کواردو میں تعلیمی مسائل کے زمہ دار کون؟

کواردو میں تعلیمی مسائل پر گاہی بگاہہ قلم اٹھاتا رہتا ہوں مگر اس دفعہ سوچا ایک مکمل خاکہ پیش کروں تاکہ خواب غفلت میں سوئی ہوئی قوم اور بے حسی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ذمہ داران کی آنکھیں کھل جائیں اس لئے اہل علم اور اہل قلم سے بھی رائے اور مدد لیکر قارین کی خدمت میں پیش کررہاہوں، علاقہ کواردو سکردو شہر سے 21 کلو میٹر کے فاصلے پر تقریبا 800 گھرانوں اور 10 ہزارسے زیادہ نفوس پر مشتمل آبادی ہے جہاں کے عوام دور جدید میں بھی نظام تعلیم، صحت اور دیگر زندگی کے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ موضوع کی حد و قیود کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں یہاں فقد تعلیم سے مربوط چند مسائل کی طرف اشارہ کرنے جارہا ہوں، باقی مسائل پر کسی اور موقع پر قلم کو حرکت میں لاوں گا۔ علاقہ کواردوکو زمانہ قدیم سے علمی اور اخلاقی طور پر نمایاں مقام حاصل ہے، سید علی طوسی سے لیکر علامہ شیخ محمد جو تک اور شیخ محمد جو سے لیکر آج جامعہ طوسی تک یہ علاقہ دینی علوم کا مرکز رہا ہے جہاں سے بلتستان بھر کے عوام مستفید ہورہے ہیں۔طول کلام میرا مقصد نہیں لہذا اصل موضوع پر گفتگو کروں کہ علاقہ کواردو میں عصری تعلیم کی حصول کیلئے سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں ہزاروں طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ البتہ گذشتہ چند سالوں میں یہاں پرائیوٹ سکولوں کی رجحان بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی ادراے کافی متاثر نظر آرہی ہے اس کی اصل وجہ سرکاری اداروں میں قابل توجہ تعلیم کا فقدان ہے۔ اس دفعہ مجھے تقریبا کواردو کے تمام سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کا دورہ کرنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا یہاں کے طلاب تو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔کسی سکول میں وائٹ بورڈ نہیں تو کسی میں کرسیاں نہیں، کہیں پر بچھانے کیلئے فرش نہیں تو کہیں پرسائے کے لیے چھت نہیں۔ اس دور جدید میں بھی کواردو کے طلباء و طالبات آسمان تلے زمین پر بیٹھے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہیں جوکہ ذمہ داران اور موجودہ نمائندہ کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ چونکہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بچوں کو تعلیم دلانا ذمہ داران پر لازم ہے۔ حلقے میں پہلی دفعہ کواردو سے ایک نمائندے نے سیاست میں قدم رکھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کسی ایک جگہ ملاقات میں ان سے سوال کرنے کا موقع تھااور انہوں نے بلاتاخیر کہا تھاکہ میں سب سے پہلے تعلیمی مسائل پر توجہ دوں گا۔البتہ کچھ دنوں پہلے ٹیلی فونک رابطہ پر انہوں نے کہا کافی حد تک کام کرچکا ہوں جبکہ کئی معاملات ابھی پروسس میں ہے مگر مجھے موصول ہونے والی عوامی شکایات کے مطابق پانچ سال پہلے کے مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں بظاہر تعلیمی اداروں میں کسی قسم کی کوئی پیشرفت دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ علاقے میں اگر طلباء کی تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں پرائمری سکولوں کے علاوہ ایک ہائی اسکول بھی ہے جو خود کئی مسائلوں کا شکار ہیں۔ٹیچرز کی کمی، کلاس رومز کی کمی، اور دیگر سہولیات کا فقدان ناقابل بیان ہے۔علاقے میں ٹیچرز کے حوالے سے دیکھا جائے تو سال گذشتہ کواردو کے مختلف سکولوں میں سے پانچ سینئر ٹیچرز پنشن ہوچکے ہیں جن کی سیٹ پر ابھی تک کسی اور کو تعینات نہیں کئے۔ ہائی اسکول میں اس وقت کل آٹھ ٹیچرز ہیں جبکہ محکمے کی جانب سے 17 ٹیچرز کا نام درج ہیں جن میں دو لیڈی ٹیچر کا نام بھی شامل ہیں جو اب تک ہمیں نظر نہیں آئے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کئی سالوں سے یہاں کے ہیڈ ماسٹر کی سیٹ بھی خالی ہے چونکہ محکمے کے آئین کے مطابق کسی بھی ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے لیے کم از کم 17 یا 18 گریڈ کا ہونا ضروری ہے مگر کواردو ہائی سکول میں اس وقت گریڈ 16 سے اوپر کا کوئی بھی ٹیچر نہیں۔ جس کی بناپراس وقت ہیڈ ماسٹر کی ذمہ داری بھی گریڈ 16 کے ایک ٹیچر کی کندھے پر عائد ہے۔البتہ ان کی اخلاص اور کاوشیں اپنی جگہ قابل تعریف ہیں جنہوں نے اپنے عہدے سے زیادہ ذمہ داری اٹھاکر اپنی تمام تر توانائی کو بروئے کار لائے ہوئے انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف عمل ہے مگر کسی محکمے کا جب طے شدہ کوئی قانون ہو تو اس کے تقاضے کو پورا نہ کرنامحکمے کی نااہلی ہے۔ جبکہ حال ہی میں اپ گریڈ ہونے والے اساتیذ میں کواردو کے انتہائی مخلص اور قابل ٹیچر جناب سر فیض محمد صاحب جنہوں نے گریڈ 18 میں ترقی پانے کے بعد اپوائمنٹ بھی کواردو ہائی اسکول میں ہواتھا،باوجوداس کے ان کی ڈیوٹی گمبہ میں لگا دی گئی ہے جوکہ کواردو عوام اور ہمارے مستقبل کے معماروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ چونکہ کواردو ہائی اسکول میں 18 گریڈ کا ہیڈ ماسٹر نہ ہونے کی وجہ سے یونین کونسل کواردو قمرا کا ڈی ڈی او شپ بھی کچورا میں ہے جو ایک الگ درد سر ہے۔ چونکہ ایک ڈی ڈی او کے ماتحت کم از کم پانچ اسکولز ہوتے ہیں جن کی مالی معاملات، اساتیذ کی تنخواہ اور بونیسز سے لیکر سکولوں کی ترقیاتی فنڈزسمیت تمام ملازمین کے سرویس بک تک کا براہ راست ڈی ڈی او سے وابسطہ ہوتا ہے جو کہ دوسرے یونین میں ہونے کہ بناپر کواردو قمرا کے ٹیچروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ کواردو قمرا میں کل ملاکے اس وقت بیس سے زیادہ سرکاری سکولز ہیں جوکسی اور ڈی ڈی او کے ماتحت ہونے پر تمام معاملات میں ڈی ڈی او اپنے علاقے اور یونین کو ترجیح دیتا ہے۔لہذا اس وقت یونین کونسل کواردوقمرا کا ڈی ڈی او شپ کا الگ ہونا ناگریز ہوچکا ہے جس کے لیے ارباب اختیار کو فوری کردار ادا کرنی ہوگی۔کواردو میں اگر طالبات کی تعلیمی مسائل پر نگاہ کریں تو دختران کواردو کے لیے دور جدید میں بھی اپنی محنت اور والدین کی رضایت شامل حال رہی تو بڑی مشکل سے آٹھویں جماعت تکتعلیم میسر ہے، چونکہ یہاں ان کیلئے خاطر خواہ کوئی نظام تعلیم موجود نہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے ایک مڈل سکول کواردو کے ایک کمیٹی اپنی مدد آپ کے تحت چلارہے تھے جس کیلئے حال میں ایک بلڈنگ بھی منظور ہوگئی اور عمارت تیار ہونے کے باوجود بھی نہ جانے کس بہانے سے اب تک استعمال میں نہیں لائے ہیں وہ بلڈنگ اپنی تمام خوبصورتی کے باوجود خالی ڈھانچے کا منظر پیش کررہی ہے۔ جبکہ مڈل کے لڑکیوں کو ایک پرائمری سکول میں رکھا ہوا ہے جہاں صرف تین کمرے ہیں۔ ایک چھوٹے کمرے میں اول سے پنجم تک کے طلباء و طالبات جن کی تعداد تقریبا 40 تک ہیں۔ اور باقی دو کمروں میں کلاس ششم سے ہشتم تک کی طالبات جوکہ 60 طالبات پر مشتمل تین کلاسیں ہیں، اگر سکول کی بلڈنگ کی حالات دیکھی جائے تو کواردو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تعمیر ہونے والی قدیم عمارت ہے جس کے باعث در و دیواریں کافی بوسیدہ ہوچکے ہیں اور دوران بارش چھت سے پانی ٹپکتے ہیں کھڑکیاں بھی اکھڑ چکی ہے۔ اس سال بارش کی وجہ سے ایک سائیڈ کی دیوار بھی گر گئی تھی۔ کئی دفعہ ذمہ داران کی در پر دستک دی مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی،جبکہ سابقہ ڈی سی نے خود وزٹ کرکے تمام تر صورت حال کا جائزہ لیا تھا اور فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ محکمے کے ذمہ داران کو لکھ بھیجا تھااس کے باوجود بھی فنڈز کا بہانہ بناکر اب تک کوئی پیشرفت نہ ہوسکی، جس کے بعد طلبہ کو وہاں رکھنا خطرناک ثابت ہوا اس لئے گاوں کے چند افراد کی مشاورت سے کلاس اول سے پنجم تک کے پرائمری بچوں کو مقامی امام بارگاہ میں شفٹ کردیا جو اب تک اسی امام بارگاہ میں ہی زیر تعلیم ہیں ذمہ داران کی غفلت کے باعث بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں کافی متاثر ہیں۔ اسی طرح تقریبا کواردو کے ہر گاوں میں موجود پرائمری اسکول کا یہی صورت حال ہے۔ موضع سترانگدونگما کی بات کی جائے تو یہاں تین گاوں کی آبادی ہے جہاں حال ہی میں طالبات کے لیے ایک مڈل اسکول کی منظوری ہوگئی ہے جس میں گورنمنٹ کی جانب سے تین جبکہ مقامی کمیونٹی کی جانب سے دو ٹیچرز ہیں البتہ یہاں بھی گورنمنٹ کی جانب سے تعینات ایک لیڈی ٹیچر منظر سے غائب ہیں ان کے آڈر سکول میں پہنچے کئی ماہ گزر چکے، مگر محترمہ نے ابھی تک حاضری نہیں دی۔ مزید تحقیقات پر معلوم ہوا ہے یہ ٹیچرز محکمہ تعلیم کے اعلی عہداروں کے قریبی رشتہ دار ہونے کی بناپر قانون کی دھجیاں اڑائی ہے چونکہ محکمہ تعلیم کے قانون کے مطابق کسی بھی ٹیچر پہلی دفعہ جس جگہ اپوائمنٹ ہو وہاں حاضری نہ دینے کی صورت میں ڈس مس ہوتا ہے اور کم از کم تین سال تک اس کو وہاں ڈیوٹی دینی ہوتی ہے اور وہ تین سال تک کسی اورجگہ ٹرانسفر کروانے کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتے۔مگر موصوفہ نے اعلی عہدے داروں کے سہارے کا فائدہ لیکر اب تک کواردو کا رخ نہیں کیا جبکہ تنخواہ سے براہ راست مستفید ہورہی ہے۔ ان تمام مشکلات کے پیش نظر رکن قانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز صاحب سے رابطہ کیا تو سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے متعلقہ محکمہ کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے موسم سرما کی تعطیلات کے بعد لیڈی ٹیچر بھی حاضری دے گی،سرفیض محمد بھی کواردو ہائی سکول جوائن کرے گا، اور ساتھ ہی ڈی ڈی او شپ بھی کواردو منتقل ہوجائیگی۔ مگر اس سے پہلے بھی کئی معاملات میں وعدے وعید ہونے کے باوجود عملی میدان بلکل خالی رہا۔جس کی بناپراب کسی بات پہ یقین کرناہمارے لیے خاصا مشکل بن گیاہے مگر عوام پھر بھی ایک مرتبہ اسی امید پر موسم سرما کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ یہاں کے تعلیمی میدان میں پیشرفت دیکھنے کیخواہاں ہیں، بصورت دیگر عوام کا شدید رد عمل سامنے آئیگا۔

تحریر ایس ایم موسوی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc