بلتستان دشمنی ریسکیو 1122 لاوارث ۔

ریسکیو 1122 بنیادی طورپر ہنگامی حالات میں مریضوں کو فوری طور ہسپتال پہنچانے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ھے اس ادارے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ زندوں کو فوری ریسکیو کیا جائے۔بلتستان میں اس ادارے کا بنیادی مقصد تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہا ھے یہاں کوئی صحت مند آدمی کسی مریض کو ریسکیو کرنے کے لئے ریسکیو 1122 کی گاڑی لینے ان کے دفتر پہنچے تو اس ادارے کی ناگفتہ بہہ حالت کے ساتھ ساتھ ان کی بوسیدھ گاڑیوں کو دھکا دیتے دیتے وھ صحت مند آدمی خود لائق ریسکیو ہوجاتے ہیں ۔ اگر قسمت نے ساتھ دیکر یہ گاڑی سٹارٹ ہو بھی جائے تو اس میں ڈالنے کے لئے فیول بھی نہیں ہوتے ۔ سکردو میں ادارے کا انچارج بمشکل فیول کا بندوبست کسی حد تک کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔ سستم ظریفی یہ ھے کہ اس ادارے کا ڈی ڈی او شپ گلگت دفتر میں موجود بلتستان دشمن بیورو کریسی نے اپنے پاس رکھا ہوا ھے ۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ھے کہ اس ادارے کا 80 فیصد بجٹ گلگت میں خرچ ہوتا ھے ۔ڈی ڈی او پاور نہ ہونے کی وجہ سے اس ادارے کی گاڑیاں بلتستان میں بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رھے ہیں ان گاڑیوں کی مرمت کرنا ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے ایک محض ایک خواب بنا ہوا ھے۔ سکردو میں تاریخ کی شدید ترین برفباری کے دوران ریسکیو 1122 کی گاڑیاں ناکارھ ہونے کی وجہ سے غریب بے بس مریضوں کو لوگوں نے ریڑے میں ہسپتال لے گئے۔ لیکن پھر بھی اس ادارے کے کرپٹ آفیسران بالا کے کان میں جوں تک نہیں رینگی ۔

عوامی حلقوں کا کہنا ھے کہ گلگت میں موجود چند متعصب اور بلتستان دشمن سیکریٹریز بلتستان دشمنی میں حد سے تجاوز کر رھے ہیں ریسکیو 1122 کی ڈی ڈی او شپ سکردو منتقل نہ کرنا انہی متعصب اور بلتستان دشمن سیکریٹریز کی پالیسی کا شاخسانہ ھے۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ھے کہ ان تمام اداروں کے ڈی ڈی او پاور جوکہ ان سیکریٹریز نے اپنے تعصبی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے گلگت میں رکھے ہیں ان اداروں کے ڈی ڈی او پاور کو فوری طور سکردو منتقل کیا جائے تاکہ یہ ادارے عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی خدمات بہتر انداز میں انجام دے سکے۔ آئیندھ اسی طرح ڈی ڈی او شپ کو گلگت میں رکھ کے بجٹ سے خالی داروں کو بلتستان میں چلایا گیا تو اسے کھلم کھلا بلتستان دشمنی سمجھتے ہوئے عوامی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت اور مزاحمت ہوسکتے ہیں بلتستان بھر میں عوامی حلقوں میں بلتستان کے ساتھ سوتیلے ماں جیسا سلوک پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ھے چیف سکریٹری کو فوری مداخلت کرکے بلتستان کے عوام کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کا فوری ازالہ کرنا ہوگا اگر یہ لاوا پھٹ گیا تو اسے کنٹرول کرنا کسی کی بس میں نہیں ہوگا

تحریر:احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc