سکردو میں اسپورٹس کمپلیکس کی جگہ ہسپتال بنانے کے پیچھے میگا کرپشن کو چھپانےکی کوشش کاہوشرباء انکشاف۔

سکردو(ٹی این این) سپورٹس کمپلیکس میں 250 بیڈ اسپتال بنانے کیلئے تحریک انصاف کی ضد پس پردہ محرکات کون؟ٹی این این کی ٹیم نے اصل حقائق کو منظر عام پرلے آیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی اندورنی ذرائع مطابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال سپورٹس کمپلیکس میں اسپتال تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں ایک خفیہ میٹنگ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کے اہم کارکن کے گھر پر ہوئی جس میں گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت ہوئے۔اُس میٹنگ کو آرگنائز مشہ بروم کمپنی کے مالک معروف گورنمنٹ کنٹریکٹر بابو رضا کے حوالے سے بتایا جاتاہے انہوں نے گورنر گلگت بلتستان کے اہم قریبی ساتھی کو یہ اہم ٹاسک سونپا گیا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے گورنر کو منا کر اسپتال کو سپورٹس کمپلیکس میں تعمیر کیا جائے تاکہ مبینہ انکوائری سے جان چھوٹ جائیں۔ سپورٹس کمپلیکس کروڑوں کی لاگت سے تعمیر کیا تھا ناقص منصوبہ بندی اور مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی کرپشن دفن ہوسکے ۔کیونکہ اس حوالے سے شکایات کے باوجود آج تک اعلی سطح پر نتیجہ خیز انکوائری نہ ہو سکی۔ محکمہ تعمیرات کے کرپٹ آفیسروں اور متعلقہ ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے اس عظیم منصوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا۔یوں جس مقصد کے لئے سپورٹس کمپلیکس کو تعمیر کیا گیا تھا بدقسمتی سے مذکورہ بالا منصوبہ طے شدہ معاہدہ اور اصل نقشہ کے مطابق تعمیر نہیں ہو سکا۔ اسی لیے کئی سالوں سے کوئی بڑا ایونٹ سپورٹس کمپلیکس میں نہ ہو سکے متعدد بار سپورٹس کمپلیکس کے حوالے سے تحقیقات ہوئی ۔ اس پراجیکٹ کی انکوائری رپورٹ ڈی سی سکردو کے فائلوں دب کر رہ گیا لیکن ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل نہیں لایا گیا۔ محکمہ تعمیرات کے اہم ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سپورٹس کمپلیکس کا ٹھیکہ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدا محمد ناشاد کے سابقہ اہم قریبی ساتھی موجودہ رقیب مشہ بروم کمپنی کے روح رواں بابو رضا کے نام ہے۔ یہی وجہ ہے اس سلسلے میں کئی مرتبہ اعلی سطح پر انکوائری ہوئی لیکن بااثر شخص ہونے کی وجہ سے رپورٹ کو اب تک دبا کر رکھا ہوا ہے ۔یاد رہے کہ سابق وزیر اعلی مہدی شاہ کے دور میں انکوائری کا باقاعدہ آغاز ہوا عین اسی وقت بابو رضا کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی وجہ سے مبینہ دھاندلی منظر عام پر نہ آ سکا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی اسے نظر انداز کیا وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت وفاق میں آتے ہی مذکورہ بالا شخص نے فوری طور پر پی ٹی آئی کی جماعت میں شمولیت اختیار کی تاکہ سپورٹس کمپلیکس کے انکوائری دوبارہ منظر عام پر نہ آ سکے ۔250 بیڈ اسپتال فارسٹ ڈپارٹمنٹ کے وسیع و عریض میدان جو ڈی ایچ کیو اسپتال سے چند ہی قدم کے فاصلے پر واقع ہلمو رنگاہ میدان میں بنائے جانے تھے اب اسے سپورٹس کمپلیکس کی جانب موڑنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں بدلے میں سپورٹ کمپلیکس کے لیے کہیں بھی خالصہ زمین الاٹ کر کے دیے جائیں گے آنے والے دنوں میں جگہ انتخاب میں شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل آئے گا سوشل میڈیا میں ایک بار پھر اس حوالہ سے شہریوں کے ردعمل ظاہر ہو رہا ہے
عوامی حلقوں اور سکردو سول سوسائٹی کے رہنماوں نے اس حوالے سے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جس طرح ہسپتال بلتستان کی اہم ضرورت ہے بلکل اسی طرح سپورٹس کمپلیکس بھی صحت معاشرے کا ضامن ہے لیکن سپورٹس کمپلیکس کو ختم کرنے کے ہسپتال بنانے کی منطق کے پیچھے یقینا کرپشن کی کہانیاں ہے۔لہذا نیب کو چاہئے کہ اسپورٹس کمپلیکس میں کرپشن کے حوالے سے مکمل انکوائری کریں اور کرپشن میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کڑی سزا دیں اور ہسپتال کیلئے موزوں جگے کا انتخاب کریں

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc