برفباری ۔بیوروکریسی ۔ بلتستان دشمنی اخر کیوں؟

جوں جوں کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے رائے شماری کے لئے ماحول سازگار کرنے میں تیزی آرھے ہیں وزارت امور کشمیر اور گلگت میں موجود بیورو کریسی بلتستان کے حوالے سے انتہائی سخت سرد مہری دکھائی دے رھے ہیں۔ بلتستان میں اس سال کی بدترین برفباری اور شدید ترین سردی نے پچھلے 100 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ۔بلتستان میں کچھ جگہے ایسے ہیں جہاں 8 سے 9 فٹ برف پڑے لوگوں کے لئے زندگی ایک طرح سے عذاب بن گئی لوگ کئی کئی دن تک گھروں میں محصور ہوگئے ہمسائے والوں کو ایک دوسرے کی خبر تک نہ ہوئی ۔ خود سکردو شہر میں سڑکیں ہر طرف سے برفانی تودوں کا منظر پیش کر رھے تھے ۔تجارت تباھ ہوچکی تھی ۔یہاں بھی لوگ کئی دن تک گھروں میں محصور رھے ہمت کرکے گھر سے نکلنے والے بہت سارے لوگ ہاتھ پاوں سے محفوظ گھر واپس نہیں لوٹے۔ گھر کے باہر کا منظر دیکھ کر لوگوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی سکردو شہر ھے جہاں وھ رہتے ہیں۔ اگر کہیں سب کچھ ٹھیک تھا تو صرف سکردو انتظامیہ کے زبان اور ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ میں تھے۔ سکردو شہر کی سڑکوں پر گاڑیاں گزرنا تو دور کی بات انسانوں کو گزرنے میں بہت مشکلات پیش آرہے تھے۔ مہنگائی نے عوام کے لئے زندگی پہلے ہی اجیرن بنائے ہوئے تھے ایسے میں خون جمانے والے سردی میں گیس اور لکڑی کا خریدنا غریبوں کے لئے ایک خواب بنا ہوا تھا۔ ایسے حالات میں سکردو انتظامیہ منظر سے مکمل غائب تھے ۔ ڈزاسٹر منیجمینٹ جو اسی طرح کی ہنگامی حالات کے لئے مشینری سمیت مراعات کے ساتھ اس علاقے میں لطف اندوز ہو رھے تھے ان کا کوئی بھی مشینری کسی بھی سڑک پر نظر نہیں آئے بلکہ اس ادارے کا کار کردگی صفر رہا ۔اس ادارے کا کردار بھی بلتستان میں ہاتھی کا دانت ثابت ہوا ۔
چیف سکریٹری گلگت بلتستان کی جب بلتستان آمد کی خبر سنی تو عوام نے سکھ کا سانس لیا کہ موصوف کم از کم سکردو کی سڑکوں سے برف ہٹانے میں اپنا کردار ادا کرینگے لیکن چیف سکریٹری بھی سکردو انتظامیہ کی بی ٹیم ثابت ہوا۔ ان کی سکردو آمد نشستن، گفتن برخاستن سے آگے نہیں بڑھا ۔شاید چیف سکریٹری صاحب اپنے لئے ٹی اے ڈی اے بنانے آئے تھے جو بنا کے واپس چلے گئے۔بلتستان کے عوام چیف سکریٹری کی آمد اور واپسی کے بعد پورے گلگت بلتستان کی انتظامیہ اور بیورو کریسی سے بلتستان دشمنی پر نا امید ہوگیے۔ گلگت بلتستان انتظامیہ اور بیوروکریسی نے زندگی کی اس مشکل وقت میں بلتستان کے عوام کے ساتھ دشمنوں والا کردار ادا کیا ۔ ایسے حالات میں وزارت امور کشمیر تو بلتستان کا نام تک بھولے ہوئے تھے ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ بلتستان کے عوام زندگی کے اس مشکل دور سے گزر رھے ہیں۔ انجنئیر شجاعت صاحب کی قیادت میں ایک وفد انکو یہاں کی صورتحال سے آگاھ کرنے کے لئے ملاقات کرنے گیا تو موصوف نے ملاقات تک سے انکار کردیا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو بلتستان دشمنی میں وزارت امور کشمیر گلگت بلتستان انتظامیہ سے دو ہاتھ آگے نظر آئے ۔
اقوام متحدہ نے کشمیر ،جموں ،کرگل لداخ ،گلگت بلتستان اور اقصائے تبتہا میں رائے شماری کرنے کا فیصلہ کرچکا ھے اس سے پہلے صرف پاکستان اور انڈیا دو فریق کے طور پر سامنے تھے اب اقوام متحدہ نے تیسرا فریق کے طور پر چائنہ کو بھی شامل کردیا ھے۔ اب لوگوں نے فیصلہ کرنا ھے کہ ان تینوں میں سے ایک کے ساتھ شامل ہونا ھے یا اپنی آزاد حیثیت کے لئے ووٹ ڈالنا ھے کشمیر میں زیادھ تر لوگ آزاد حیثیت میں ووٹ ڈالنے کی حق میں دکھائی دیتے ہیں ایسے حالات میں ریاست پاکستان کے لئے گلگت بلتستان کے عوام کا فیصلہ انتہائی اہمیت کے حامل ھے۔ بلتستان میں عوام خدشہ ظاہر کر رھے ہیں کہ کہیں وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان انتظامیہ اس نازک موڑ پر بلتستان کے عوام کو نظر انداز کرکے کہیں بغاوت کشمیر کا کردار تو ادا نہیں کر رھے کہیں یہ لوگ پاکستان کے بجائے اندرون خانہ انڈیا کے لئے تو کام نہیں کر رھے ریاست کو چاہئے کہ اس نازک موڑ پر بلتستان کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے مسائیل پر توجہ دیں اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور تاریخ سے سبق سیکھیں۔

تحریر:احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc