بلتی لوک داستان ۔ مون شیلنگبو

قسط نمبر ایک

بلتی ثقافت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب لداخ بلتستان میں لوک پیشے کے لحاظ سے دو گروہوں میں بٹ چکے تھے. ایک گروہ نے زراعت کو اپنا زریعے معاش بنایا تو دوسرے گروہ نے گلہ بانی اپنا لی اور یوں گوشت اور سبزیوں کے سہارے اپنا گزر بسر کرتےرہے.دونوں گروہوں کا مقصد پیٹ بھرنے کی حد تک محدود رہتے تھے. زیادہ تر لوگ گوشت، دودھ اور سبزی پر منحصر رہتے تھے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عقل و شعور میں تبدیلی آتی گئ. لوگ بنیادی ضروریات کی طلب سے نکل کر زخیرہ اندوزی اور طاقت کے بل پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے جیسے معاشرتی برائیوں میں مشغول ہو گئے. امیر اور غریب کے درمیان خلا بڑھتا گیااور یوں امیر تبقے نے غریب پرظلم کی انتہا کرتے رہے. کسان کو دن رات محنت مشقت کرنے کے باوجود تین وقت کی روٹی بھی اچھی طرح نصیب نہیں ہوتی تھی. قسمت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ سال بھر کاشتکاری کرنے کے بعد طاقت ور طبقہ ان کی روزی پر ناجائز قبضہ کرنے کے ساتھ ان کو اپنے غلام بنا کر رکھتے تھے. کئ لوگ ایسی ظلم و ناانصافی سے تنگ آ کر زندگی کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو گئے.

افسوس اس امر کی ہے برسوں بیت جانے کے باوجود لوگوں کے زہنوں میں غلامی کے آثار اب بھی موجود ہے. جوکہ لمحہ فکریہ ہے. بہر حال میں اپی موضوع کی طرف آتا ہوں. آج سے کئ سال پہلے کی بات ھے سرمو نامی بستی میں ایک باپ بیٹا ریتا تھا جو کہ (مون) شیلنگبو کے نام سے پورے علاقے میں جانے جاتے تھے.

مون بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی موسیقار اور شیلنگبو یعنی سوکھا لکڑی ہےان کو انہی نام سے پکارتے تھے. مون شلنگبو بہت محنتی تھا وہ ہر وقت اپنے کام میں مگن رہتا تھا. فارغ اوقات میں دونوں باپ بیٹا سرمو رگیالمو کھر کے سامنے موجود پہاڑی کے خوبصورت ٹھیلے پر بیٹھ کر خوبصورت آواز میں گنگناتے اور شہنائی بجاتے جسے سُنّے گاوں کے ہر بڑے چھوٹے آتے تھےاور خوب لطف اندوز ہوتے تھے. مون شلیبگبو بلتی گیت گانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا. مون شلیبگبو کی سر سنگیت پورے بلتستان میں مشہور ہو گیا تھا. ادھر خپلو میں یبگو راج اپنے عروج پر تھے اتفاقاََ اُسی وقت خپلو راجا کے موسیقار (مون) کا انتقال ھوا تھا اسلئے خپلو راجا کو موسیقار کی اشد ضرورت تھی راجا نے اپنے وزیر اور خدمتگاروں سےمنادی کی، کہ مجھے ایک اچھا دھن اور ساز بجانے والا چاہئے. بادشاہ سلامت کی حکم بجا لاتے ہوئے وزیروں نے ہر علاقے کےموسیقار کو طلب کیا مگر بادشاہ سلامت اُن سے لطف اندوز نہ ہوئے. سارے وزیر پریشان تھے. پریشانی کی عالم میں وزیروں کو (شمدُن شغرن) جو کی ایک گراونڈ تھا، کے بارے میں اطلاع ملی جہاں ایک تہوار ہوتا تھا. وہ تہوار سنوپو ہلتامو کے نام سے مشہور تھا اس تہوار میں لداخ بلتستان کے ہر راجا اور ان کے موسیقار شرکت کرتے تھے. جب تہوار شروع ھوا تو بلتستان کے تمام راجاؤں نے اپنے اپنے موسقار کے ساتھ دھن بجاتے ہوئے شمدو شغرن پہنچ گئے مگر راجاخپلو ابھی تک نہیں پہنچےجسے دیکھ کر سب پریشان ھو گئے. نہ جانے راجا خپلو کو کیا ھو گیا. تہوار انھی کے علاقے میں اور خود غیر حاضر! ہر کوئی طرح طرح کی باتیں کرنے لگے خپلو کی عوام گراونڈ کے چاروں طرف سے اپنے راجا کا نام لے کر پکار رہا تھا. یہ سارا ماجرا مون شلینگبو دیکھ رہا تھا پھر اس نے اچانک خپلو راجا کے نام اپنے شہانئ میں ایک ایسا دھن گایا جسے سنتے ھی لوک جوم اٹھے کوئی ڈانس کرنے لگا مون شلینگبو کی شہنائی سنتے ہی راجا خپلو گراونڈ کے ایک طرفسے نمودار ھو گیا پورا گراونڈ راجا خپلو کے استقبال میں کھڑے ہو گئے. پھر راجا خپلو سیدھا مون شلینگبو کے پاس آیااور کہا میں ایک سال سے ایک موسقار ڈھونڈ رہا تھا اچھا ھوا آج مجھے مل گیا آج سے تم میرے ساتھ رہے گا اس طرح راجا خپلو کو موسقار شہنائی بجانے والا مل گیا راجا خپلو نے مون شلینگبو کو خپلو بلایا ہنجور بروق جو کہ ایک مخصوص کاشت کاری کی جگہ ہے وہاں زمین دیا اور کہا باپ بیٹا دونوں یہاں کاشت کاری شروع کرو اور آباد ہو جاو. اور ساتھ ساتھ اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ جتنا جائداد بنائے گا سب تمہاری ہوگی. راجا کی باتیں سن کر مون شلینگبو بہت خوش ہوئے اور بہت محنت کرنا شروع کیا سارے بنجر زمینیں آباد کر کے اناج اُگانا شروع کیا، اِس طرح پورے علاقے میں دونوں باپ بیٹا بہت امیر بن گئے. ان کی جائداد اور زمیں دیکھ کر دلوں میں حسد شروع ہو گئے اور لوگوں کو یہ خطرہ محسوس ہواکہ یہ باپ بیٹا یہاں رہے تو ایک دن ہمارے جائداد پر قبضہ کرے گا اسلئے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم سب جا کر بادشاہ سلامت کے سامنےان باپ بیٹوں کے خلاف بولے گا اور ان کو علاقے بدر کرنے کو کہے گا. اِسی فیصلے کو لے کر وہ لوگ راجا کے پاس پہنچے اور اُن باپ بیٹوں کے خلاف بھڑکانے لگا. راجا ان کے باتوں میں آکر باپ بیٹوں کو بلایا اور ان دونوں کو واپس جانے کو کہا. بادشاہ سلامت کی حکم سُن کر دونوں باپ بیٹا غم سے نڈال ہو گیا اور خوب رونے لگے.

(جاری ھے)

تحریر: زاھد ستروغی یتو

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc