لوک داستان رگیالفو کیسر تصویر کے آئینے میں بلتستان میں کہاں کہاں اثرات نظر اتے ہیں قسط نمبر ایک

سکردو سے مشرق کی جانب سفر کرتے ہوے میدان نر تھنگ میں دریاے سندھ کے اس پار ،ایک پہاڑی درہ ہے جو دو بلند اور تکونی پہاڑوں سے شروع ہوتا ہے، ان کو ” برق، شیرینگ مو” کہتے ہی.، بلتی شہکار ادب لوک داستان خلہ فو کیسر کے مطابق شہنشاہِ تبت کیسر جب خور (کاشغر) کے بادشاہ سے مقابلہ کرنے نکلا تو اسی درے پہ پہنچا تو یہ دیکھ کے پریشان ہوا کہ پہاڑ کے دونوں سرے تالی بجانے والے ہاتھوں کی طرح بار بار آپس میں مل رہے اور ان کے درمیان سے گذرنا ممکن نہیں، اس نے آزمانے کے لیے جیسے ہی پہاڑ الگ ہوے ان کے درمیان تیر چلا دی کیونکہ اس کا گھوڑا تیر کی رفتار سے دوڑتا تھا، اس پہاڑ نے تیر کے پچھلے سرے کو پکڑ لی تو کیسر نے گھوڑے کو ایڑ لگا ئ اور درے سے نکلنے کی کوشش کی، شومئی قسمت کہ گھوڑے کا دم درے میں پہنس گیا، خلہ فو کیسر نے بڑی منت سماجت کی اور ایک رزمیہ گیت بھی گایا جس میں اپنے مشن کی اہمیت بیان کی گیت سن کر محافظ پہاڑ کا دل بھی پسیجا اور انہوں نے اس شرط پر کیسر کے گھوڑے کو چھوڑا کہ وہ واپسی پہ خور یل کے بادشاہ کے دونوں بیٹوں کا سر لا کے اسے پیش کرینگے، کہا جاتا ہے کیسر نے اس مہم میں کامییابی کے بعد ان سروں کو لا یا اور اسی نر تھنگ میدان میں سروں کو ہوا میں اچھال کے سٹک مارا جوتاریخ میں پولو کھیل کی ابتدا بنی، جب سٹک سر پہ لگا تو اس نے کہا “درا، فوق” یعنی برابر لگا، آج بھی پولو میں گول کرنے کو ” ڈافوق” کہتے ہیں جو اسی درا فوق کی بگڑی شکل ہے

تحریر ممتاز ناروی۔

  1. تحریر نیوز نیٹ ورک کی خصوصی سیریز قسط نمبر ایک

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc