غربت سے غریبوں کے خاتمے تک کاسفر

کسی بھی ملک کی ترقی او ر خوشحالی کا جائزہ وہاں کے عام لوگوں کا معیار زندگی سے لگایا جاتا ہے اور کسی بھی حکومت کی کامیابی کا ادراک ان کی مروجہ مقاصد ہوتے ہیں۔جس سے عام افراد کی زندگی،معیار زندگی،صحت،تعلیم اور روزگارپر مثبت اثرا ت مرتب ہوں۔دنیا میں انہیں حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو عوام دوست پالیسز مرتب کرتے ہیں اور ملک ومعاشرے سے جہالت اور غربت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتے ہیں۔اسی طرح کی کوششیں گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں ہورہی ہیں۔جہاں ہر سیاسی جماعت اور سیاسی رہنما سیاست میں قدم…

Review Overview

User Rating: 4.63 ( 8 votes)

کسی بھی ملک کی ترقی او ر خوشحالی کا جائزہ وہاں کے عام لوگوں کا معیار زندگی سے لگایا جاتا ہے اور کسی بھی حکومت کی کامیابی کا ادراک ان کی مروجہ مقاصد ہوتے ہیں۔جس سے عام افراد کی زندگی،معیار زندگی،صحت،تعلیم اور روزگارپر مثبت اثرا ت مرتب ہوں۔دنیا میں انہیں حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو یاد رکھا جاتا ہے جو عوام دوست پالیسز مرتب کرتے ہیں اور ملک ومعاشرے سے جہالت اور غربت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتے ہیں۔اسی طرح کی کوششیں گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں ہورہی ہیں۔جہاں ہر سیاسی جماعت اور سیاسی رہنما سیاست میں قدم محض عوام کی حالت زار پر رحم کھا کر تے ہیں۔اسی ہمدردی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ جب وہ مسند اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں توعوام کے ساتھ فرعون،شدات اوریزید کا رویہ اختیار کرتے ہیں،دور نہ جایے اس کی جیتی جاگتی مثال پاکستانیوں کے ہر دلعزیز،دل نظیر رہنما،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ہیں،جنہیں اب بھی خود پر یقین نہیں آتا کہ وہ وزیراعظم ہیں،کبھی کبھار ٹی وی دیکھتے ہیں غریبوں کی حالت دیکھ کر انہیں سخت غصہ آتا ہے اور اضطراب کی اس کیفیت میں وہ گیس بجلی بل جلانے نکل جاتے ہیں،کچن میں پہنچتے ہی روحانی پیشواء سے حل تلاش کرتے ہیں،وہ فوراانہیں یاد دلاتی ہے کہ آپ وزیراعظم ہیں،پھر کہیں جا کر انہیں یقین آجاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور یک دم غریبوں کے مصائب ومشکلات اور جذبہ ہمدردی سے نکل کر سوچتے ہیں احتساب کے نعرے کے تحت اب کس پر کیا الزام لگا نا ہے۔اقتدار ملنے سے پہلے مہنگائی کیخلاف تحریک،غریبوں کے دکھ درد سمجھنے اور ان کے حقوق کے لیے ڈی چوک میں بجلی کے بل جلانے اور قومی اداروں پر دھاوا بولنے سے بھی باز نہیں آئیے۔غربت مٹاو،سرمائیہ دارانہ نظام کا خاتمہ،عوام کا ٹیکس عوام پر خرچ،صحت،تعلیم،روزگار عام کرنے کے نعرے لگائے۔یہی غربت مٹاو نعرے وجہ بنے کہ وہ بر سر اقتدار آیئے،اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ عمران خان کو مسند فراموشاں پر بیٹھانے میں عوام کا کردار کلیدی رہا ہے ساتھ ہی خلائی مخلوق نے بھی دام درم سخن ِ اپنا کردار آدا کیا اور ثواب دارین حاصل کرلیا۔خلائی مخلو ق اس ملک کی اصل حکمران ہے جو جی میں آئیے کرگزرجاتی ہے،اب کی بار انہیں لگا کہ بلند وبانگ نعرے لگانے والے کو آگے کیا جائے تاکہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لوٹائی جائے اور اب خلائی مخلوق سمجھتی ہے کہ ان کا فیصلہ غلط تھا،یقینا خلائی مخلو ق کے بہت سے فیصلے ایسے ہیں جن کا غمیازہ آج بھی عوام بھگت رہی ہے۔ غریب پرور یہ انسان غربت مٹاو پالیسی لے کر نکلے اور درجہ کمال تک پہنچتے پہنچتے و ہ نعرہ غربت مٹاو سے غریب مٹاو کی سمت گامزن ہوئے۔اقتدار کے ڈیڑھ سالہ عرصے میں اندازہ کرلیا کہ بلند بانگ دعوں سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں،غربت مٹاو پالیسی کا واحد راستہ ہے کہ غربت کی بنیادی وجوہات کو ہی تلف کیا جائے اور غربت کی وہ بنیادی وجہ اس ملک کے غریب ہیں جو 60فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔یہ 60فیصد آبادی بوجھ ہے،ان ہی کی وجہ سے ملک ہر روز نت نئے بحرانوں کا شکار ہے کبھی آٹے کا بحران تو کبھی چینی کا بحران،کبھی یہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر کسی جماعت کے خلاف بغاوت کرکے ایک نیا بحران کھڑاکردیتے ہیں،اس لیے ان کا خاتمہ ضرری قرارپایا۔ ان مقاصد کو شرمندہ تعبیر کرنے کی غرض سے آغاز میں سنہرے خواب،بڑی امیدیں،کروڑوں نوکریاں،اعلیٰ معیاری صحت،تعلیم ہر ایک کا حق دینے کا وعدہ کیا گیا۔ عمران نیازی اور ان کی ٹیم نے ان وعدوں کی تکمیل کیلئے شیخ رشید جیسے بدنام زمانہ لوگوں کو میدان میں اتار دیا اور جوتے سنبھالنے کی ذمہ داری فیصل واوڈا کو سونپ دی۔ان پست قامت لوگوں نے عوام کو مشورے دیئے کہ اگر تبدیلی چاہتے ہو تو دو روٹیوں کی جگہ ایک روٹی کھا و،یا پھر کہا کہ دسمبر،جنوری میں لوگ کھانا زیادہ کھاتے ہیں اس لیے آٹے کا بحران آتا ہے،دو وقت کی روکھی سوکھی پر گزارہ کرنے والی عوام اب ایک وقت کی روکھی سوکھی پر گزارہ کرنے لگی اور یوں حکومت اپنے مشن پر کامیاب ہوئی،کامیابی کا پہلادرجہ اس وقت ملا جب کراچی کے میر حسن نے خود کوقبرستان کے بیچوں بیچ محض اس لیے آگ لگا یا کہ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک بے روزگارباپ تھا، اس کے بچے سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا تقاضا کررہے تھے،مگر بد قسمت باپ کے پاس بچوں کی ضرورت پوری کرنے کی بھی سکت نہیں تھیں،اس لیے میر حسن نے کہا اس باپ کو جینے کا کیا حق جو بچے تو پیدا کرے مگرا نہیں موسمی حالات سے نہ بچاسکے،اس لیے اس قبرستان کا رخ کیا تاکہ وہی پر خود کو آگ لگادے کوئی دیکھے گا بھی نہیں،بقول میر نہ کوئی جنازہ اٹھتا نہ مزار ہوتا،ان تمام کے خرچے بھی بچ جائیں،اسی طرح ہزاروں میر حسن روز خودکشی کرتے ہیں،غربت سے تنگ آکر مائیں اپنے بچوں کا گلہ دبا دیتی ہیں یا دریا بھرکرتی ہیں کہ ماں بچے کو بھوک سے بلکتا نہیں دیکھ سکتی۔اپنی تقاریر سے پہلے اقوال سنانے والے بے حث حکمران جو ریاست مدینہ بنانے چلے ہیں ان سے کوئی کہے کہ حضرت عمر کا قول ہے کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بوکا مرے تو عمر اس کا ذمہ دار ہے،آج جو لوگ غربت،مفلسی،روزگار اورپریشانیوں سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں ان کا کون ذمہ دار ہے۔تبدیلی سرکار نے تو پاکستان میں سب کچھ تبدیل کردیا جس کی توقع تک نہ تھیں،دووقت کی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرنے والے بھی ان سے برداشت نہ ہوئے یوں گندم بحران پیدا کیا بس اسی ایک بحران کی کمی تھیں اور اس بحران کے پیچھے جہانگیر ترین جیسے سرمایہ داروں کا ہاتھ ہے جو آٹا بحران کے بعد چینی بحران پرا تر آئیے ہیں،گندم29روپے کلو کے حساب سے 40ہزار میٹرک ٹن افغانستان کو برآمد کرنے کی تجویز بھی جہانگیر ترین خان کی تھیں اور اب جب بحران عروج پر پہنچا تو باہر سے وہی گندم مہنگے داموں درآمد کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے،سندھ میں جہاں خودکشی کی شرح بلند ہے،لوگ بھوکے مررہے ہیں،ایسے میں روٹی،کپڑا،مکان کی سرکار گندم کے ڈپو کرایہ پر لے کر سالانہ 36کروڑ روپے کرایہ آداکرتے ہیں اور تازہ رپورٹ کے مطابق گندم کے ان گداموں میں صرف 14کروڑ کی گندم تھیں،بلوچستان میں ایک لاکھ 80ہزار گندم کی بوریاں گل سڑ کر خراب ہوگئی،مگرکسی کو فکر نہیں کہ کسی غریب کے بچے سسک کر مرجائیں،تڑپ جائیں بقول شاعر
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی مگر غریب کی فاقوں سے مر گئی
بچے جن کی عمریں کھیل کود کی ہوتی ہیں وہ کچرا اٹھانے اور زندگی کی گاڑی کو پٹڑی پر رکھنے کے جتن کرتے ہیں۔بس شاعر کی زبانی اتنا لکھنا پسند کرونگا جو حالات میرے مشاہدے میں ہیں
افلاس نے بچوں کو بھی سنجیدگی بخشی
سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے
جب ایسا وقت کسی ملک وقوم پرا ٓجاتا ہے تو اس قوم کی بربادی کے اشارے ملتے ہیں آسمانوں پر کیونکہ رب الکریم کا فرمان ہے کہ تم اہل زمین پر مہربان ہوجا ومیں عرش بریں پرمہرباں ہونگا۔پس جیسا سلوک زمین والوں کے ساتھ ہم کریں اسی سلوک کے ہمیں منتظر رہنا چاہیے۔حکمرانوں کا رویہ،لہجہ درست نہیں،میں تو یہی مشورہ دونگا جو بوٹ تم ٹی وی شوز میں دیکھا رہے ہو وہ وقت دور نہیں وہ تمہارے گلے کا ہار ہوگا،کیونکہ خدا ئے لم یذل غریبوں کی آہ وفغاں کو ضرور سنتا ہے اور عوام بھی اب بیزار ہوچکی ہے اس لیے لہجے،کام اور پالیسز درکا میں تبدیلی درکارہے جوعوام دوست ہو نہیں تو
امیر شہر کا لہجہ مجھے پسند نہیں
اس سے یہ کہنا ذرا سا حد میں رہے

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc