رشتے نازک ہوتے ہیں

رشتوں کی نزاکت ان سے پوچھ صاحب
جو جیتے ہیں زندگی بھر ان سے جدا ہو کر
رشتے نازک ہوتے ہیں یہ کسی فلم کا ڈائیلاگ یا نام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی سچائی جس سے آج ہر فرد ،خاندان ،قبیلہ یہاں تک کہ ریاست نے بھی منہ موڑ لیا ہے اس کالم کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ آج کے دور میں رشتوں میں ملاوٹ اور خون سفید ہو گیا ہے کا محاورہ بہت استعمال کیا جارہا ہے اسی حوالے سے میں نے ایک پوسٹ اپنے مرحوم والد گل محمد اور مرحوم بھائی محمد رفیق کے لیے فیس بک پر لگائیں ۔میرے ان دونوں پیاروں کی یادیں ایسی ہیں جو ہر موڑ پر ہر قدم پر ساتھ رہتی ہیں آج کافی سالوں کے بعد بھی بھائی اور باپ کی کمی بہت زیادہ محسوس ہوئی جب کسی بزرگ یا پھر کسی بیٹی کو اپنے باپ کے ساتھ دیکھتی ہوں تو دل مچل جاتا ہے ،بے چین ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بابا آپ اتنی جلدی کیوں چلے گئے ؟؟؟
یہ سوچتی ہوں جب انسان حیات ہوتا ہے تو ہم اس کی قدر نہیں کرتے ،ان کی محبت کو نہیں سمجھتے، ان کے ہونے کے احساس کو نہیں سمجھتے آج ان کی جدائی میں لاکھ سر پیٹو مگر وہ سامنے موجود نہیں ۔مگر پھر میرے عزیز بھائی ،میرے دوست میرے ہم جماعت طارق بھائی نے کہا کہ زندگی آنے اور جانے کا نام ہے ۔آج کے زمانے میں یہ عام ہوچکا ہے کہ مرنے کے بعد ہم ماتم کرتے ہیں، بین کرتے ہیں پھر اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں طارق بھائی نے مجھے کہا کہ رشتوں کی نزاکت ،اہمیت سنجیدگی پر بھی کچھ لکھو ۔
اشفاق احمد صاحب نے کیا خوب بات کہی ہے کہ
” زندہ لوگوں کو پوچھتے نہیں مرنے والوں پر چادریں چڑھاتے ہیں”
ان کے لئے دیگیں کرتے ہیں ان کی قبر پکی سنگ مرمر کی کرکے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب اس قبر پر ہمارا حق ہے مگر اس مٹی میں انسان کی مردہ لاش جاتی ہے جو کچھ وقت بعد گل سڑ کر ختم ہو جاتی ہے ۔خدارا زندوں سے محبت کیجیے ان کو وقت دیجئے ان کی اہمیت کو سمجھئے زندگی بے حد مختصر ہے ہم موت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ہاں زندگی اس قدر مصروف ہو چکی ہے کہ ہم سوشل میڈیا، اپنی کام کی جگہوں پر تووقت گزار دیتے ہیں ،زیادہ تر وقت دوستوں میں بتاتے ہیں ،بچے والدین کو اور والدین بچوں کو ٹائم نہ دے کر ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ۔
رشتوں کی اہمیت اور ان کی نزاکت کا کوئی ان سے پوچھے جو بیرون ملک میں تلاش روزگار کےسبب اپنوں سے مل نہیں سکتے ،ان سے پوچھیے جو جیلوں میں بے گناہ اور نا معلوم جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں ،ان سے پوچھیے جو بچے نا جائز اولاد ہونے کا طعنہ سنتے ہیں ،ان سے پوچھیے جو والدین اپنے بچوں کی وجہ سے اولڈ ہاؤس میں رہنے پر مجبور ہیں ،بارڈر پر کھڑے سپاہی سے پوچھے جو کہ سچا سپاہی ہوتا ہے اور اصل فوجی وہی ہوتا ہے اور جام شہادت نوش فرما کر وطن کے پرچم میں لپیٹ کر پھر اسی زمین پر اپنوں کے ساتھ مل جاتا ہے جو اسے یاد کر کے روتے ہیں مگر اس بار جب وہ آتا ہے تو سب مردہ جسم کے ساتھ ،ان سے پوچھیں جو موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کے دل میں یہی بات رہتی ہے کہ پتہ نہیں کب میری زندگی کی شام ہوجائے گی اور میں اپنوں سے بچھڑ جاؤ گا ،اس سے پوچھیے جو نا گہانی موت کے سبب اپنے عزیز و اقارب کو زندہ لاش بنا کر رب کی رضا سے اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ،ان سے پوچھیے جو معاشرے کے ناپاک گندے لوگوں اور ڈرگ مافیا کے ہاتھوں نشے کی لت میں مبتلا ہوکر اپنے ماں باپ، بہن بھائی ،بیوی بچوں سے دور ہوگئے ۔اور انہیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ نشے کی حالت میں وہ کچرے میں پڑے ہیں یا نشے کی حالت میں کھڑے ہیں تو کھڑے اور بیٹھے ہیں تو بیٹھے ہیں۔
ان سے پوچھیے جو ناگہانی آفتوں کے سبب گھر کے گھر اس دنیا سے چلے گئے ۔پچھلے دنوں ایک دردناک واقعہ کراچی کے علاقے دومنٹ چورنگی پر ہائی روف میں موجود ایک ہی گھر کے 9 افراد کے ساتھ پیش آیا شادی میں جانے والی یہ تیسرٹاؤن کی فیملی گلشن اقبال پہنچنے سے پہلےاپنے گلشن کے سنگ لحد میں اتار دیئے گئے ۔اے پی ایس، سانحہ نشتر پارک ،ثانیہ راولپنڈی چرچ ،سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری ،حالیہ آزاد کشمیر اور گلگت کی برف باری اس طرح کے بے شمار سانحات نے گھر کے گھر ختم کردیئے ۔
میری آپ سے گزارش اور التجا ہے کہ مہربانی فرما کر رشتوں کو وقت دیں ،اہمیت محبت دیں جو آپس کے تفرقات ہیں ان کو ختم کر دیں ،نفرتوں کو محبت میں بدل دیں کیا پتہ یہ شام کل نصیب ہو یا نہ ہو ۔طارق جمیل صاحب سے کافی لوگوں کو اختلاف ہوگا مگر رشتوں سے متعلق جو بیانات انہوں نے بیان کئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ایک انسان ہونے کے ناطے میں وہ سنتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ عمل بھی کرو ۔
آخر میں میں اپنے تمام عزیز دوستوں ،خاندان والوں سوشل میڈیا کے عزیزواقارب سے کہوں گی کہ میری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو ،مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو تو تہہ دل سے معافی کی طلب گار ہوں ۔جہاں تک ہوتا ہے میں کوشش کرتی ہوں کہ میری ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے میری پوسٹ سے کافی لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے مگر مجھے جو سچ لگتا ہے وہی بیان کرتی ہوں اور یہ ضروری نہیں کہ جو مجھے صحیح لگے وہ سب کی رائے ہو کیونکہ ہر ایک کا نظریہ الگ ہے ۔۔۔دل آزاری کے لئے پھر معافی کی طلبگار خوش رہیں آباد رہیں۔

میں بھی انسان ہوں خطا کر سکتی ہو ❤

میری غلطیوں کے لئے مجھے معاف کرنا دوستوں

تحریر :حمیدہ گل محمد

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc