چین میں کرونا وائرس نے درجنوں انسانی جانیں نگل لیں،گلگت بلتستان زد میں آنے کا شدید خطرہ۔

سکردو(ٹی این این ) چین کے صوبے وہان میں خطرناک کرونا وائرس نے 80 سے زائد انسانی جانیں نگل لیں ، اس سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہاہے جبکہ اس مرض کی ویکسین کی تیاری کیلئے چین نے کام شروع کردیا، اب اسی صوبے میں پھنسے پاکستانی طلبا کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں، حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ہمیں بھی یہاں سے نکالنے کے انتظامات کریں۔ وہان یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ عامر سہیل نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس علاقے کو پہلے تو شاید کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اب ہربندہ جان چکاہے، 3000سے زائد مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 80سے زائد افراد موت کی وادی میں چلے گئے، اسی شہر میں تین ہزار پاکستانیوں سمیت کئی غیرملکی رہتے ہیں، دوسرے ممالک نے انتظامات شروع کردیئے ، ہماری بھی حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ ہمیں نکالیں، یہ وائرس ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور خدشہ ظاہرکیا جارہاہے کہ مارچ تک یہ وائرس اپنے عروج پر ہوگا، اس سے پہلے کہ حالات بگڑ جائیں ، ہمیں اور دیگر پاکستانیوں کو یہاں سے نکالیں۔
دوسری طرف گلگت بلتستان سے چین کا زمینی راستہ بند رکھنے کیلئے عوامی حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پرمسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے، عوامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گلگت بلتستان خنجراب سے چین کیلئے راستہ کھلنے سے کرونا وائرس گلگت بلتستان پہنچنے کے شدید خطرات ہیں کیونکہ محکمہ صحت گلگت بلتستان کے پاس اس کے روک تھام اور سکریننگ کا کوئی نظام نہیں۔
ایک بین الاقوامی ادارے کے مطابق اس وائرس سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کا لقمہ اجل بننے کا خدشہ ظاہرکیاجارہا ہے۔لہذا چین اور گلگت بلتستان بارڈر کھولنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے گلگت بلتستان میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کا پہلا کیس دسمبر میں سامنے آیا تھا اور تیزی سے پھیلنا شروع ہوا ہے یہ وائرس چائنہ کے دیگر شہروں میں بھی بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اب تک کرونا وائرس کا علاج ممکن نہیں اور تین ماہ تک کسی قسم کی ویکسین کی تیاری ناممکن بتائی جا رہی ہے سائنسدان اب تک اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ محکمہ صحت اور حکومتی اداروں کے پاس اس پر کنٹرول کرنے کا نظام ہونا تو دور کی بات اس حوالے سے اعلیٰ حکام کے زہنوں میں کوئی خاکہ تک موجود نہیں۔ ایسی خطرناک صورتحال میں خنجراب بارڈر کھولنا موت کو داعوت دینے سے کم نہیں۔۔ خدا نخواستہ یہ وائرس گلگت بلتستان پہنچ جائے تو باآسانی پورے پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc