قوم پرست رہنماء صفدر علی، شہید وطن کیسے۔۔؟

تم ایسے تمغے کیوں لیتے ہو جو تھوکے جانے کے قابل ہو ” صفدر علی شہید کا یہ تاریخی جملہ گلگت بلتستان کی نو آبادیاتی نظام کی جبر کو بے نقاب کرتا رہے گا۔ سٹی تھانہ گلگت میں حق پرست رہنماء صفدر علی کو ایک بار پھر گرفتار کر کے لایا گیا تھا، اس بار انہیں قوم پرست رہنما ء سید حیدر شاہ رضوی شہید کی روپوشی کے سلسلے میں پوچھ کچھ کے بہانے اذیت دینے کے لئے لایا گیا تھا۔” ہم حکومت سے تمغے لیتے ہیں اور تم لوگ اس پر تھوکتے ہو”۔پولیس آفیسر نے انتہائی سخت لہجے میں صفدر علی پر چلاتے ہوئے کہا۔ پولیس کی قیدتنہائی میں محبوس صفدر علی نے برجستہ جواب دیا کہ” تم لوگ ایسے تمغے کیوں لیتے ہو جو تھوکے جانے کے قابل ہو ” پولیس آفیسر لال پیلا ہو گیا۔ وہ صفدر علی کی ہمت و بہادری کو ایک جواب پر ہی بھانپ چکا تھا ور اب اس نے صفدر علی کی جسمانی قوت کو آزمانے کے لئے تشدد کا حربہ استعمال کیا۔بتاؤ سید حیدر شاہ رضوی کو کہاں چھپا کر رکھا ہے؟ سید حیدر شاہ رضوی کو ہمارے حوالے کر دو۔ اگر اسے ہمارے حوالے نہیں کیا گیا تو ہم تجھے ختم دیں گے۔ تھانے میں تشدد بڑھتا اور صفدر علی کا حوصلہ بھی بلند ہوتا جا رہا تھا، مجھے شاہ صاحب کا کوئی پتہ نہیں۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو بھی میں تمہیں نہیں بتاتا۔ صفدر علی تشدد کے سامنے ڈٹا رہا اور مقامی پولیس آفیسر کندھے پر ایک اور سٹارلگوانے کی لالچ میں انسانیت کی تذلیل کرتا جارہا تھا۔ صفدر علی اپنے اوپر کی جانی والی جسمانی تشدد کی اس کہانی کو دوستوں کے ساتھ بڑے فخر سے بیان کیا کرتے تھے اور یہ بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں عجیب سی کشش پیدا ہوتی تھی۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ صفدر علی کی پوری زندگی جرات و ہمت اور بہادری سے بھری پڑی ہے۔ انکا قومی حقوق کے لئے ایک رات کی قربانی، ان پر تشدد کرکے کندھے پر فیتہ لگوانے والے پولیس آفیسروں کی شاہانہ زندگی سے ہزار درجہ بہتر تھی۔
صفدر علی بالاورستان نیشنل فرنٹ کے صدر تھے، وہ صوم و صلات کے پابند قوم پرست و حق پرست رہنما تھے۔ سادگی اور عاجزی میں اپنی مثال آپ تھے، اخلاص کا پیکر، مہمان نواز،رکھ رکھاؤ کے مالک اور خود دار صفدر علی نے گلگت بلتستان کی عوامی حقوق اور آزادی کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ انہیں جب گھر بسانے کا کہا جاتا تھا تو مسکراہٹ کے ساتھ کہہ دیتے تھے “غلام باپ بننے سے بہتر ہے کہ غلام بیٹا ہی مروں “۔میں اپنی اولاد کو کیا دوں گا جبکہ میری زندگی میں غلامی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے میں قوم کے بچوں لئے کچھ کر گزرنا چاہتا ہوں لہذا انہوں نے اپنی زندگی قومی حقوق کے لئے جد و جہد میں گزاری۔ صفدر علی کوئی حادثاتی قوم پرست نہیں تھے بلکہ وہ اس وقت بھی قوم پرست تھا جب بالاورستان نام کی کسی تنظیم کا وجود گلگت بلتستان میں نہیں تھا، وہ طالب علم رہنماء کی حیثیت سے ضیائی مارشل لاء کیخلاف جدو جہد کرتے ہوئے ہری پور جیل میں پابند سلاسل رہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے با وجود سرکاری نوکری کو اپنی “پرواز میں کوتاہی” سمجھتے تھے اور سرکاری ملازمت کی پیشکش کو متعدد با رٹھکرا چکا تھا۔
انہوں نے روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کاروبار شروع کیا وہ ایک اچھے اور کامیاب کاروباری تھے، صفدر علی کا ہوٹل بلور لاج گلگت میں بہت مشہور تھا۔ وہ ہوٹل چلانے کے ساتھ ساتھ معدنیات کی کان کنی اور گاڑیوں کی لین دین کے کاروبار سے بھی منسلک تھا۔ بلور لاج ہوٹل گلگت بلتستان میں قوم پرستوں کا مرکز تھا، جہاں ہر قوم پرست کے لئے صفدر علی کا دسترخوان ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ غذر سے نواز خان ناجی آئے یا سکردو سے سید حیدرشاہ رضوی، یاسین سے عبدالحمید خان آئے یا ہنزہ سے بابا جان، صفدر علی کا بلو ر لاج ہر قوم پرست کا گلگت میں ٹھکانہ ہوا کرتا تھا اور صفدر علی میزانی کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے۔قوم پرستوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر کرایہ کا ہوٹل صفدر علی سے چھن گیا، لیکن انہوں نے اس شرط کو سختی سے مسترد کر دیاتھاکہ وہ بلور لاج میں قوم پرستوں کی اجتماعات سے باز رہے گا۔خیر منافع بخش کاروبار کو خیر باد کہہ کر صفدر علی نے بالاورستان نیشنل فرنٹ میں با قاعدہ عہدہ قبول کر لیا اور قومی جد و جہد سے مربوط ہوگئے۔
راقم سے بھی صفدر علی کی پہلی ملاقات اسی بلور لاج میں ہوئی جب راقم بلتستان سٹوڈینس فیڈریشن کا مرکزی صدر تھا۔ صفدر علی سے ایک بار ملا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ قومی حقوق کی جد وجہد میں جڑ گئے۔صفدر علی کی محبت خلوص اور اپنائیت کی وجہ سے جب بھی گلگت آتا صفدر علی کو کال کرنا اور اس سے ملنا واجبی تھا۔یہی وجہ تھی کہ جب راقم قومی حقوق کی جد وجہد میں گلگت میں گرفتار ہوا تو صفدر علی نے میری رہائی کے لئے دن رات ایک کر دیے۔ ہم نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جد و جہد کیں وہ گلگت اور دیگر اضلاع کے قوم پرستوں کے درمیان پل تھا۔ بلور لاج کے بعد صفدر علی نے کرنل حسن مارکیٹ میں قومی تربیت کا درسگاہ کھول دیا، گلگت بلتستان کی قومی حقوق کی جد و جہد کا مرکز اب کرنل حسن مارکیٹ بن چکا تھا۔۔ صفدر علی روزانہ اس مارکیٹ میں قوم پرستی کا مکتب کھولتا تھا اور شام کو نگرل گلگت اپنے آبائی گھر چلا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ قوم پرستوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکر اور تمام سیاسی،وفاقی اور مذہبی رہنماؤں کی لمبی لمبی نشستیں ہوتی تھیں ، ان نشستوں میں میزبانی کا شرف بھی ہمیشہ صفدر علی کو ہی حاصل رہا۔ دن بھرگلگت بلتستان کی نو آبادیاتی نظام پر تبصرے ہوتے تھے، نئی نئی حکمت عملیاں مرتب کئے جاتے تھے اور شام ہوتے ہی آزادی کی صج کی امید کے ساتھ نشستیں برخاست ہو جایا کرتی تھیں اور اگلی صبح حسب معمول پھر محفل جمتا تھا۔
صفدر علی اپنی قومی تنظیم اور نظریے کے ساتھ انتہائی مخلص تھے وہ گلگت بلتستان کو دنیا کی عظیم قوموں کی صفوں میں دیکھنے کا خواہشمند تھا، ان کی بین الاقوامی اور قومی سیاست پر بڑی گرفت تھی، وہ وفاقی پارٹیوں کے رہنماؤں اور صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ مکالمے اور بحث و تکرارمیں لگے رہتے تھے، گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں سے آنے والے قومی و سیاسی رہنماء بھی گلگت پہنچتے ہی صفدر علی کی تلاش میں کرنل حسن مارکیٹ پہنچ جاتے تھے۔جہاں صفدر علی کی چائے اور سیاست پر تبصرے سے فیضیاب ہوتے تھے۔ صفدر علی کو یقین تھا کہ گلگت بلتستان ایک آزاد ملک بنے گا، ان کا یہ بھی خیال تھا کہ گلگت بلتستان یہاں کے عوام کی جد و جہد سے نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی مفادات کے پیش نظر ہی آزاد ہوگا۔ جب ان سے پوچھتا کہ اگر ہماری حقوق سے آزادی نہیں ملنی تو یہ جد و جہد کیا معنٰی رکھتے ہیں۔ وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ فرماتے تھے کہ ہم عالمی طاقتوں کو اپنی وجود کا احسا س دلانے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں تاکہ وہ چیونٹی سمجھ کرہمیں مسل نہ دے۔ہماری پہچان اور وجود کو بھی تسلیم کرے۔ اگر ہم خاموش رہیں گے تو ہماری پہچان مٹ جائے گی۔
گلگت بلتستان کے عوامی مسائل پر صفدر علی ہمیشہ آواز اٹھاتے رہے، ٹیکس کا ایشو ہو یا شہر میں پانی بجلی کا، زمینوں پر قبضے کا معاملہ ہو یا بیروکریسی کی زیادتیوں کا صفدر علی نے ہمیشہ گھڑی باغ چوک پر صدائے احتجاج بلند کئے، وہ گندم سبسڈی کے خاتمے کے خلاف بنائی گئی قومی اتحاد عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رہنماء تھے، او ر اس تحریک کو منظم کرنے اور گندم سبسڈی تحریک کو منظقی انجام تک پہنچانے کا سہرا بھی صفدر علی کے سر جاتا ہے۔
صفدر علی ایک ایسابہادر اور حق پرست رہنماء تھے کہ وہ جب بھی کسی سرکاری ملازم نے سٹار لگوانا ہوتا گلگت نگرل سے صفدر علی کو گرفتار کیا جاتا تھا کیونکہ گلگت کا رہائشی ہونے کی وجہ سے اس کے گھر کا راستہ آسان تھا وہ نی چھپ جاتا تھا اور نہ ہی قبل از ضمانت کے لئے بھاگ دوڑ کرتا تھا ۔ 1985 ء کے بعد 1997ء میں بلیک جوبلی کے موقع پر بھی صفدر علی کو غداری کے مقدمات میں پابند سلاسل کر کے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔2000 ء میں سید حیدرشاہ رضوی کو بلور لاج میں کمرا دینے کے الزام میں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2015 ء میں اقوم متحدہ کے مبصر مشن کے دفتر کے سامنے گلگت بلتستان کے لئے سی پیک میں حصہ مانگنے کے جرم میں کئی مہینے سرکاری ٹارچر سیل میں کرنل (ر)نادر حسن اور دیگر حق پرستوں کے ساتھ قید رہا۔ صفدر علی کہتا تھا کہ یہ گرفتاری میری زندگی کی انتہائی پر تشدد گرفتاری تھی۔ اس گرفتاری کے دوران ان پر اتنی تشدد ہوئی تھی کہ ان کا موٹا تازہ بدن لاغر نظر آتا تھا، لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد صفدر علی کی قومی حقوق کی جدو جہد مزید تیز ہو گئی۔ 2018 ء میں حکومت پاکستان نے بالاورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے کر اس تنظیم کے خلاف کاروائی کی گئی۔ اس وقت صفدر علی تنظیم کے ترجمان تھے۔ بی این ایف حمید گروپ کے کافی کارکن گرفتار ہوئے کچھ روپوش ہو گئے اور کچھ کارکنوں نے وفاقی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کر کے اپنی جان چھڑائی لیکن صفدر علی نے نہ جھکے، نہ ڈرے اور نہ ہی بکے۔ اپنے اور اپنی تنظیم پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے رہے وہ بی این ایف حمید گروپ کا موقف عوام کے سامنے رکھنے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی وضاحت کے لئے گلگت پریس کلب پر محبوب علی ایڈووکیٹ کے ساتھ ایک پریس کانفرس کرنے جا رہے تھے کہ انہیں ایک بار پھر دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار کر کے بد نام زمانہ ٹارچر سیل سونی کوٹ گلگت منتقل کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پوری دنیا میں کسی کے خلاف پولیس مقدمہ بنانے کا مقصد اسے عدالتی کاروائی اور قید تنہائی سے گزار کر ایک کار آمد شہری بنانا ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان میں قوم پرستوں پر ایف آئی آر درج کرنے کا ہدف انہیں ذہنی و جسمانی اذیت دینا ہوتا ہے تاکہ ریاستی اداروں کا خوف انہیں عوامی حقوق کے لئے آواز اٹھانے سے باز رکھے لیکن آفرین کو شہید وطن صفدر علی پر انہوں نے قید و بند کی صحوبتوں کا ہمیشہ جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
صفدر علی سرکاری اداروں کی طرف سے کئے جانے والے مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت کی وجہ سے اندونی و بیرونی جسمانی بیماریوں کا شکا ر ہو چکا تھا، ستم با لائے ستم انہیں اپنے محلے کی سٹرک پر دو بار موٹر سائیکل سوار نے ٹکر ماری۔ صفدر علی مسلسل قید و بند اور ذہنی و جسمانی تشدد کی وجہ سے 8فروری 2020 ء کو شہادت کے درجے پر فائز ہو گئے۔ شہید وطن صفدر علی اپنی قومی آزادی کا خواب آنکھوں میں بسائے اور بدن پر تشدد کے زخموں کو لے کر سرکاری اذیت گاہ سے ابدی آرام گاہ کی طرف کوچ کر گئے۔ انہوں نے ترکے میں انسداد دہشت گردی عدالت ملنے والی پیشی کی پرچیاں، ہاتھوں میں زنجیر لگی تصاویر، اخباری بیانات، جھوٹے مقدمات کی فائلیں، بلور لاج کی یادیں کرنل حسن مارکیٹ کی ویرانی اور قومی نظریہ چھوڑا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ صفدر علی شہید کو اپنی جواز رحمت میں جگہ عطا فرمائیں اور انہیں اپنے ساتویں امام موسیٰ کاظم ؑ کے ساتھ محشور فرمائیں۔

تحریر: منظور پروانہ
چیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc