کیا بریگیڈر اسلم انقلاب گلگت بلتستان کے ہیرو تھے؟ مقامی صحافی کا اُنہیں انقلاب گلگت بلتستان کے ہیرو کا لقب دیکر تاریخ مسخ کرنے کی ناکام کوشش۔

گلگت( تحریر نیوز) کہتے ہیں صحافت کوجب مراعات اور خوش آمدی کا مرض لگ جائے تو معاشرہ بھی اس بیماری کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ صحافت معاشرے کا آئینہ کہلاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مقامی صحافی ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے اور ہمارے معاشرے کو تباہ برباد کرنے والوں کو قومی ہیرو کا نام دیا جارہا ہے۔ تاریخ میں یہ بات صاف اور شفاف انداز میں لکھا ہے کہ بریگیڈر اسلم یکم نومبر کی آذادی میں شامل نہیں تھے، بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انقلاب گلگت سے بہت پہلے جب جموں میں ایک خفیہ انقلابی کونسل بنی تو میجر اسلم چونکہ کرنل حسن خان سے صرف چھے ماہ سنئیر تھے اور کرنل حسن نے اُنہیں انقلابی کونسل میں بطورسنئیر چیرمین شپ آفر کی تو اُنہوں نے انکار کردیا اور کرنل حسن خان کو ہی چیرمین تسلیم کرلیا۔ اُس کے بعد میجر اسلم کوکہا گیا کہ وقت آنے پر آپ نے جموں کو آذاد کرنا ہے لیکن میجر اسلم نے انقلابی کونسل کے چیرمین سے بغیر کسی مشاورت کے غیر منقسم ہندوستان کے علاقہ رانگچھی میں پوسٹینگ کرادی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کرنل حسن خان کو مہاراجہ کشمیرنے ریاست کیلئے خطرہ سمجھ سرینگر سے بونجی ٹرانسفر کردیا۔ بریگیڈر اسلم جو اُس وقت میجر اسلم تھے اُنکا انقلاب گلگت بلتستان میں کوئی موجودگی نہیں تھے۔ اکتوبر 1947میں اُنہوں نے قبائلی لشکروں کیساتھ ملکرمیجر خورشید انور کی سرکردگی میں سرینگر پر حملہ کردیا ۔یکم نومبر کی آذادی اور 16نومبر کی غلامی تک کے مراحل میں یہ شخص گلگت میں موجود ہی نہیں تھے۔ ہمارے عوام کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ایک بریگیڈر اسلم ہی وہ شخص تھے جو انقلاب گلگت بلتستان کے بانی کرنل مرزا حسن خان کے سخت مخالف تھے اور اُنہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ کسی بھی طرح کرنل حسن خان سے انقلاب گلگت کا انتقام لینا ہے جس کئی ذاتی فیملی وجوہات تھے۔ دوسرے مرحلے میں ا نقلاب گلگت بلتستان کے بعد کرنل حسن خان کی ٹیم کو دیوار سے لگاکر جس طرح سے ڈرامہ راچاگیا اُس کے ایک ماہ بعد بریگیڈر اسلم کی گلگت پوسٹنگ ہوئی اور کرنل حسن خان کے ساتھ اُنکا ذاتی وجوہات کی بناء پرجھگڑا ہوئے تو وہ واپس چلے گئے۔اسی طرح بلتستان کی طرف جو پیش قدمی کے حوالے سے بھی یہ بات تاریخ میں لکھی ہوئی ہے کہ راجہ آف روندو کا کرنل حسن خان کو لکھے جانے والے خط کی بنیاد پر مجاہد بختاور شاہ کو کرنل حسن خان نے ذمہ داری سونپی اور وہ پیش قدمی کرتے ہوئے روندو بلتستان پونچے۔ لیکن جب داخلی اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے جب انقلاب گلگت بلتستان بلکل برُی طرح ناکام ہوئے اور کرنل حسن خان تنہا ہوگئے اور انکو جب معلوم ہوا کہ تمام تر معاملہ کرنل حسن خان کی ہاتھ سے سازشوں کے ذریعے چھین لیا ہے تو انہیں آگے بڑھ کر خود کو ہیرو کہلوانے کا موقع ملا اور اُنہوں نے آتے بلتستان کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کیا جو آج شھنگریلا کی شکل میں بطور گواہ موجود ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc