پہلے بدھ ازم کے پیروکار رہائش پذیر تھے اس دور کے آثار بلتستان بھر میں موجود ہیں جن میں سکردو منٹھل میں موجود بدھاسٹ راک بہت مشہور ہیں تاہم ضلع کھرمنگ کے سرحدی گاؤں ترکتی میں موجود ریچھ نما اس پتھر کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے بدھسٹ کے ہاں اسے بھگوان کا درجہ تھا اور اس ریچھ کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے گلے میں باقاعدہ زیورات اور ہاتھوں میں کنگن بھی زمانہ قریب تک دکھائ دیتے تھے ۔
دوسری روایت کے مطابق دیومالائ داستان ہلہ فو کیسر سے منسوب اس پتھر کو رنٹھس یعنی چڑیل کہا جاتا ہے روایت کے مطابق گاوں کے لوگوں نے کیسر کی اطاعت کی تو کیسر کی دشمن چڑیل کو بہت غصہ آیا اور گاؤں والوں کو وارننگ دی کہ اس بادشاہ کی اطاعت ترک کردو یا مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اس طرح وہ گاوں پر حملہ آور ہوئی دوسری جانب کیسر کی پھوپھی جس کا نام الکرمان بتایا جاتا ہے وہ گاوں کو بچانے آگئی۔ اسی جگہ دونوں طاقتوں کا مقابلہ ہوا اور بلآخر الکرمان نے جادوی طاقت سے اس چڑیل کو پتھر کا بنایا جو آج بھی حملے کے انداز میں گاوں کی جانب جھکی ہوئی ۔۔۔

تحریر ممتاز ناروی

تحریر نیوز نیٹ ورک کی خصوصی سیریز کی یہ دوسری قسط ہے

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc